Latest Post
Loading...

Rotha To Shehr Khauwaab Ko Gharat Bhi Kar Gaya,Phir Muskura Ke Taza Shararat Bhi Kar Gaya


روٹھا تو شہر خواب کو غارت بھی کر گیا
پھر مسکرا کے تازہ شرارت بھی کر گیا

شاید اسے عزیز تھیں آنکھیں میری بہت
وہ میرے نام اپنی بصارت بھی کر گیا

منھ زور آندھیوں کی ہتھیلی پہ اک چراغ
پیدا میرے لہو میں حرارت بھی کر گیا

بوسیدہ بادبان کا ٹکڑا ہوا کے ساتھ
طوفاں میں کشتیوں کی سفارش بھی کر گیا

دل کا نگر اجاڑنے والا ہنر شناس
تعمیر حوصلوں کی عمارت بھی کر گیا

سب اہل شہر جس پہ اٹھاتے تھی انگلیاں
وہ شہر بھر کو وجہ زیارت بھی کر گیا

محسن یہ دل کہ اس بچھڑتا نہ تھا کبھی
آج اس کو بھولنے کی جسارت بھی کر گیا


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer