Latest Post
Loading...

Jab Aankhein Bhuj Kar Raakh Hoin


"جب آنکھیں بُجھ کر راکھ ھُوئیں"
جب آنکھیں بُجھ کر راکھ ھُوئیں
جب دِل کا جوالا سرد پڑا
جب شام و سَحر کے صحرا میں
خوابوں کے ستارے رَیت ھُوئے
جب عُمرِ رَواں کے میداں میں
سب زندہ جذبے کھیت ھُوئے
اُس وقت مُجھے محسوس ھُوا
جس عشق میں ساری عُمر کٹی، شاید وہ نظر کا دھوکا تھا
کِرنوں سے کِسی کے لہجے میں، تنویر تھی میری اپنی ھی
شب تاب بدن کے جادوُ میں، خوُد میرے لہوُ کا نشہ تھا
کل رات مگر جب کھڑکی پر
مہتاب نے آ کر دستک دی
خوُشبو کی طرح لہرانے لگی
ھر سمت کوئی سرگوشی سی
"جب آنکھیں بُجھنے لگتی ھوں، جب دِل کا جوالا سرد پڑے
اُس وقت کِسی کو کیا معلوم، کون اپنا کون پرایا تھا
لہجے میں نشہ تھا کِس کے سبب اور کِس نے کِسے مہکایا تھا

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer