Latest Post
Loading...

Apni Khud-Dari To Paamaal Nahi Kar Saktay,Us Ka Number Hai Magar Call Nahi Kar Saktay


نام:نادر عریض
تاریخ پیدائش: 10 اگست 1990
شہر: لال سوھانرا 
موجودہ شہر: بہاولپور
شاعری کا باقاعدہ آغاز2014 سے کیا۔
 
اپنی خود داری تو پامال نہیں کر سکتے
اس کا نمبر ھے۔ مگر کال نہیں کر سکتے

دل میں آتا ھے کہ بس اس سے محبت کی جائے
کام اتنے ھیں کہ فی الحال نہیں کر سکتے

رہ بھی سکتا ھے ترا نام کہیں لکھا ھوا
سارے جنگل کی تو پڑتال نہیں کر سکتے

دے نہ دے کام کی اجرت یہ ھے مرضی اس کی
پیشہ ءِ عشق میں ھڑتال نہیں کر سکتے

دشت آئے جسے وحشت کی طلب ھو نادر
یہ غذا شہر ھم ارسال نہیں کر سکتے 

*************

یہ مشکل دل پہ طاری کی گئی ھے
محبت اختیاری کی گئی ھے

بہت سا فالتو سامان رکھ کر 
وہ گٹھڑی اور بھاری کی گئی ھے

یہ لوگ اتنے خفا کیوں ھو رھے ھیں
اگر رائے شماری کی گئی ھے

کسی مقصد کے تحت اس حادثے کی 
غلط تفصیل جاری کی گئی ھے

سبھی ٹکڑے برابر لگ رھے ھیں
غضب پیوند کاری کی گئی ھے

ھم آخر تک نہ سمجھے چال نادر
کچھ ایسی ھوشیاری کی گئی ھے

*************

ھدف پہ اتنے سلیقے سے وار کرتے ھیں
ھم ایک تیر سے دو دو شکار کرتے ھیں

ھماری بھول پہ محشر بپا کریں یہ لوگ
اور اپنے جرم کو لغزش شمار کرتے ھیں

قدم قدم پہ انا سے نمٹنا پڑتا ھے
ھم اپنے آپ کو مشکل سے پار کرتے ھیں

گھنے درختوں کا میں احترام کرتا ھوں
کہ یہ ھماری فضا سازگار کرتے ھیں

اک اور رسم روایت کا حصہ بنتی ھے
ھم اک خطا کو اگر بار بار کرتے ھیں

میں چھت پہ رزق کا سامان رکھ کے آیا بس
کہ کچھ پرندے مرا انتظار کرتے ھیں

تمھارے دعووں پہ نادر خوشی ھوئی۔ لیکن
ھم آزماتے ھیں۔ پھر اعتبار کرتے ھیں

*************

مجھے خود سے بڑی بے اعتنائی ھو رھی تھی
محبت سے یہ پہلی آشنائی ھو رھی تھی

ضرور اس پانی کو ٹھہرے کئی دن ھو گئے تھے
کہ اس تالاب میں ھر سمت کائی ھو رھی تھی

ترے آثار نکلے اس کھنڈر کی ھر طرف سے
مرے مسمار دل کی جب کھدائی ھو رھی تھی

ھمیں رستہ دکھایا جا رھا تھا خامشی کا
ھمارے حق میں فرضی کاروائی ھو رھی تھی

میں اس دریا کی گہرائی سے واقف ھو گیا تھا
مری اب خاص موتی تک رسائی ھو رھی تھی

پرندہ سر پہ منڈلاتا اور اڑ جاتا تھا اک سمت
یہ ھم بھٹکے ھوؤں کی رہنمائی ھو رھی تھی

*************

ھم شجر رنج سے شاخوں کی طرف دیکھتے ھیں
جب جدا ھوتے پرندوں کی طرف دیکھتے ھیں

اتنا پیارا ھے وہ چہرہ کہ نظر پڑتے ھی
لوگ ھاتھوں کی لکیروں کی طرف دیکھتے ھیں

جسم کمرے میں دماغ اور کہیں ھوتا ھے
سو لگاتار دریچوں کی طرف دیکھتے ھیں

جن کو آسانی سے دیدار میسر ھے ترا
وہ کہاں باغ میں پھولوں کی طرف دیکھتے ھیں

شاید اس بھیڑ میں واقف نکل آئے کوئی
ھم کھڑے لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھتے ھیں

پہلا موقع ھے محبت کی طرفداری کا
کبھی اسکو کبھی لوگوں کی طرف دیکھتے ھیں
  
*************

نادر عریض
 

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer