Posts

Aik Darwaza Khulta Hai Parion Jaise Gavon Mein Rah Mein Madh Ban PaRta Hai Onchay CheeR Ki Chaoun Mein

Image
اک دروازہ کھلتـــــــا ہے پریوں جیسے گاؤں میں راہ میں مدھ بن پڑتا ہے اونچے چیڑ کی چھاؤں میں Aik Darwaza Khulta Hai Parion Jaise Gavon Mein Rah Mein Madh Ban PaRta Hai Onchay CheeR Ki Chaoun Mein وہ پگڈنڈی جس پر لیلیٰ اب تک رستہ دیکھتــــــی ہے اب تک سرسوں پھول رہی ہے اُن رنگین فضاؤں میں بوڑھے برگد پر اب تک آسیب بسیرا کرتــــــا ہے جھولے سونے سونے ہیں ساون کی مست فضاؤں میں تیرے میرے دل کی کہانی دنیا میں مشہـــــــــور رہی رانجھا ہیر کے قصے سنتے آئے رقص کتھاؤں میں وہ بچپن جو اب تک دل میں چھپ چھپ کر مسکا تا ہے سوچتے ہیں چھوڑ آئیں اس کو دور دراز خـلاؤں میں شائستہ مفتی Shaista Mufty

Mulaqaton Ka Aisa Silsila Rakha Hai Tum Ne Badan Kia, Rooh Bhi Rutjaga Rakha Hai Tum Ne

Image
ملاقاتوں کا ایسا سلسلہ رکھا ہے تم نے بدن کیا، روح میں بھی رتجگا رکھا ہے تم نے Mulaqaton Ka Aisa Silsila Rakha Hai Tum Ne Badan Kia, Rooh Bhi Rutjaga Rakha Hai Tum Ne کوئی آساں نہیں تھا زندگی سے کٹ کے جینا بہت مشکل دنوں میں رابطہ رکھا ہے تم نے ہم ایسے ملنے والوں کو کہاں اس کی خبر تھی نہ ملنے کا بھی کوئی راستہ رکھا ہے تم نے جنوں کی حالتوں کا ہم کو اندازہ نہیں تھا دیئے کہ شہ پہ سورج کو بجھا رکھا ہے تم نے اب ایسا ہے کہ دنیا سے الجھتے پھر رہے ہیں عجب کیفتیوں میں مبتلا رکھا ہے تم نے ہوا کو حبس کرنا ہو تو کوئی تم سے سیکھے دریچے بند دروازہ کھلا رکھا ہے تم نے خزاں جیسے ہرے پیڑوں کو رسوا کر رہی ہے سلوک ایسا ہی کچھ ہم سے روا رکھا ہے تم نے رہائی کے لیے زنجیر پہنائی گئی تھی اسیری کے لیے پہرہ اٹھا رکھا ہے تم نے بریدہ عکس لرزاں ہیں لہو کی وحشتوں میں یہ کیسا آئینہ خانہ سجا رکھا ہے تم نے محبت کرنے والے اب کہاں جا کر ملیں گے گزر گاہوں کو تو مقتل بنا رکھا ہے تم نے سلیم کوثر Saleem Kousar

Yun Toh Lamhon Ke Is Tasalsul Mein Ab Se Pehle Bhi Umar Kat'ty Thi

Image
ایک شام Aik Shaam یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میں اب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی Yun Toh Lamhon Ke Is Tasalsul Mein Ab Se Pehle Bhi Umar Kat'ty Thi موم بتی کی روشنی میں نظر حافظے کے ورق الٹتی تھی ریت کے سوگوار ٹیلوں پر چاندنی رات بھر بھٹکتی تھی آج لیکن تھکے ہوے دل پر جسم کا تار تار بھاری ہے شام کی دم بخود ہواؤں پر صبح کا انتظار بھاری ہے مقبروں سے اٹھی ہوئی آندھی ٹہنیوں سے الجھ کے چلتی ہے خشک پلکوں پہ آنسوؤں کی امید پے بہ پے کروٹیں بدلتی ہے دم بخود خامشی میں دھیرے سے زرد پتے قدم اٹھاتے ہیں یاد کے کارواں اندھیرے میں خواب کی طرح سرسراتے ہیں کھڑکیوں کے ڈرے ہوئے چہرے اپنی آہٹ سے کانپ جاتے ہیں دل کی قربان گاہ کے آگے ایک ٹوٹا ہوا دیا بھی نہیں کسی پیپل کے نرم سائے میں کوئی پتھر کا دیوتا بھی نہیں روح کے کاسۂ گدائی کو چار ٹکڑوں کا آسرا بھی نہیں سوچتاہوں کہ اس دیار سے دور ایک ایسا بھی دیس ہے جس کی رات تاروں میں سج کے آئے گی صبح ہو گی تو گھر کے گوشوں میں تیری معصوم مسکراہٹ کی نرم سی دھوپ پھیل جائے گی مصطفی زیدی Mustafa Ziadi

Teri Yadon Mein Maho Thi Jab Main Sans Laina Raha Na Yaad Mujhe

Image
تیری یادوں میں محو تھی جب میں سانس لینا رہا نہ یاد مجھے Teri Yadon Mein Maho Thi Jab Main Sans Laina Raha Na Yaad Mujhe کوکب مبین Kokab Mubeen

Yeh Koi Qissa e Bagh Bahar Thodi Hai Zara Se Abar , Tatuf Se Kaise Dhul Jaye

Image
    یہ کوئی قصۂ باغ و بہار تھوڑی ہے ذرا سے ابر ِ تلطف سے کیسے دُھل جائے Yeh Koi Qissa e Bagh Bahar Thodi Hai Zara Se Abar , Tatuf Se Kaise Dhul Jaye دِلوں کا میل ہے، گرد و غبار تھوڑی ہے  اگر وفورِ محبت سے مر گئے تو کیا ہر اِک مزار ِ وفا یادگار تھوڑی ہے نہ صاحبان ِ ضرورت، نہ سائلان ِ وفا کِسی قطار میں اپنا شمار تھوڑی ہے اُس ایک وعدہ شکن کے کلامِ شیریں پر  یقیں تو خیر مگر اعتبار تھوڑی ہے دِلوں کو ہم نے مسخر کیا ہے لفظوں سے ہمارے ہاتھ میں تیغ و کٹار  تھوڑی  ہے شاہین مفتی Shaheen Mufty

Yeh Koi Qissa e Bagh o Bahar Thodi Hai Zara Se Abar Lutf Se Kaise Dhul Jaye

Image
یہ کوئی قصۂ باغ و بہار تھوڑی ہے ذرا سے ابر ِ تلطف سے کیسے دُھل جائے Yeh Koi Qissa e Bagh o Bahar Thodi Hai Zara Se Abar Lutf Se Kaise Dhul Jaye دِلوں کا میل ہے، گرد و غبار تھوڑی ہے  اگر وفورِ محبت سے مر گئے تو کیا ہر اِک مزار ِ وفا یادگار تھوڑی ہے نہ صاحبان ِ ضرورت، نہ سائلان ِ وفا کِسی قطار میں اپنا شمار تھوڑی ہے اُس ایک وعدہ شکن کے کلامِ شیریں پر  یقیں تو خیر مگر اعتبار تھوڑی ہے دِلوں کو ہم نے مسخر کیا ہے لفظوں سے ہمارے ہاتھ میں تیغ و کٹار  تھوڑی  ہے شاہین مفتی Shaheen Mufty

Pa Ter Wakhtono Ke Da Meeny Inteha Prata Wa Pa Narmo Shundo Da Har Cha Khaista Khanda Prata Wa

Image
Pa Ter Wakhtono Ke Da Meeny Inteha Prata Wa Pa Narmo Shundo Da Har Cha Khaista Khanda Prata Wa