Phir Zakham Kabhi Rooh Yeh Tahreer Na Hoty Dushman Se Agar Dost Baghalgeer Na Hoty
پھر زخم کبھی روح پہ تحریر نہ ہوتے دشمن سے اگر دوست بغلگیر نہ ہوتے Phir Zakham Kabhi Rooh Yeh Tahreer Na Hoty Dushman Se Agar Dost Baghalgeer Na Hoty اے عمدہ سخن والے ترے دام میں آئے ہم لوگ کسی اور سے تسخیر نہ ہوتے میں تنہا انہیں چھوڑ کے جا ہی نہیں پاتی دکھ کاش مرے پیر کی زنجیر نہ ہوتے قاتل بڑے آرام سے ہو سکتا تھا مفرور کیا بنتا اگر پاس میں راہگیر نہ ہوتے سچ سننے کی ہمت ہی نہیں باقی وگرنہ اشعار مرے قابلِ تعزیر نہ ہوتے انصاف کے ہو جاتے اگر پورے تقاضے یہ پھول سے لہجے کبھی شمشیر نہ ہوتے کومل جوئیہ Komal Joya