Latest Post
Loading...

Jo Be-Rukhi Hai Baja Nahi Ye Adaein Kion? Ye Ghuroor Kia?


جو بے رخی ہے بجا نہیں،یہ ادائیں کیوں؟ یہ غرور کیا؟
یہ گریز کس لئے اسقدر؟ یہ خفا خفا سے حضور کیا؟
تجھے یاد کرنا مذاق تھا، تجھے بھول جانا عذاب ہے،
یہ سزا ہے جرمِِ فراق کی، میرے حافظے کا قصور کیا؟
تیرے ساتھ ہے جو تیری انا، میرے ساتھ میرا نصیب ہے،
مجھے تجھ سے کیسی شکایتیں؟ تجھے خود پہ اتنا غرور کیا؟
کوئی خواب تھا کہ سراب تھا، جو گزر گیا سو گزر گیا،
یہ بصیرتوں کا قصور کیوں؟ یہ بصارتوں کا فتور کیا؟
یہ تمہارا چہرە کتاب ہے، اسے پڑھ رہا ہوں ورق ورق،
ذرا بات سادە لکھا کرو، یہ محاوروں کی سطور کیا؟
دلِ خود پسند صدا نہ دے کہ یہ اک صداوٴں کا دشت ہے،
کہیں کھو گئے ہیں جو بھیڑ میں، ہمیں ڈھُونڈنا ہے ضرور کیا؟
سبھی پھول تیرے نصیب میں، سبھی خار میرے حساب میں،
یہ جزا سزا کا طلسم ہے، میرا تیرا اس میں قصور کیا؟

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer