Latest Post
Loading...

Parde Se Ik Jhalak Jo Dekhla Ke Reh Gaye,Mushtaq-E-Deed Aur Lalcha Ke Reh Gaye ( Hasrat Mohani )


شاعر حسرت موہانی
بک کلیات حسرت
صفحہ 155
انتخاب
‫‏عروسہ ایمان
پردے سے اک جھلک جو وہ دکھلا کے رہ گۓ
مشتاق ۓ دید اور بھی للچا کے رہ گۓ
گم کردہ راہ ۓ عشق فنا کیوں نہ ہو گیا
احساں جو اس پہ خضر و مسیحا کے رہ گۓ
آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار ۓ حسن
آیا مرا خیال تو شرما کے رہ گۓ
جب عاشقوں سے صدمہ ۓ ہجراں نہ اٹھ سکا
آخر کو ایک روز وہ سم کھا کے رہ گۓ
جب وہ چھٹا تو کچھ نہ رہا دل میں اک مگر
داغ ۓ فراق اس گل ۓ رعنا کے رہ گۓ
ملنے کو ان سے ایک بھی صورت نہ بن پڑی
سارے مسودے دل دانا کے رہ گۓ
ٹوکا جو بزم ۓ غیر سے آتے ہوۓ انہیں
کہتے بنا نہ کچھ وہ قسم کھا کے رہ گۓ
بے باک تھا زبسکہ مرا اضطراب ۓ شوق
شرما کے وہ کبھی ، کبھی جھنجھلا کے رہ گۓ
دل کی لگی بجھا بھی وہ سکتے تو بات تھی
یہ کیا ہوا کہ آگ ہی بھڑکا کے رہ گۓ
آۓ بھی اور چلے بھی گۓ وہ مثال ۓ برق
دل ہی میں حوصلے دل شیدا کے رہ گۓ
کیا دل میں آ گئی جو زراہ ۓ کمال ۓ رحم
دعوہ وہ میرے قتل کا فرما کے رہ گۓ
پہلے تو خون میرا بہایا خوشی خوشی
پھر کیا وہ خود ہی سوچے کہ پچھتا کے رہ گۓ
دعواۓ عاشقی ہے تو حسرت کرو نباہ
یہ کیا کہ ابتدا ہی میں گھبرا کے رہ گۓ

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer