Latest Post
Loading...

Hijar Mein Dard Ka Sooraj Pighalnay Wala Hai Arooq-E-Jaan Mein Laawa Ubalnay Wala Hai



 ہجر میں درد کا سورج پگھلنے والا ہے
عروقِ جان میں لاوا اُبلنے والا ہے

حصارِ دل کو ذرا اور پختگی دے دوں
تمھاری یاد کا لشکر نکلنے والا ہے

مرے زوال پہ ایسے نہ مسکرا کہ یہاں
ترے عروج کا سورج بھی ڈھلنے والاہے

بچا سکو تو بچا لو کہ قلبِ افسردہ
ترے فراق کی آتش میں جلنے والا ہے

خدا کی دین وہ آنکھیں دکھا رہا ہے مجھے
جو میرے جسم کے ٹکڑوں پہ پلنے والا ہے

نہ چھوڑ حوصلہ غم میں کہ جلد ہی عاصم
یہ وقت تجھ پہ جو آیا ہے ٹلنے والا ہے

عاصم حجازی

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer