نہ کوئی رابطہ، مسیج، نہ کال خیر تو ہے کہاں پہ گم ہو مرے خوش جمال، خیر تو ہے Na Koi Rabta , Massage , Na Call Khair Tou Hai Kahan Peh Gum Ho Mere Khush Jamal , Khair Tou Hai مری تو خیر ہے، تم کیوں اُٹھائے پھرتے ہو کسی کا ہجر، کسی کا وصال خیر تو ہے ہمیں تو اک بھی میسر نہیں تھا صحرا میں تمہارے شہر میں اتنے غزال، خیر تو ہے وہ جن کے دم سے چمکتا تھا آسمان سخن کہاں گئے وہ ستارہ مثال خیر تو ہے اور اتنی دیر میں آنکھیں چھلک پڑیں اُس کی میں پوچھنے ہی لگا تھا سوال _ خیر تو ہے ابھی تو ہم نے قدم ٹھیک سے نہیں رکھے بدل گئی ہے ستاروں کی چال، خیر تو ہے تو بات بات پہ کہتا تھا، تیری خیر نہیں کہاں گیا ترا جاہ و جلال خیر تو ہے ابھی تو عمر نہیں ہے تمہارے جھڑنے کی ابھی سے ڈھلنے لگے خدوخال، خیر تو ہے فقیر موج میں آئے نہیں کئی دن سے اور اس پر رقص، نہ کوئی دھمال، خیر تو ہے ہمارے ہوتے ہوئے اُس پہ ان دنوں عامی یہ کون پھینکتا پھرتا ہے جال خیر تو ہے