Latest Post
Loading...

Khumaar Luot Raha Hai Shikaar Aankhon Mein

 
نام:غزالہ
قلمی نام: حیاء غزل
تاریخِ پیدایش:25 فروری
جائے پیدائش:سکھر
شہر کانام:کراچی
شعری سفر:باقاعدہ 2012 سے
================= 
 
خمار  لوٹ  رہا  ہے  شکار  آنکھوں  میں
میں دےچکی ہوں اسےاختیارآنکھوں میں

یہ آگہی  بھی  عجب کرب  لے  کے آ ئ  ہے
میں پڑھ چکی سبھی قول و قرار آنکھوں میں

وہ ایک سچ ہے کہانی کا جو نہیں لکھنا
وہ  ایک راز  مری  راز دار  آنکھوں میں

ٹھہر نہ جائے کہیں موسم خزاں ان میں
تلاشتی ہوں وہی پھر  بہار آنکھوں میں

میں اپنی ذات کے زنداں میں قید ہوں پھربھی
فرار ڈھونڈ رہی پر غبار آنکھوں میں

بٹھائے رکھتی ہوں پلکوں کی چھاؤں میں اسکو
 مرا حبیب ، مری سایہ دار آنکھوں میں

چھپے گا کیسے زمانے کی تیز نظروں سے
جو ایک سچ ہے غزل سوگوار آنکھوں میں

==========================

مخملی ذات پہ ہیں گوٹا کناری باتیں
تو بھی پیارا ہے مگر تجھ سے بھی پیاری باتیں

عشق رہتا ہے زماں اور مکاں سے آگے
 دن نہیں یاد مگر یاد ہیں ساری باتیں

وہ میرےپاس تھا پربھیڑ بھی تھی لوگوں کی
ہونٹ خاموش رہے آنکھ سے جاری باتیں

دو دلوں بیچ یہ ویرانہ کہاں سے آیا
ایک سناٹا ہے سناٹے پہ طاری باتیں

ہم ترا ذکر ہر اک بات میں لے آتے ہیں
کون کرتا ہے بھلا اتنی تمہاری باتیں

میں نے غزلوں میں سمویا ہے تخیل تیرا
میں نے شعروں میں پرو کر ہیں سنواری باتیں

عشق میں یار کو رسوا تو نہیں کر تے ہیں 
کیسے کر لیتے ہو لوگوں سے ہماری باتیں

کھانا  ٹیبل پہ پڑ ا ٹھنڈ ا ہوا جاتا ہے
اف وہ لذت سے بھری تیری کراری باتیں

====================

کیا ضرورت ہے ہیلو  ہا ئے کی
میں نہیں ہوں تمہارے پائے کی

دھوپ کا لطف لینے والی ہوں
مجھکو خواہش نہیں ہے سائے کی

غا ئبا نہ  شریک  کر کے تمہیں
ایک چسکی بھری ہے چائے کی

اک محبت نہیں  و گرنہ  تو
گھر میں ہر چیز ہے کرائے کی

مشورہ مفت جو  د یا ہے   اسے
کوئ وقعت نہیں ہے را ئے کی

مستقل کس کا  ہے قیام یہاں
دنیا بھی ہے جگہ  سرائے کی

===============

کبھی زمیں کی طرح ہے کبھی زماں کی طرح
یہ ایک عشق مجھے بحر بے کراں کی طرح

مجھے یہ دھوپ زمانے کی کیا جلائے گی
وہ میری ذات پہ رہتا ہے سائباں کی طرح

مرا علاج مرا چارہ گر نہیں کرتا
اور عشق بڑھتا رہا مرض ناگہاں کی طرح

تمہارے قرب کی گھڑیاں ہی کل حیات مجھے
ترے بغیر مجھے سود بھی زیاں کی طرح

ہمارے بعد سنائیں گے لوگ لوگوں کو
کہانی اپنی کسی فوک داستاں کی طرح

وہ بلبلے کی طرح میری زندگی میں رہا
چھوا جو ہوگیا غائب مرے گماں کی طرح

======================

نئے خیال کے لفظوں کی شاعری بنکر
میں اسکے ہاتھ سے نکلی ہوں اب نئ بنکر

مری حیات کا مقصد بدل دیا اس نے
نکل پڑی ہوں فسانے سے زندگی بنکر

یہ بے قراری نئے کھولتی ہے در مجھ 
قرا ر لوٹ  رہا ہے وہ  آگہی بن  کر

دکھارہا ہے اندھیرے میں روشنی مجھکو
ترے فراق کا  ہر لمحہ  چاندنی  بن  کر

ٹپک رہاہے مری آنکھ سے لہو کی طرح
لبوں پہ کھیل رہا پے وہ تشنگی بن کر

ستم خزاں کا ہمیں ڈر ہے سہہ نہ پائیں گے
وفا کی آس  جگا پھر سے عا شقی بن کر

کبھی تو لوٹ کے آ پھر سے میرے آنگن میں
اتر جا روح میں پھر میری تازگی بن کر
 

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer