یہ شیشے، یہ سپنے، یہ رشتے، یہ دھاگے کسے کیا خبر ہے کہاں ٹوٹ جائیں Yeh Sheeshay , Yeh Sapne , Yeh Reshtay , Yeh Dhagay Kise Kia Khabar Hai Kahan Toot Jaein محبت کے دریا میں تنکے وفا کے نجانے یہ کس موڑ پر ڈوب جائیں عجب دل کی بستی، عجب دل کی وادی ہر اک موڑ موسم نئی خواہشوں کا لگائے ہیں ہم نے بھی سپنوں کے پودے مگر کیا بھروسہ یہاں بارشوں کا مرادوں کی منزل کے سپنوں میں کھوئے محبت کی راہوں پہ ہم چل پڑے تھے ذرا دور چل کے جب آنکھیں کھلیں تو کڑی دھوپ میں ہم اکیلے کھڑے تھے جنہیں دل سے چاہا، جنہیں دل سے پوجا نظر آرہے ہیں وہی اجنبی سے روایت ہے شاید یہ صدیوں پرانی شکایت نہیں ہے کوئی زندگی سے سدرشن فاکر Sadarshan Fakar