Jahan Zad Neechay Galy Mein Tere Dar Ke Agy Yeh Main Sokhta Sar Husn Koozah Gar Hon
”حسن کوزہ گر'' “ پارٹ ١ نظم جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگے یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں Jahan Zad Neechay Galy Mein Tere Dar Ke Agy Yeh Main Sokhta Sar Husn Koozah Gar Hon تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسف کی دکان پر میں نے دیکھا تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں جہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں یہ وہ دور تھا جس میں میں نے کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب پلٹ کر نہ دیکھا وہ کوزے مرے دست چابک کے پتلے گل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاں وہ سر گوشیوں میں یہ کہتے حسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟ وہ ہم سے خود اپنے عمل سے خدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزرا کہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرے تغاروں میں مٹی کبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میں سنگ بستہ پڑی تھی صراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں مری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارے شکستہ پڑے تھے میں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہ سر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانو کسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کے گل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے...