Latest Post
Loading...

Khud Se Khud Ki Khuu Khana Kharab Hai,Dil Ki Aarzoo Khana Kharab Hai (Razab Tabraiz)


خود سے خود کی
خُو خانہ خراب ہے
دل کی آرزو
خانہ خراب ہے
دروغ میں ہزار
راستے چهپے
حق کی جستجو
خانہ خراب ہے
زیر_جبیں اسے
بڑی طہارتیں
بازار میں سبُو
خانہ خراب ہے
ماہ جبین سب
نقاب کے پابند
گرمیوں کی لُو
خانہ خراب ہے
تیرے سنگ سنگ
میرے سب نشاں
میرے سنگ تُو
خانہ خراب ہے
خون میں ملیں
ہزار گردشیں
اس لیے لہو
خانہ خراب ہے
مجھ کو لے چلو
آج اس جگہ
جہاں سرخ رو
خانہ خراب ہے
خوب روؤں کی
راہ میں رہے
میرا اک عضو
خانہ خراب ہے
آپ کی نظر
شرارتی نظر
آپ کا وضو
خانہ خراب ہے
پرستان میں پری
کے واسطے
"زاد" ہو یا "رُو"
خانہ خراب ہے
جو ہے زیر_پا
وہی سرفراز
جو ہے دوبدو
خانہ خراب ہے
رزب لڑائیے جب
کہیں بهی آنکھ
روز، یا کبهُو
خانہ خراب ہے
(رزب تبریز)

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer