Latest Post
Loading...

Shouq Ho Shaheen To Faseel Kuch Nahi,Lagaam Mein Parri Rahy To Dheel Kuch Nahi (Razab Tabraiz)


شوق ہو شاہین تو
فصیل کچھ نہیں
لگام میں پڑی رہے
تو ڈھیل کچھ نہیں

لہو کی سرخیوں
سے کرو پاسداریاں
سرخرو ہے ہر جگہ
ذلیل کچھ نہیں

عقل کے پاس کیا رکها
دلیل کے سوا
آدمی نہ مانے تو
دلیل کچھ نہیں

وقت جیسے شاہ
کی یہی فراستیں
کہ دم بدم تناؤ کی
تمثیل کچھ نہیں

ہیں خواہشات غالباً
ناجائز مستورات
اپنے آپ پل گئیں
کفیل کچھ نہیں

چیل یونہی لا محالہ
بے رحم مشہور
بھوک ڈور کھینچ لے
تو چیل کچھ نہیں

سنگ ایک رہنما ہے
منزلوں کے بیچ
جھوٹ مت کہو کہ
سنگ_میل کچھ نہیں

سچ کہوں ! حسن_زن
تها دراصل معصوم
حسد نے کہا تها کہ
ہابیل کچھ نہیں

رنگ، نسل، ذات
پات اپنی اختراع
انہیں دور پھینک دو
قبیل کچھ نہیں

رزب یاس چھوڑ
آج میری بات مان
خدا بڑا کریم ہے
تفصیل کچھ نہیں
(رزب تبریز)

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer