Latest Post
Loading...

Din Chady Jise Kar Diya Pare Shaam Mein Usay Pukaarty Rahe



دن چڑھے جسے
کر دیا پرے
شام میں اسے
پکارتے رہے

بوند نہ ملی
ماس میں اگر
دست سے ایذا
چمکارتے رہے

عملِ ضبط میں
شاہ سے منسوب
رگ سے بجلیاں
گزارتے رہے

مبتلائے عشق !
ادھارِ وہم میں
اپنی ہی نظر
اتارتے رہے

بد قماش تھے
اپنی ذات میں
وقت کی دلہن
تاڑتے رہے

یاس نے مگر !
بین کر لیے
اگرچہ ولولے
دھاڑتے رہے

خوشی کی لونڈیاں
قطار در قطار
انا کی تاش میں
ہارتے رہے

اظہار کھا گیا
نوزائیدہ شرم
مفت میں پلک
سنوارتے رہے

ہاتھ میں لیے
چپ کی برچھیاں
تہمتوں کی گانٹھ
پھاڑتے رہے

آئینے کا سچ
سنا نہیں گیا
آئینے کو ہم !
مارتے رہے

انجام کار سب
خسارہ کھا گئے
جو ضائع نیکیاں
شمارتے رہے

سیاہ تھی رزب
نصیب کی ردا
لہو کے نل تلے
نکھارتے رہے
( رزبؔ تبریز)

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer