Latest Post
Loading...

Safar Ye Ruk Nahi Sakta,Go Manzil Door Hai Shayad


نہ پھر طوفان کا ڈر ہو
وہ ساحل دور ہے شاید
سفینے جو جلاتی ہے
وہ مشکل دور ہے شاید
جو سمجھے چال دشمن کی
وہ گھائل دور ہے شاید
جہاں انسان ہیں بستے
وہ جنگل دور ہے شاید
نہ پھر ڈرنا ڈرانا ہو
وہ محفل دور ہے شاید
اندهیروں کو جو لے جائے
ابھی کل دور ہے شاید
دل مسلم کو گرمائے
وہ ہلچل دور ہے شاید
رہے سجدوں میں جو ہر پل
وہ سائل دور ہے شاید
سروں کو ڈھانپ کے رکھے
وہ آنچل دور ہے شاید
جو رحمت بن کے اب برسے
وہ بادل دور ہے شاید
سفر یہ رک نہیں سکتا
گو منزل دور ہے شاید

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer