Latest Post
Loading...

Gumaan Saare Yaqeen Kar Ke Saza Hi Mujh Ko Bana Na Dena (Razab Tabraiz)


گمان سارے یقین کر کے
سزا ہی مجھ کو بنا نہ دینا
حیات میری مجھی میں رہنا
قضا ہی مجھ کو بنا نہ دینا
صلے کا مجھ کو گلہ نہیں
نہیں ملا تو نہیں سہی پر
وفا ہی میری نہ چھین لینا
جفا ہی مجھ کو بنا نہ دینا
یہ زلف ایسے ہے رخ پہ لپٹی
سبو پہ جیسے عدو کا پہرہ
میں خود کو ڈستا پھروں ہمیشہ
بَلا ہی مجھ کو بنا نہ دینا
ہزار نازوں میں پلنے والا
کمال نخرے اُٹھا رہا ہے
ادا کا عادی بنانے والی
خطا ہی مجھ کو بنا نہ دینا
میں تیرا ہم راز تیرا ہم دم
کبھی تو مجھ کو شریک کر لے
فریب مجھ کو دکھا دکھا کے
دغا ہی مجھ کو بنا نہ دینا
یہ ننھے جگنو میرے مُقّلد
میں مثل_رہبر رہا ہوں لیکن
قبر کے کتبے پہ بیٹھا روئے
دیا ہی مجھ کو بنا نہ دینا
وجۂ صرصر تمہی سے سیکھی
یہ نرم خوہی بھی تم سے پائی
مگر نہ دیکھے جو دوست دشمن
ہوا ہی مجھ کو بنا نہ دینا
ستم پرستی بجا ہے لیکن
نفس پرستی نہ ہو تو اچھا
انا پرستی سکھا سکھا کے
خدا ہی مجھ کو بنا نہ دینا
(رزب تبریز)

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer