Latest Post
Loading...

Tanasub Dharrkanon Ka Ansar-E-Nuokhaiz Se Rakhna,Kathan Dil Ki Chehil Qadmi Hai Dil Aawaiz Se Rakhna (Razab Tabraiz)


تناسب دھڑکنوں کا
عنصر_نوخیز سے رکھنا
کٹھن دل کی چہل قدمی
ہے دل آویز سے رکھنا

فسوں نگری کو جو نکلا
نہ واپس لوٹ کے آیا
سفر گو چار دن کا ہے
مگر پرہیز سے رکھنا

بہت ہی سخت جان ہوں
اشاروں کو یہ سمجھا دو
تم دل پہ وار جو رکھنا
اثر انگیز سے رکھنا

محبت اپنے جادو میں
کئی صدیوں سے جاری ہے
کہاں ممکن شکایت اس کی
. عمر_تیز سے رکھنا

وطیرہ ہے ستم پیشی
تو پلو کھول کر پیارے
بے دردی گانٹھ کر لینا
تیور چنگیز سے رکھنا

میرے ساقی کا خاصہ ہے
تنفس مشک کر لینا
لئیے دئیے سے پلوانا
یہ لب گلریز سے رکھنا

غزل کی تاش بانٹو تو
میرے حصے ہیں دو پتے
زباں جادو بیان کرنا
حرف لبریز سے رکھنا

بنام_مشغلہ دلبر کو
یہ اچھی آزادی ہے
جفا کا جو ملے عنواں
رزب تبریز
سے رکھنا
(رزب تبریز)

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer