Latest Post
Loading...

Suhaili Ab Bata Tu Ne Kaha Tha Kuch Batao Gi,Sakhi Socha Hai Ab Ke Khuwaab Ka Chehra Banaon Gi

سہیلی، اب بتا تو نے کہا تھا کچھ بتاؤ گی
سکھی، سوچا ہے اب کے خواب کا چہرہ بناؤں گی
سہیلی، تیرے ساجن نے کسی سے ناطہ جوڑا تو ؟
سکھی، پروا نہیں کوئی ، نہیں خاطر میں لاؤں گی
سہیلی، جانتی ہے مرد تو بیدرد ہوتا ہے
سکھی، وہ ڈول جائے گا میں جب کاجل لگاؤں گی
سہیلی، اس کو بھاتی ہے صدا کلیاں چٹکنے کی
سکھی مبہووت ہو جائے گا میں، جب گنگناؤں گی
سہیلی، تیرے ساجن کو ہرن کی چال بھاتی ہے
سکھی، اِس چال سے ایمان اس کا ڈگمگاؤں گی
سہیلی، خواب وادی میں اسے بھیجے گی تو کیونکر؟
سکھی، میں ریشمی باتوں کا جب جاور جگاؤں گی
سہیلی، سب گِلے شکوے بھلا وہ کب بھلائے گا؟
سکھی، پلکوں کی جھالر کو میں جب یکدل اٹھاؤں گی
سہیلی، تیری باتوں میں نہیں آیا تو کیا ہو گا ؟
سکھی، ہونٹوں کی لالی سے میں اس کو آزماؤں گی
سہیلی، یہ بھی ممکن ہےکہ تجھ کو چھوڑ جائے وہ
سکھی، اِس زلف کی زنجیر سے میں باندھ لاؤں گی
سہیلی، گر یہ ساری کوششیں بیکار نکلیں تو؟
سکھی، اشکوں سے بھی تو کام کچھ نہ کچھ چلاؤں گی
سکھی، ہر بات ساجن کی تجھے معلوم ہے کیسے ؟
سہیلی، اب تو جانے دے، میں پھر آکر بتاؤں گی


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer