Latest Post
Loading...

Chhaai Hoi Hain Yaas Ki Gehri Khamoshiyaan Kab Tak Rahengi Nasab Ye Qabron Pe Takhtiyaan


چھائی ہوئی ہیں یاس کی گہری خموشیاں
کب تک رہیں گی نصب یہ قبروں پہ تختیاں

سوکھے ہوئے درخت پہ بارش کا تھا کرم
نشے سے بھر گئیں مرے گلشن کی ڈالیاں

حالات نے جو بیج مرے دل میں بوئے ہیں
پھوٹا کریں گی ان میں سے شبنم کی بالیاں

احساس تک نہیں تمہیں، جھونکا اداس سا
اک بار تم کو چھونے سے ہوتا ہے خوش گماں

ہم سب کو تشنگی نے کیا اس طرح نڈھال
یک لخت سب نے منہ سے لگائیں پیالیاں

پھر بانسری بجی ہے کہیں درد سے بھری
پھر رو پڑی ہیں، میرے خیالوں کی شوخیاں

کیا اب کوئی چراغ افق پر رہا نہیں
صدیوں سے آ رہی ہیں جو تاریک بدلیاں

خیمے اُکھیڑتے ہوئے سانسیں اُکھڑ گئیں
کب تک رہیں گی ساتھ یہ خانہ بدوشیاں

نیناں، وہ کس لگن سے تجھے کر رہا ہے یاد
تجھ کو جو آ رہی ہیں لگاتار ہچکیاں


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer