Tatly Jo Rang Talusamat Ho Gai Paigham Tha Bahar Ka Barsaat Ho Gai
تتلی جو رنگ رنگ طلسمات ہو گئی پیغام تھا بہار کا برسات ہو گئی Tatly Jo Rang Talusamat Ho Gai Paigham Tha Bahar Ka Barsaat Ho Gai کتنے ادب سے ذکر ہوا آج آپ کا یادش بخیر یاد عبادات ہو گئی بستی تمھارے نام کی ہنستی بسی رہی پھر یہ ہوا کہ سازشِ محلات ہو گئی دیکھا جو دور دور تمہیں، جھک گئی نظر یوں لب ہلے کہ گویا مناجات ہو گئی پھرتے ہیں کیوں اداس، کہاں دل لگا لیا کیا سوچتے ہیں آپ کوئی بات ہو گئی یادوں کی دھوپ چھاؤں میں مڑ کر نہ دیکھیے جب لگ رہی تھی گھات، وہیں مات ہو گئی اپنی روایتیں تھیں حکایات ایک تھیں اک پر شکوہ حویلی تھی، کھنڈرات ہو گئی دل کی لگی تھی، کھیل سمجھتے رہے جسے اور داستانِ عشق بھی سوغات ہو گئی شائستہ مفتی Shaista Mufti