Latest Post
Loading...

Apni Tou Hijraton Ke Muqaddar Ajeeb Hain Apne Hi Shehr Mein Hain Na Ghurbat Naseeb Hain


اپنی تو ہجرتوں کے مقدر عجیب ہیں
اپنے ہی شہر میں ہیں نہ غربت نصیب ہیں

اب اعتبار کس کا کریں الجھنوں کے بیچ
باتیں ہیں دوستانہ سی لہجے رقیب ہیں

چارہ گروں کے طرزِ جراحت کا شکریہ !
آزار اب مری رگِ جاں کے قریب ہیں

مٹی سے تیری دور ہیں لیکن ہیں تجھ سے ہم
ہم بھی تو اے وطن ترے شاعر ادیب ہیں

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer