Latest Post
Loading...

Yakmusht De Diye Anbaar Deed Ke Ik Noumar Ne Kal Mujhe Khareed Ke



یکمشت دے دیے !
انبار دید کے
اک نو عمر نے کل
مجھے خرید کے
ھم نے اس کے سنگ
منائی چاند رات
اعلان پر اعلان !
ہوئے تھے عید کے
نظر کی سہل نے
کھلائے سرخ پھول
یوں دستخط ملے !
مجھے رسید کے
کشش بکھیرتیں !
وہ سلجھی سلوٹیں
وہ انتظام تھے،
صواب دید کے
لبوں نے موجزے !
عجیب تر کیے
تپش میں گال سے
شہد کشید کے
گرویدگی کا خبط !
برابری پہ تھا
اصول عجیب تھے
دور_جدید کے
بیعت کے بغیر !
چھوڑتے نہ تھے
جزبات سب کے سب
پسر یزید کے
وصل کی رات میں
قریب تر رہے
اقرار کے گگن،
تارے پدید کے
سینے سے اٹھی !
سسکیوں کے نام
دھمال چوکڑی !
نعرے ناہید کے
حسن کے آداب !
آنکھ میں مگن
عشق کے چلن،
چلن مرید کے
رزب وہ میرا خواب
حسین حادثہ !
بدن کی ریاست
طبل نوید کے
رزب تبریز

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer