Latest Post
Loading...

Dunya K Mehfilon Se Ukta Gaya Hon Ya RAB,Kia Lutf Anjuman Ka Jb Dil Hi Bujh Gaya Ho (Allama Muhammad Iqbal)



ایک آرزو
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال
انتخاب
عروسہ ایمان‬
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میری
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھوپڑا ہو
آزاد فکر سے ہوں عزت سے دن گذاروں
دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو
لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچوں میں
چشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو
گل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا
ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو
ہو ہاتھ کا سرہانہ سبزے کا بچھونا
شرماۓ جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہو
مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبل
ننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو
صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں
ندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو
ہو دل فریب ایسا کہسار کا نظارہ
پانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہو
آغوش میں زمیں کی سویا ہوا سبزہ
پھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہو
پانی کو چھو رہے ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی
جیسے حسیں کوئی آئینہ دیکھتا ہو
مہندی لگاۓ سورج جب شام کی دلہن کو
سرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہو
راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم
امید ان کی میرا ٹوٹا دیا ہو
بجلی چمک کے ان کو کٹیا میری دکھاوے
جب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو
پچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذن
میں اس کا ہمنوا ہوں وہ میری ہمنوا ہو
کانوں پہ ہو نہ میری دیر و حرم کا احساں
روزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہو
پھولوں کو آۓ جس دم شبنم وضو کرانے
رونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہو
اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو
ہر درد مند دل کو رونا مرا رلا دے
بے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگادے.......................*

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer