Latest Post
Loading...

Kaash Hum Khushbo K Deewanon Ko Bhi Milte Gulaab,Aap K Honton Pe Khilte Aur Hum Chunte Gulaab


کاش ہم خوشبو کے دیوانوں کو بھی ملتے گلاب
آپ کے ہونٹوں پہ کھلتے اور ہم چنتے گلاب

پہلے بھی خوشبو تھی ان میں ہاں مگر اتنی نہیں
آپ کے ہاتھوں کو چھو کر اور بھی مہکے گلاب

آپ کو سوچا ہوئے ہم حسن گل سے آشنا 
کیا غزل کا در کھلا یک دم کھلے اتنے گلاب

آپ تھوڑا رک سکیں گر وقت تو ٹھہرا نہیں
کب کِھلیں گے اِس صدی میں جانیے پھر سے گلاب 

ہم فلک پہ جا کے دیکھیں گے کبھی اک روز تو
کس طرح چمکے ستارہ، کس طرح مہکے گلاب

کس نگر سے ہو کے آئے ، کس کے دست ِ ناز نے 
نقرئ لیروں کے آنچل پر حسیں ٹانکے گلاب

انیتا یعقوب


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer