Latest Post
Loading...

Uthi Hai Maghrib Se Ghata,Peene Ka Mausam Aa Gaya Hai


شاعر حفیظ جالندھری
اٹھی ہے مغرب سے گھٹا
پینے کا موسم آ گیا
ہے رقص میں اک مہہ لقا
نازک ادا ناز آفریں
ہاں ناچتی جا گاۓ جا
نظروں سے دل برماۓ جا
تڑپاۓ جا تڑپاۓ جا
اور دشمن دنیا و دیں
تیرا تھرکنا خوب ہے
تیری ادائیں دل نشیں
لیکن ٹھہر تو کون ہے؟
او نیم عریاں نازنیں
کیا مشرقی عورت ہے تو
ہرگز نہیں ہرگز نہیں
تیری ہنسی بے باک ہے
تیری نگہ چالاک ہے
اف کس قدر دل سوز ہے
تقدیر بازاری تیری
کتنی ہوس آموز ہے
یہ سادہ پرکاری تیری
شرم اور عزت والیاں
ہوتی ہیں عفت والیاں
وہ حسن کی شہزادیاں
پردے کی ہیں آبادیاں
چشم ۓ فلک نے آج تک
دیکھی نہیں جن کی جھلک
سرمایہ شرم و حیا
زیور ہے ان کے حسن کا
شوھر کے دکھ سہتی ہیں وہ
منہ سے نہیں کچھ کہتی ہیں وہ
کب سامنے آتی ہیں وہ
غیرت سے کٹ جاتی ہیں وہ
اعزاز ۓ ملت ان سے ہے
نام ۓ شرافت ان سے ہے
ایمان پر قائم ہیں وہ
پاکیزہ و صائم ہیں وہ
تجھ میں نہیں شرم و حیا
تجھ میں نہیں مہر و وفا
سچ بتا تو کون ہے
او بے حیا تو کون ہے
احساس ۓ عزت کیوں نہیں
شرم و غیرت کیوں نہیں
یہ پر فسوں غمزے تیرے
نامحرموں کے سامنے
ہٹ سامنے سے دور ہو
مردود ہو مقہور ہو
تقدیر کی بیٹی ہے تو
شیظان کی بیٹی ہے تو
جس قوم کی عورت ہے تو
اس قوم پر لعنت ہے تو
لیکن ٹھہر جانا ذرا
تیری نہیں کوئی نہیں
مردوں میں غیرت ہی نہیں
قومی حمیت ہی نہیں
وہ ملت بیضا کہ تھی
سارے جہاں کی روشنی
جمیعت اسلامیان
شاہنشہ ہندوستان
اب اس میں دم کچھ بھی نہیں
ہم کیا ہیں ہم کچھ بھی نہیں
ملی سیاست اٹھ گئ
بازو کی طاقت اٹھ گئ
شان حجازی اب کہاں
وہ ترکتازی اب کہاں
اب غزنوی ہمت نیں
اب بابری شوکت نہیں
ایمان عالمگیر کا
مسلم کے دل سے اٹھ گیا
قوم اب جفا پیشہ ہوئی
بلکہ گدا پیشہ ہوئی
اب رنگ ہی کچھ اور ہے
بے غیرتی کا دور ہے
یہ قوم اب مٹنے کو ہے
یہ نرد اب پٹنے کو ہے
افسوس یہ ہندوستاں
یہ گلشن جنت نشاں
ایماں داروں کا وطن
طاعت گذاروں کا وطن
رہ جاۓ گا ویرانہ پھر
بن جاۓ گا بت خانہ پھر
لیکن مجھے کیا خبط ہے
تقریر کیوں بے ربط ہے
ایسا بہک جاتا ہوں میں
منہ میں آئی بک جاتا ہوں میں
اتنا شرابی ہو گیا
عقل و خرد کو کھو گیا
مجھ کو زمانے سے غرض
مٹنے مٹانے سے غرض
ہندوستان سے کام کیا
اندیشہ ۓ اسلام کیا
جینے دو جینے دو
پینے دو پینے دو
جب حشر کا دن آۓ گا
اس وقت دیکھا جاۓ گا
ہاں ناچتی جا گاۓ جا
نظروں سے دل برماۓ جا
تڑپاۓ جا تڑپاۓ جا
او دشمن دنیا و دیں...*

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer