Latest Post
Loading...

Main Muhabbat K Sitaron Se Nikalta Howa Noor

"گواہی "

میں محبت کے ستاروں سے نکلتا ہوا نور
حق و ناحق کے لبادوں میں چُھپا ایک شعور
میرے ہی دم سے ہوا مسجد و مندر کا ظہور
میں مسلمان و برہمن کے ارادوں کا فتور
میں حیا زادی و خوش نین کے ہونٹوں کا سرور
کسی مجبور طوائف کی نگاہوں کا قصور
میری خواہش تھی کہ میں خود ہی زمیں پر جائوں
اور زمیں زاد کا خود جا کے میں انجام کروں
وہ زمیں زاد کہ احسان فراموش ہے جو
وہ زمیں زاد ، زنا زاد ، انا زاد ہے جو
وہ زمیں زاد کہ جو خود ہی زمیں پر اترا
اور زمیں وہ جو وفا دار نہیں ہو سکتی
وہ زمیں جس پہ کئی خون کے الزام لگے
وہ زمیں جس نے یہاں دیکھے ہیں کٹتے ہوئے سر
وہ زمیں دیتی رہی ہے جو گناہوں کو پناہ
وہ زمیں جس نے چھپائے ہیں کئی راز و نیاز
سازشیں ہوتی رہیں جس پہ محبت کے خلاف
اور وہ چُپ ہے اگلتی ہی نہیں ایک بھی لفظ
مسئلہ یہ ہے کہ اب کس سے گواہی مانگوں
 ڈاکٹر وقار خان

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer