Latest Post
Loading...

Zindagi Ko Haath Se Aazaar Mat Bana Chaar Daire Khench Keh Parkar Mat Bana



زندگی کو ہاتھ
سے آزار مت بنا
چار دائرے کهینچ
کہ پرکار مت بنا

اس قدر نیاز کہ
رہے خدا کا نام
آدمی تراش کے
شاہکار مت بنا

دهجیوں کے کفر
میں ہو دامن_قبا
ایسا بهی جوانی
کا معیار مت بنا

حلال ہی چلا چلے
چشم کا روزگار
نگاہ پاک رہنے
دے خمار مت بنا

دل بتائے فیصلوں
کی منزلیں کہاں
ریت سے چنی ہوئی
دیوار مت بنا

خواہشوں کی بے وجہ
نہ عادتیں بگاڑ
دل کے لیے خود کو
رضاکار مت بنا

رسم و راہ، بے راہ روی،
قریبی رشتہ دار
دعا سلام ٹهیک ہے
پر یار مت بنا

رنجشیں ہیں ظرف
کی ناخلف طالبات
دعاؤں کی طرح
انہیں پکار مت بنا

دیکهنا یہ کیا کرے
گا تیرے واسطے
نفس کو غلام کر
سرکار مت بنا

قباحتوں کی شرم
ہے روزانہ ملاقات
ایک آدھ چهوڑ کے
بهرمار مت بنا

دوستی رزب ہے
ایک خوشنما یقین
دوستوں کی تلخیاں
شمار مت بنا
(رزبؔ تبریز)

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer