Latest Post
Loading...

Jawan Raat K Seene Pe Dhodhya Aanchal,Machal Raha Hai Kisi Khuwaab-e-Mar Maren Ki Tarha

پرچھائیاں

شاعر ساحر لدھیانوی

انتخاب
ایاز خان
عمر راہی‬
‫‏عروسہ ایمان‬ 

جوان رات کے سینے پہ دودھیا آنچل

مچل رہا ہے کسی خوابء مرمریں کی طرح

حسین پھول پتیاں حسیں شاخیں

لچک رہے ہیں کسی نازنیں کی طرح

فضا میں گھل سے گۓ ہیں افق کے نرم خطوط

زمیں حسین ہے خوابوں کی سر زمیں کی طرح

تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں

کبھی گمان کی صورت کبھی یقیں کی طرح

وہ پیڑ جن کے تلے ہم پناہ لیتے تھے

کھڑے ہیں آج بھی ساکت کسی امیں کی طرح

انہیں کے ساۓ میں پھر آج دو دھڑکتے دل

خموش ہونٹوں سے کچھ کہنے سننے آۓ ہیں

نہ جانے کتنی کشاکش سے کتنی کاوش سے

یہ سوتے جاگتے لمحے چرا کے لاۓ ہیں

یہی فضا تھی یہی رت یہی زمانہ تھا

یہیں سے ہم نے محبت کی ابتدا کی تھی

دھڑکتے دل سے لرزتی نگاہوں سے

حضورء غیب سے ننہی سی التجا کی تھی

کہ آرزو کے کنول کھل کے پھول ہو جائیں

دل و نظر کی دعائیں قبول ہو جائیں

تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں

تم آ رہی ہو زمانے کی آنکھ سے بچ کر

نظر جھکاۓ ہوۓ بدن چراۓ ہوۓ

خود اپنے قدموں کی آہٹ سے جھینپتی ڈرتی

خود اپنے ساۓ کی جنبش سے خوف کھاۓ ہوۓ

تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں

رواں ہے چھوٹی سی کشتی ہواؤں کے رخ پر

ندی کے ساز پہ ملاح گیت گاتا ہے

تمہارا جسم ہر اک لہر کے جھکولے سے

مری کھلی ہوئی بانہوں میں جھول جاتا ہے

تصورات کی پرچھائیاں ابھرتیں ہیں

میں پھول ٹانک رہا ہوں تمہارے جوڑے میں

تمہاری آنکھ مسرت سے جھکتی جاتی ہے

نہ جانے آج میں کیا بات کہنے والا ہوں

زبان خشک ہے آواز رکتی جاتی ہے

تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں

مرے گلے میں گداز بانہیں ہیں

تمہارے ہونٹوں پہ میرے لبوں کے ساۓ ہیں

مجھے یقیں ہے کہ ہم اب کبھی نہ بچھڑیں گے

تمہیں گمان کہ ہم مل کہ بھی پراۓ ہیں

تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں

مرے پلنگ پہ بکھری ہوئی کتابوں کو

اداۓ عجزو کرم سے اٹھا رہی ہو تم

سہاگ رات جو ڈھولک پہ گاۓ جاتے ہیں

دبے سروں میں وہی گیت گا رہی ہو تم

تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں

وہ لمحے کتنے دلکش تھے وہ گھڑیاں کتنی پیاری تھیں

وہ سہرے کتنے نازک تھے وہ لڑیاں کتنی پیاری تھیں

بستی کی ہر اک شاداب گلی خوابوں کا جزیرہ تھی گویا

ہر موجء نفس ہر موجء صبا کا ذخیرہ تھی گویا

ناگاہ لہکتے کھیتوں سے ٹاپوں کی صدا آنے لگیں

بارود کی بوجھل بو لےکر پچھم سے ہوائیں آنے لگیں

تعمیر کے روشن چہرے پر تخریب کا بادل پھیل گیا

ہر گاؤں میں وحشت ناچ اٹھی ہر جنگل پھیل گیا

مغرب کے مہذب ملکوں سے کچھ خاکی وردی پوش آۓ

اٹھلاتے ہوۓ مغرور آۓ لہراتے ہوۓ مدہوش آۓ

خاموش زمیں کے سینے میں خیموں کی طنابیں گڑنے لگیں

مکھن سی ملائم راہوں پر بوٹوں کی خراشیں پڑنے لگیں

فوجوں کے بھیانک بینڈ تلے چرخوں کی صدائیں ڈوب گئیں

جیپوں کی سلگتی دھول تلے پھولوں کی قبائیں ڈوب گئیں

انسان کی قیمت گرنی لگی اجناس کے بھاؤ چڑہنے لگے

چوپال کے رونق گھٹنے لگی بھرتی کے دفاتر بڑھنے لگے

بستی کے سجیلے شوخ جواں بن بن کے سپاہی جانے لگے

جن راہ سے کم ہی لوٹ سکے اس راہ پہ راہی جانے لگے

ان جانے والے دستوں میں غیرت بھی گئی برنائی بھی

ماؤں کے جواں بیٹے بھی گۓ بہنوں کے چہیتے بھائی بھی

بستی پہ اداسی چھانے لگی میلوں کی بہاریں ختم ہوئیں

آموں کی لچکتی شاخوں سے جھولوں کی قطاریں ختم ہوئیں

دھول اڑنے لگی بازاروں میں بھوک اگنے لگی کھلیانوں میں

ہر چیز دکانوں سے اٹھ کر روپوش ہوئی تہہ خانوں میں

بدحال گھروں کی بدحالی بڑھتے بڑھتے جنجال بنی

مہنگائی بڑھ کر کال بنی ساری بستی کنگال بنی

چرواہیاں رستہ بھول گئیں پنہاریاں پنگھٹ چھوڑ گئیں

کتنی ہی کنواری ابلائیں ماں باپ کی چوکھٹ چھوڑ گئیں

افلاس زدہ دہقانوں کے ہل بیل بکے کھلیان بکے

جینے کے تمنا کے ہاتھوں جینے کے سب سامان بکے

کچھ بھے نہ رہا جب بکنے کو جسموں کی تجارت ہونے لگی

خلوت میں بھی جو ممنوع تھی وہ جلوت میں جسارت ہونے لگی

تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں

تم آ رہی ہو سرء شام بال بکھراۓ ہوۓ

ہزار گونہ ملامت کا بار اٹھاۓ ہوۓ

ہوس پرست نگاہوں کی چیرہ دستی سے

بدن کی جھینپتی عریانیاں چھپاۓ ہوۓ

تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer