Latest Post
Loading...

Jo Dard Tu Ne Diya Har Khushi Se Barrh Kar Hai


جو درد تو نے دیا ہر خوشی سے بڑھ کر ہے
تری عطا تو مری تشنگی سے بڑھ کر ہے

ترے فراق کا دکھ کیا ہے اس کی شدت کیا
بس ایک کرب ہے جو خود کشی سے بڑھ کر ہے

وہ بات کیسے چھپائیں جو چھپ نہیں سکتی
بتائیں کیسے جو شرمندگی سے بڑھ کر ہے

تُو مہر و ماہ کا قائل ہے میں ترا قائل
کہ تیرا نور ہر اک روشنی سے بڑھ کر ہے

کمی تو کچھ بھی نہیں پھر بھی سوچتا ہوں میں
تری کمی مجھے ہر اک کمی سے بڑھ کر ہے

میں اس کے سامنے ہتھیار ڈال سکتا ہوں
یہ دشمنی ہے تو پھر دوستی سے بڑھ کر ہے

فنا کے بعد بھی ان سے ملیں گے ہم سلمان
کہ ان سے پیار ہمیں زندگی سے بڑھ کر ہے

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer