Latest Post
Loading...

Umar Jalwoun Mein Basar Ho Ye Zarori To Nahi Har Shab-e-Gham Ki Sahar Ho Zarori To Nahi


عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں

ہر شبِ غم کی سحر ہو ضروری تو نہیں

چشمِ ساقی سے پیو یا لبِ ساغر سے پیو

بے خودی آٹھوں پہر ہو یہ ضروری تو نہیں

نیند تو درد کے بستر پہ بھی آ سکتی ہے

اُن کی آغوش میں سر ہو یہ ضروری تو نہیں

شیخ کرتا تو ہے مسجد میں خدا کو سجدے

اُس کے سجدوں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں

سب کی نظروں میں ہو ساقی یہ ضروری ہے مگر

سب پہ ساقی کی نظر ہو یہ ضروری تو نہیں

کلام خاموش دہلوی

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer