Posts

Dil Muztarib Bata Tou Koi Harf e Gard e Yaara Mujhe Izan Ho Muyasar Keh Main Jee Uthon Dobara

Image
دِلِ مضطرب بتا تو کوئی حرفِ گردِ یارہ مجھے اذن ہو میسر کہ میں جی اٹھـوں دوبارہ Dil Muztarib Bata Tou Koi Harf e Gard e Yaara Mujhe Izan Ho Muyasar Keh Main Jee Uthon Dobara وہ طبیبِ جاں کدھر ہے، اسے دے خبر کوئی تو میرے دکھ لپیٹے سارے میرا غم سمیٹے سارا

Dil Ko Mahroom Rukh e Yar Nahi Hone Diya Main Ne Yeh Aaina Zingar Nahi Hone Diya

Image
دل کو محروم رُخِ یار نہیں ہونے دیا میں نے یہ آئینہ زنگار نہیں ہونے دیا Dil Ko Mahroom Rukh e Yar Nahi Hone Diya Main Ne Yeh Aaina Zingar Nahi Hone Diya میری تعمیر کے اب عیب نہ گنوائیں مجھے آپ نے ٹھیک سے مسمار نہیں ہونے دیا ہائے کیا خواب تھا وہ خواب کہ جس نے مجھ کو عمر بھر نیند سے بیدار نہیں ہونے دیا زندگی بھر ہی مرا کام بڑھائے رکھا مجھ کو بیکاری نے بیکار نہیں ہونے دیا اس مسیحا کی مسیحائی معمہ ٹھیری جس نے مجھ کو کبھی بیمار نہیں ہونے دیا غالباً سر کو جھکانے کی روش نے میری سر مرا قابلِ دستار نہیں ہونے دیا میں اسی دل کا طرفدار ہوں غائر جس نے مجھ کو میرا ہی طرفدار نہیں ہونے دیا کاشف حسین غائر Kashif Husain Ghaer

Dil e Udas Ko Mil Jaye Ga Qarar Kahein Qubol Hon Tou Yahi Baat Neen Yar Kahein

Image
دلِ اداس کو مل جائے گا قرار، کہیں قبول ہُوں تو یہی بات تین بار کہیں Dil e Udas Ko Mil Jaye Ga Qarar Kahein Qubol Hon Tou Yahi Baat Neen Yar Kahein یہ کام ہم سے نہ ہو پائے گا کسی صورت خزاں رسیدہ شجر کو بھی سایہ دار کہیں جسے بھی دیکھیے ہنستا ہے رونے والوں پر کوئی نہیں ہے یہاں جس کو غمگسار کہیں ہمیں تو گھومتے رہنا تھا بس اسی کے گرد وہ جا چکا ہے تو اب کس کو ہم مدار کہیں کوئی ولی ہو تو انگلی اٹھائے، بات بھی ہے گناہگار بھی مجھ کو گناہگار کہیں ہزار اس ﮐﮯ مراسم نظر کے سامنے ہیں بتائیں کس طرح اس کو وفا شعار کہیں کبھی کبھی تو یہ دل چاہتا ہے بعدِ فراق سسک کے شعر کہیں اور بیشمار کہیں کومل جوئیہ Komal Joya

Chalty Chalty Kabhi Halat Se Thak Jaoun Tou Housla Daita Hai Us Waqt Tera Piyar Mujhe

Image
چلتے چلتے کبھی حالات سے تھک جاؤں تو حوصلہ دیتا ہے اس وقت ترا پیار مجھے Chalty Chalty Kabhi Halat Se Thak Jaoun Tou Housla Daita Hai Us Waqt Tera Piyar Mujhe اپنے بل پہ میں فلک کو بھی بھلے چھو آؤں ساتھ تیرا تو بہرحال ہے درکار مجھے شازیہ نورین سید Shazia Nurain Syed

Kaise Mumkin Hai Keh Main Tujh Se Juda Ho Jaoun Tu Jo Chahy Tere Honton Ki Dua Ho Jaoun

Image
کیسے ممکن ہے کہ میں تجھ سے جدا ہو جاؤں ‏تو جو چاہے ترے ہونٹوں کی دعا ہو جاؤں Kaise Mumkin Hai Keh Main Tujh Se Juda Ho Jaoun Tu Jo Chahy Tere Honton Ki Dua Ho Jaoun ‏خواہشیں کیسی ابھر آتی ہیں میرے دل میں ‏تجھ سے روٹھوں، کبھی خود سے ہی خفا ہو جاؤں ‏ایسے مت دیکھ مجھے، مجھ سے ذرا فاصلہ رکھ ‏یہ نہ ہو میں تری آنکھوں پہ فدا ہو جاؤں ‏کیا تجھے پھر مری چاہت پہ یقیں آئے گا ‏میں اگر تیری محبت میں فنا ہو جاؤں ‏روز ملنے کو جو تم _ فرض سمجھ بیٹھے ہو ‏کیا کرو گے جو کسی روز قضا ہو جاؤں ‏ہوئی جاتی ہوں میں ہلکان اسی کوشش میں ‏جو ترے دل کو لبھائے، وہ ادا ہو جاؤں ‏تیرگی دیکھ کے جی کرتا ہے میرا ن اہید ‏کسی درویش کی کٹیا کا دیا ہو جاؤں ‏ ناہید کیانی Naheed Kiani

Choda Nahi Ghairon Ne Koi Navak Dushnam Choti Nahi Apnon Se Koi Tarz Malamat

Image
چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوک دشنام چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرز ملامت Choda Nahi Ghairon Ne Koi Navak Dushnam Choti Nahi Apnon Se Koi Tarz Malamat اس عشق، نہ اس عشق پہ نادم ہے مگر دل ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغ ندامت فیض احمد فیض Faiz Ahmad Faiz

Yun Bhi Pindar e Muhabbat Ko Sanbhala Main Ne Aik Sikkay Ko Kai Bar Uchala Main Ne

Image
یوں بھی پندارِ محبت کو سنبھالا میں نے ایک سکے کو کئی بار اچھالا میں نے Yun Bhi Pindar e Muhabbat Ko Sanbhala Main Ne Aik Sikkay Ko Kai Bar Uchala Main Ne شام غم لمبی تھی اور ساتھ میں تنہائی تھی پی لیا ہجر کا کچھ یوں بھی پیالہ میں نے اس کے بدلے ہوئے لہجے نے مجھے توڑ دیا اپنے منہ کا بھی دیا جس کو نوالہ میں نے رو پڑی پیاس بھی بوندوں کا تصور کرکے لے کے مٹھی میں جو پانی کو اچھالا میں نے پوچھ بیٹھا تھا وہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے اپنی آنکھوں کا دیا اس کو حوالہ میں نے رمل اقبال Ramal Iqbal