Latest Post
Loading...

Ye Kainaat Surahi Thi Jaam Aankhein Thi,Muwasilaat Ka Pehla Nizaam Aankhein Thi


یہ کائنات صراحی تھی جام آنکھیں تھی
مواصلات کا پہلا نظام آنکھیں تھی
غنیمء شہر کو وہ تھا بصارتوں کا جنوں
کہ جب بھی لوٹ لایا تمام آنکھیں تھی
خطوط نور سے ہر حاشیہ مزیں تھا
کتابء نور میں سارا کلام آنکھیں تھی
اب آ گۓ ہیں یہ چہروں کے زخم بھرنے کو
کہاں گۓ تھے مناظر جو عام آنکھیں تھی
وہ قافلہ کسی اندھے نگر سے آیا تھا
ہر ایک شخص کا تکیہ کلام آنکھیں تھی
نظر فروز تھا یوسف کا پیرھن شاید
دیارء مصر سے پہلا سلام آنکھیں تھی
کسی کا عکس بھی دیکھا تو رو پڑیں یکدم
قسم خدا کی بہت تشنہ کام آنکھیں تھی


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer