Posts

Chand Ko Tod Ke Lany Ka Woh Dawa Na Kare Mujh Ko Yeh Bhi Tou Buhat Hai Keh Woh Dhoka Na Kare

Image
چاند کو توڑ کے لانے کا وہ دعوی نہ کرے مجھ کو یہ بھی تو بہت ہے کہ وہ دھوکہ نہ کرے Chand Ko Tod Ke Lany Ka Woh Dawa Na Kare Mujh Ko Yeh Bhi Tou Buhat Hai Keh Woh Dhoka Na Kare میں جسے سوچ رہا ہوں، اسے میں ہی سوچوں دوسرا کوئی بھی اس شخص کو سوچا نہ کرے بات کرتا ہے تو پھر بات سنے بھی مجھ سے میں کروں بات تو پھر بات میں ٹوکا نہ کرے پاس اپنے جو بٹھائے تو بٹھائے مجھ کو مجھ سے ہٹ کے وہ کسی اور کو اپنا نہ کرے اس کو آواز لگانا تو کبھی زیب نہیں اٹھ کے جاتے ہوئے احباب کو روکا نہ کرے عشق میں رنج الم کوئی نئی بات نہیں ان مسائل کے سبب دل کو تو چھوٹا نہ کرے ڈال دے آنکھ کے آنسو مری جھولی میں مگر اس حسیں شخص سے کہہ دو کہ وہ رویا نہ کرے فضل الرحمن Fazal ur Rehman

Nenan Ne Jagraty Katy Nenan Andar Chalan

Image
نیناں نے جگ راتے کٹّے نیناں اندر چھلّاں Nenan Ne Jagraty Katy Nenan Andar Chalan رُوح دی پیڑ نہ سمجھے کوئی اتھرُو کردے گلّاں ​لیکھاں دے وِچ لِکھے نئیں سی اوہ وی دھکے جھلّاں لمے پینڈے، ٹُٹّےرستے کِنج میں اگّے چلّاں زخماں نوں ​تروپے لاواں کھلرّی رسّی ولّاں دنیا فانی مِٹ جانا اے کل وقتی نئیں مَلّاں  

Humari Kamre Mein Tareeky Lane Lag Gaya Hai Chiragh Dil Se Ta'aluq Nebhany Lag Gaya Hai

Image
ہمارے کمرے میں تاریکی لانے لگ گیا ہے چراغ دل سے تعلق نبھانے لگ گیا ہے Humari Kamre Mein Tareeky Lane Lag Gaya Hai Chiragh Dil Se Ta'aluq Nebhany Lag Gaya Hai کھڑی تھی ہاتھ میں لے کر میں کب سے مرہم کو وہ زخم دل کے کسی کو دکھانے لگ گیا ہے بگاڑنے کے لیے منظرِ محبت کو زمانہ پھول سے تتلی اڑانے لگ گیا ہے میں جس کے آنکھوں کے صدقے یہاں پہ آئی ہوں وہ میرے خواب کسی کو دکھانے لگ گیا ہے سیدہ تسنیم بخاری Sayeda Tasneem Bukhary

Tu Chod Ke Jayega Tou Pora Na Rahega Aur Tere Sewa Main Bhi Mukamal Nahi Bachta

Image
تو چھوڑ کے جائے گا تو پورا نہ رہے گا اور تیرے سوا میں بھی مکمل نہیں بچتا Tu Chod Ke Jayega Tou Pora Na Rahega Aur Tere Sewa Main Bhi Mukamal Nahi Bachta سید فدا بخاری Sayed Fida Bukhary

Jaday Ki Sard Sard Hawa Mein Thetharty Shab Haathon Mein Tapty Haath , Labon Par Sulagty Lab

Image
جاڑے کی سرد سرد ہَوا میں ٹھٹھرتی شب ہاتھوں میں تپتے  ہاتھ، لبوں پر سُلگتے لَب Jaday Ki Sard Sard Hawa Mein Thetharty Shab Haathon Mein Tapty Haath , Labon Par Sulagty Lab کُچھ تو بتا فسردگی کیا ہو گیا تجھے آیا تھا آج دِل میں کوئی، کون، کیسے، کب ٹھٹھا اُڑاتی موجِ ہَوا کو یہ کیا پتہ ملِتا ہے کِس دِیئے سے مِری راکھ کا نسب کانوں پہ ہاتھ رکھّے لرزتا ہوں ساری رات غم قہقہے لگاتا ہے وہ بھی بلا سبب پہنا تھا جانے کس لیے چشمہ شعور کا پہلے تو کُچھ نظر نہیں آتا  تھا اور اب پِھر دِل میں گِر کے جل گئیں کُچھ تازہ خواہشیں پِھر کھا گیا ہے روٹیاں، تندور سب کی سب یہ کہہ کے دُھوپ ٹُوٹ پڑی نخلِ زرد پر بارش کا نام لیتا ہے ؟ گُستاخ، بے ادب سعید شارقؔ Saeed Shariq  

Dhuwan Jo Daikha Tou Main Ne Bhi Rasta Badla Lagi Hai Aag Tou Phir Ghar Bhi Jal Gaya Ho Ga

Image
دھواں جو دیکھا تو میں نے بھی راستہ بدلا لگی ہے آگ تو پھر گھر بھی جل گیا ہو گا Dhuwan Jo Daikha Tou Main Ne Bhi Rasta Badla Lagi Hai Aag Tou Phir Ghar Bhi Jal Gaya Ho Ga یہ میرا دل تو کسی کام کا نہیں تھا مگر میں خوش ہوا ہوں ترا کام چل گیا ہو گا مجھے بھی اس کی وہ پہلی طلب نہیں ہوتی اور اس کا حسنِ مجسم بھی ڈھل گیا ہو گا میں کیا بتاؤں کہ خوابوں کا کیا ہوا مرے دوست یہ اژدہائے محبت نگل گیا ہو گا وہ پھول ٹانک کے بالوں میں آج آئی ہے کسی کے ہاتھ سے تو پارسل گیا ہو گا اب آ کے تُو ذرا محتاط ہے سفر سے مگر کسی کے ساتھ تُو پہلے پہل گیا ہو گا برس گزر گئے کتنے وہ شہر دیکھے ہوئے اب اس گلی کا بھی نقشہ بدل گیا ہو گا وہ دل کہ جس کو تمھارے قریب رہنا تھا تمھاری یاد سے کتنا بہل گیا ہو گا؟ وہ ایک شخص کہ جو ساتھ ساتھ رہتا تھا نہ ڈھونڈ اس کو وہ رستہ بدل گیا ہو گا بدن سے میرے یہ اٹھتا دھواں بتاتا ہے تمھاری یاد کا شعلہ مچل گیا ہو گا تو پوچھتا ہے کہ وہ شخص جانے کیسا ہو ترے فراق کے سانچے میں ڈھل گیا ہو گا میں سست رو تھا سو پیچھے ہی رہ گیا اے دوست وہ تیز گام تھا آگے نکل گیا ہو گا وہ جا چکا ہے تو میں نے تلاش بھی نہیں...

Sukoot e Sham e Khizan Hai , Qareeb Aa Jao Bada Udas Saman Hai Qareeb Aa Jao

Image
سکوتِ شامِ خزاں ہے، قریب آ جاؤ بڑا اداس سماں ہے قریب آ جاؤ Sukoot e Sham e Khizan Hai , Qareeb Aa Jao Bada Udas Saman Hai Qareeb Aa Jao نہ تم کو خود پہ بھروسہ، نہ ہم کو زعمِ وفا نہ اعتبارِ جہاں ہے  قریب آ جاؤ رہِ طلب میں کسی کو کسی کا دھیان نہیں ہجومِ ہمسفراں ہے قریب آ جاؤ جو دشتِ عشق میں بچھڑے، وہ عمر بھر نہ ملے یہاں دھواں ہی دھواں ہے قریب آ جاؤ یہ آندھیاں ہیں تو شہرِ وفا کی خیر نہیں زمانہ خاک فشاں ہے قریب آ جاؤ فقیہِ شہر کی مجلس نہیں کہ دور رہو یہ بزمِ پیرِ مغاں ہے، قریب آ جاؤ فرازؔ دور کے سورج غروب سمجھے گئے یہ دورِ کم نظراں ہے قریب آ جاؤ احمد فرازؔ Ahmad Faraz