Latest Post
Loading...

Sehra Na Meri Bunyaad Karo,Ay Ishq Humain Aazaad Karo

شاعر فرحت عباس شاہ
بوک اے عشق ہمیں آزاد کرو صفحہ 15 17

انتخاب اجڑا دل

صحرا نہ میری بنیاد کرو
اے عشق ہمیں آزاد کرو

مجھے رونق اچھی لگتی ہے
میری بستی مت برباد کرو

یے کس نے کہا ہے نگر نگر
اے دل والو فریاد کرو

میرا بھی کوئی لوٹاؤ مجھے
میرا بھی جہاں آباد کرو

کب تک رکھو گے قید آخر؟
اے عشق مجھے آزاد کرو

تمہیں کس نے کہا تھا اے دل والو؟
یوں رو رو کر فریاد کرو؟

میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں
مجھی جی بھر کے برباد کرو

میں مٹی کا مادھو مولا
کوئی درد میری بنیاد کرو

جسے عشق اجاڑ کے پھینک گیا
اس بستی کو آباد کرو

کب میں نے کہا تھا فرحت؟
ویرانی کا داماد کرو


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer