Latest Post
Loading...

Har Shakhs Ko Rodaad Sunane Se Raha Main,Zindaan Ki Tuoqeer Barhane Se Raha Main


ہر شخص کو روداد سنانے سے رہا میں 
زندان کی توقیر بڑھانے سے رہا میں 

چہرے سے جسے درد پرکھنا ہے پرکھ لے 
پوشاک پہ تو زخم سجانے سے رہا میں 

لے آؤں گا میں کھینچ کہ اس دشت میں دریا 
دریا میں مگر دشت کو لانے سے رہا میں 

کہنے پہ تیرے آ تو گیا ہوں میں یہاں دل 
کہنے پہ تیرے لوٹ کے جانے سے رہا میں 

یہ مہر و محبت مجھے ورثے میں ملے ہیں
اجداد کی جاگیر لٹانے سے رہا میں 

صدیوں سے میرا ضبط کا عالم نہیں چھوٹا 
سو اشک ندامت کے بہانے سے رہا میں 

مرجان کسی اور مسافت پہ مجھے بھیج 
خوشبو کے تعاقب میں تو جانے سے رہا میں

مرجان سرمست

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer