Khud Aap Apni Madah Saraai Mein Pad Gaya Kia Acha Aadmi Tha , Buraai Mein Pad Gaya
خود آپ اپنی مدح سرائی میں پڑ گیا کیا اچھا آدمی تھا، بُرائی میں پڑ گیا Khud Aap Apni Madah Saraai Mein Pad Gaya Kia Acha Aadmi Tha , Buraai Mein Pad Gaya کیا نازکی تھی اس کی کہ چُھوتے ہی پھول کو اک آبلہ سا دستِ حنائی میں پڑ گیا میری طرح سے تُو بھی اسیری کا لطف لے بیکار میں ہی فکرِ رہائی میں پڑ گیا نمرود کو جہان میں کوئی کمی نہ تھی لیکن وہ شخص خبطِ خدائی میں پڑ گیا کب تک بھلا ٹھٹھرتا ہوا دیکھتا اسے چپ چاپ آ کے میں تو رضائی میں پڑ گیا دنیا میں ایک دل ہی ہمارا وکیل تھا کمبخت وہ بھی صلح صفائی میں پڑ گیا اس شہر میں یہی تو منافعے کا کام ہے یوں ہی نہیں وہ کارِ گدائی میں پڑ گیا کاشف حسین غائر Kashif Husain Ghair