Posts

Kabhi Kabhi Dil Yun Chahta Hai Tum Ko Aadha Aadha Kar Ke

Image
"پریت" ''Preet'' کبھی کبھی دل یوں چاہتا ہے تم کو آدھا آدھا کر کے Kabhi Kabhi Dil Yun Chahta Hai Tum Ko Aadha Aadha Kar Ke آدھا چھوڑوں نہر کنارے آدھا چھوڑوں جنگل میں نہر کنارے دَلدل ہو گی پاؤں پیارے کَھا جائے گی کَھا جائے گی ڈر جاؤ گے ڈر جاؤ گے دوڑ پڑو گے میری جانب جنگل میں جب ہوا چلے گی ٹھنڈی ہو گی ٹھٹھر پڑو گے شاخیں ساری اُلجھ پڑیں گی تم کیوں آئے ہو جنگل میں؟؟؟ تم سے بِیسیوں بار کہیں گی بَھاگو پَلٹو ساری پَریاں سَن سَن کر کے اپنے پاؤں چَھن چَھن کر کے تمہیں ڈرا کے خُوب بَھگا کے زور زور سے ہنستی رہیں گی اونچا اونچا سا چیخیں گی ڈر جاؤ گے دونوں طرف سے بھاگ پڑو گے آدھے آدھے کیسے لگو گے ؟ لیکن بانسری دیکھو بانسری کون بجائے؟ خوف ناک سی دُھن ہے اِسکی اِس قدر باریک سے سُر ہیں کاٹ رہے ہیں پتّا پتّا میں بھی کَٹ گئی ہوں یَک لحظہ غور سے دیکھو میں بھی دو ہوں کَٹی ہوئی کچھ اِدھر پڑی ہوں کٹی ہوئی کچھ اُدھر گِری ہوں تم آئے ہو اِک جانب سے آدھے ہو تم آدھی ہوں میں لپٹ گئے ہیں آدھے آدھے دیکھو آدھے پورے ہوئے ہیں اُدھر بھی آدھے تم ہو ساجن باقی آدھی تم میں مَیں ہوں پورا ہے اَب جنگل ...

Mujh Peh Aise Sard Muhar Lehje Na Aazma Dil , Dil Se Zer Hota Hai Alfaz Se Nahi

Image
مجھ پہ ایسے سرد مہر لہجے نہ آزما دِل، دِل سے زیر ہوتا ہے الفاظ سے نہیں Mujh Peh Aise Sard Muhar Lehje Na Aazma Dil , Dil Se Zer Hota Hai Alfaz Se Nahi

Dar Jaein Apne Aap Se Yeh Khud Pasand Log Khud Ko Jo Aainay Ke Kabhi Robaro Karein

Image
ڈر جائیں اپنے آپ سے یہ خود پسند لوگ خود کو جو آئینے کے کبھی روبرو کریں Dar Jaein Apne Aap Se Yeh Khud Pasand Log Khud Ko Jo Aainay Ke Kabhi Robaro Karein عنبرین حسیب عنبر Anbreen Haseeb Anber

Rahega Ishq Tera Khak Mein Mila Ke Mujhe Keh Ibteda Mein Hoe Ranj Inteha Ke Mujhe

Image
رہے گا عشق ترا خاک میں ملا کے مجھے کہ ابتدا میں ہوئے رنج انتہا کے مجھے Rahega Ishq Tera Khak Mein Mila Ke Mujhe Keh Ibteda Mein Hoe Ranj Inteha Ke Mujhe دیئے ہیں ہجر میں دکھ درد کس بلا کے مجھے شبِ فراق نے مارا لٹا لٹا کے مجھے بغیر موت کے کس طرح کوئی مرتا ہے یقیں نہ آئے تو وہ دیکھ جائیں آ کے مجھے بلائے عشق تو دشمن کو بھی نصیب نہ ہو مرا رقیب بھی رویا گلے لگا کے مجھے کہا یہ دل نے چلو آج کوئے قاتل میں اجل کہاں سے کہاں لے گئی لگا کے مجھے ہر ایک شخص کو حاصل جدا ہے کیفیت جفا کے لطف تجھے ہیں ، مزے وفا کے مجھے غضب ہے آہ میری داغؔ نام ہے میرا تمام شہر جلاؤ گے کیا جلا کے مجھے

Kisi Ki Aankh Se Sapne Chura Kar Kuch Nahi Milta Manderon Se Chiraghon Ko Bujha Kar Kuch Nahi Milta

Image
کسی کی آنکھ سے سپنے چُرا کر کچھ نہیں ملتا منڈیروں سے چراغوں کو بُجھا کر کچھ نہیں ملتا Kisi Ki Aankh Se Sapne Chura Kar Kuch Nahi Milta Manderon Se Chiraghon Ko Bujha Kar Kuch Nahi Milta ہماری  سوچ  کی  پرواز  کو  روکے  نہیں  کوئی نئے افلاک  پر  پہرے  بٹھا  کر  کچھ  نہیں  ملتا کوئی اک آدھ سپنا ہو تو پھر اچھا بھی لگتا ہے ہزاروں خواب آنکھوں میں سجا کر کچھ نہیں ملتا سکوں اُن کو نہیں ملتا کبھی پردیس جا کر بھی جنہیں اپنے وطن سے دل لگا کر کچھ نہیں ملتا اُسے کہنا کہ پلکوں پر نہ ٹانکے خواب کی جھالر سمندر  کے  کنارے  گھر  بنا  کر  کچھ  نہیں ملتا اچھا  ہے  کہ  آپس  کے  بھرم  نہ  ٹوٹنے  پائیں کبھی بھی دوستوں کو آزما کر کچھ نہیں ملتا نجانے کون سے جذبے کی یوں تسکین کرتا ہوں بظاہر تو تمہارے خط جلا کر کچھ نہیں ملتا فقط تم سے ہی کرتا ہوں میں ساری راز کی باتیں ہر  اک  کو  داستانِ دل  سنا  کر  کچھ  نہیں ملتا عمل کی سوکھتی رگ میں...

Unhein Bhi Kar Diya Betab Aarzoo Kis Ne Meri Nigah Muhabbat Kahein Yeh Tu Toh Nahi

Image
انہیں بھی کر دیا بیتاب آرزو کس نے مری نگاہ محبت کہیں یہ تو تو نہیں Unhein Bhi Kar Diya Betab Aarzoo Kis Ne Meri Nigah Muhabbat Kahein Yeh Tu Toh Nahi کہاں یہ عشق کا عالم، کہاں وہ حسن تمام یہ سوچتا ہوں کہ میں اپنے روبرو تو نہیں خوشی سے ترک محبت کا عہد لے اے دوست مگر یہ دیکھ ترا دل لہو لہو تو نہیں چمن میں رکھتے ہیں کانٹے بھی اک مقام اے دوست فقط گلوں سے ہی گلشن کی آبرو تو نہیں امید فاضلی Umeed Fazly

Paael Kabhi Pehny , Kabhi Kangan , Usay Kehna Ly Aaye Muhabbat Mein Naya Pan Usay Kehna

Image
پائل کبھی پہنے، کبھی کنگن، اسے کہنا لے آئے محبت میں نیا پن اسے کہنا Paael Kabhi Pehny , Kabhi Kangan , Usay Kehna Ly Aaye Muhabbat Mein Naya Pan Usay Kehna مے کشں کبھی آنکھوں کے بھروسے نہیں رہتے شبنم کبھی بھرتی نہیں برتن اسے کہنا گھر بار بھلا دیتی ہے دریا کی محبت کشتی میں گزر جاتاہے جیون، اسے کہنا