Latest Post
Loading...

Chaand Girhn

شاعرہ
ڈاکٹر نجمہ کھوسہ
بوک میں آنکھیں بند رکھتی ہوں
صفحہ 75 76

چاند گرہن

انتخاب اجڑا دل

ماں کہتی تھی
میری ننھی سی گڑیا
آج باہر نہ نکل
کیا تجھ کو معلوم نہیں؟
آج سورج گرہن ہے
روایت کہتی ہے
سورج گرہن ہو تو
دیکھنے سے آنکھیں بینائی کھو دیتی ہیں
چہرے مرجھا جاتے ہیں
ان پہ زردی چھا جاتی ہے
مہکتے تن و من کملا جاتے ہیں
پھول اوڑھ لیتے ہیں
زرد رتوں کا پیرہن
بہاریں خزاں میں ڈھل جاتی ہیں
یہاں تک کے سمندر کے بھنور
اور زمین کے مد و جزر بھی بدل جاتے ہیں
میری گڑیہ تو باہر نہ نکل
کہ تیری غزالی آنکھوں
اور رو پہلے چہرے کو
کہیں چاٹ نہ لے یے سورج گرہن
مگر آج ماں کو بتاۓ کون؟
اس کی گڑیہ کو
جسے زرد کر نہ سکا سورج گرہن
اسے ڈس گیا
محبت کا چاند گرہن


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer