Latest Post
Loading...

Faiz Ahmad Faiz


#1
فیض احمد فیض لاہور جیل میں تھے پولیس والے ان کو عدالت لے کر جا رہے تھے کہ گاڑی خراب ہو گئی فیض احمد فیض کو ہتھکڑی لگا کر تانگے پر بٹھایا گیا جب ضلع کچہری کے قریب پہنچے تو بہت سے لوگ فیض صاحب کو دیکھنے کے لیے اکٹھے ہو گئے فیض احمد فیض جب واپس جیل پہنچے تو انہوں نے یہ نظم لکھی
 
آج بازار میں پابجولاں چلو
چشمِ نم ، جانِ شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پابجولاں چلو
دست افشاں چلو ، مست و رقصاں چلو
خاک بر سر چلو ، خوں بداماں چلو
راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو
حاکم شہر بھی ، مجمعِ عام بھی
تیرِ الزام بھی ، سنگِ دشنام بھی
صبحِ ناشاد بھی ، روزِ ناکام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے
شہرِ جاناں میں اب باصفا کون ہے
دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے
رختِ دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یار چلو
 (لاہور جیل 11 فروری 1959)
 
#2 
امریکی کمیونسٹ جوڑا "جولئیس اور ایتھل رورنبرگ" جنہیں 19 جُون 1953 کو جاسوسی اور امریکی ایٹمی راز روس کو دینے کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ فیض صاحب نے اپنی خوبصورت نظم "ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے" اس جوڑے کے لیے لکھی

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خُشک ٹہنی پے وارے گئے
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
سُولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے
تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی
تیری زلفوں کی مستی برستی رہی
تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی
جب گھُلی تیری راہوں میں شامِ ستم
ہم چلے آئے لائے جہان تک قدم
لب پہ حرفِ غزل دل میں قندیلِ غم
اپنا غم تھا گواہی تیرے حُسن کی
دیکھ قائم رہے اِس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی
تیری اُلفت تو اپنی ہی تدبیر تھی
کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے
ہِجر کی قتل گاہوں سے سب جا مِلے
قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے عَلم
اور نکلیں گے عُشّاق کے قافلے
جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کر چلے جِن کی خاطر جہاں گیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے ۔۔

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer