Latest Post
Loading...

Sab Kuch Mujhe Ay Jaan-e-Wafa Yaad Hai Ab Tak


یاد ہے اب تک

شاعر جان نثار اختر
بک نذر ۓ بتاں ماخوذ کلیات جان نثار اختر صفحہ 40 42

انتخاب اجڑا دل

سب کچھ مجھے اے جان ۓ وفا یاد ہے اب تک
کیا کیا میں بتاؤں مجھے کیا یاد ہے اب تک
اڑتی ہوئی وہ غازہ ۓ رخسار کی خوشبو
ہاتھوں کے تیرے بوۓ حنا یاد ہے اب تک
بکھرے ہوۓ بپھرے ہوۓ مچلے ہوۓ گیسو
وہ تابہ کمر زلف رسا یاد ہے اب تک
وہ تیری نگاہوں میں محبت کا بلاوا
پلکوں کے جھپکنے کی ادا یاد ہے اب تک
قبضے میں فضائیں تھی تو مٹھی میں ہوائیں
تھے زیر ۓ نگیں ارض و سما یاد ہے اب تک

سب کچھ مجھے اے جان ۓ وفا یاد ہے اب تک

وہ تجھ سے ملاقات کی پہلی شب ۓ رنگیں

گھلتی ہوئی آنکھوں میں حیا یاد ہے اب تک

وہ عشق و جوانی کے بہکتے ہوۓ لمحے

ہر لغزش ۓ بیجا تھی بجا یاد ہے اب تک

وہ رات وہ بدلی سے نکلتا ہوا مہتاب

کٹتی ہوئی زلفوں سے گھٹا یاد ہے اب تک

وہ معبد زہرہ کے دمکتے ہوۓ فانوس

مہتاب میں سینہ کی ضیا یاد ہے اب تک

میں اور وہ شغل مے و مینا و صراحی

تو اور وہ ساقی کی ادا یاد ہے اب تک

پہلو میں میرے وہ تیرے نغموں کی بلندی

چھوتی ہوئی تاروں کی صدا یاد ہے اب تک

اقرار نگاہوں سے کیا تونے وفا کا

جو کچھ میری کانوں نے سنا یاد ہے اب تک

وہ میرے لیۓ حوصلا شوق و تمنا

وہ شدت ۓ ارمان ۓ وفا یاد ہے اب تک

میں اور جوانی کے تقاضوں کی کہانی

تو اور جوانی سے خفا یاد ہے اب تک

شوخی سے میرے ہاتھ وہ زلفوں میں جکڑنا

وہ جرم ۓ محبت کی سزا یاد ہے اب تک

میں چاند تو دیکھوں میں کوئی پھول تو چوموں

کیا قہر تھا وہ رشک تیرا یاد ہے اب تک

جس کا میرے ہونٹوں پہ کوئی نام نہیں ہے

اک ایسی بھی کم بخت ادا یاد ہے اب تک


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer