Latest Post
Loading...

Faiz Ahmad Faiz Poetry By Noor Jahan


نورجہاں 1959ء میں لاہور کے اندر منعقد کی گئی ایک نجی محفل میں فیض احمد فیض کا کلام بغیر موسیقی کے گاتے ہوئے، فیض احمد فیض بھی رونقِ محفل تھے احباب کے ذوق کی تسکین کی خاطر  کلپ پیش ہے۔
آج کی رات ساز اے دل پر درد نہ چھیڑ
قول الفت کا جو ہنستے ہوئے تاروں نے سنا
بند کلیوں نے سنا ، مست بہاروں نے سنا
سب سےچھپ کر جسے دو پریم کے ماروں نے سنا
خواب کی خواب سمجھ ، اسکو حقیقت نہ بنا
آج کی رات -- ساز اے دل پر درد نہ چھیڑ
اب ہیں ارمانوں پہ چھائے ہوئے بادل کالے
پھوٹ کر رسنے لگے ہیں مرے دل کے چھالے
آنکھ بھر آئی ، چھلکنے کو ہیں اب یہ پیالے
مسکرائیں گے مرے حال پہ دنیا والے
آج کی رات -- ساز اے دل پر درد نہ چھیڑ
بے بسوں پر یہ ستم خوب زمانے نے کیا
کھیل کھلا تھا محبت کا ، ادھورا ہی رھا
ھائے تقدیر ، کہ تقدیر سے پورا نہ ھوا
ایسے آنی تھی جدائی ، مجھے معلوم نہ تھا
آج کی رات -- ساز اے دل_ پر درد نہ چھیڑ
آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ
دکھ سے بھر پور دن تمام ہوئے
اور کل کی خبر کسے معلوم
دوش و فردا کی مٹ چکی ہیں حدود
ہو نہ ہو اب سحر، کسے معلوم؟
زندگی ہیچ! لیکن آج کی رات
ایزدیت ہے ممکن آج کی رات
آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ
اب نہ دہرا فسانہ ہائے الم
اپنی قسمت پہ سوگوار نہ ہو
فکرِ فردا اتار دے دل سے
عمر رفتہ پہ اشکبار نہ ہو
عہدِ غم کی حکایتیں مت پوچھ
ہو چکیں سب شکایتیں مت پوچھ
آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ 

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer