Taweel Shab Thi Tera Intezar Karte Rahe Khula Ke Zakhmon Ko Bagh o Bahar Karte Rahe
طویل شب تھی ترا انتظار کرتےرہے
کِھلاکےزخموں کو باغ وبہار کرتے رہے
Taweel Shab Thi Tera Intezar Karte Rahe
Khula Ke Zakhmon Ko Bagh o Bahar Karte Rahe
وہ جاتےجاتےکوئی وعدہ بھی نہ کرکےگیا
دل ونظرکو ہمی بےقرار کرتے رہے
ہماری آنکھوں میں جو بےبسی کے آنسو تھے
ہمارے رْخ کو وہی داغدار کرتے رہے
خموش رات تھی اور گلی میں سناٹے
وہم گمان ہی چیخ وپکار کرتے رہے
تمہیں پتا ہے جدائی میں طنزوطعنوں کے
رقیب تیر سبھی آرپار کرتےرہے
پیام لکھتے،مٹاتےتھے،پھر سے لکھتے تھے
اور ایک بار نہیں ،باربار کرتے رہے
شاعرہ: جیاعلی
Poetess: Jia Ali
کراچی پاکستان
Karachi Pakistan

Comments
Post a Comment