Latest Post
Loading...

Kaseer Mein Nahi Kisi Khateer Mein Nahi Pehle Ashk Si Kasak Akheer Mein Nahi (Razab Tabraiz)



کثیر میں نہیں کسی
خطیر میں نہیں
پہلے اشک سی کسک
اخیر میں نہیں

ایماں بشر کو دیتا ہے
انداز _متانت
گوپیوں سی راس رچ
فقیر میں نہیں

امن کے ہاں بهی ہوتی
ہیں مجالس_فتح
یقینا ً ساری نصرتیں
شمشیر میں نہیں

کنیز _مرد _ناز تهی
شائد اس لیے
زلیخا جیسی لہک کسی
ہیر میں نہیں

شیخ کو وبال ہیں
جو سادہ خصلتیں
سادهوؤں میں گچها ہیں
امیر میں نہیں

ہر نماز ! جنتی ہے
یہ سجدہء سہو
زلف سی زرخیزیاں
زنجیر میں نہیں

نازیبا جواں سالہ ہے
حقیقتاً کہ جو
بدن میں ناچ کرتی ہے
خمیر میں نہیں

کیا عجب ہے چلتے
سانس بیچ لیجیے
جیتے جی کی بولیاں
ضمیر میں نہیں

جبین _آستین _صبر
کهوجتے ہو کیا
آڑهی سیدهی جهلکیاں
دل گیر میں نہیں

لوح کے بهی ہیں دبدبے
تقدیس ہے رزب
سب مرضیء ہر چارہ گر
تقدیر میں نہیں
رزب تبریز

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer