وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو دل میں رہتا ہے، کہاں ڈھونڈنے جاؤں اس کو Woh Mere Paas Hai Kia Paas Bulaoun Usko Dil Mein Rehta Hai , Kahan Dhoondne Jaoun Usko آج پھر پہلی ملاقات سے آغاز کروں آج پھر دور سے ہی دیکھ کے آؤں اس کو قید کر لوں اسے آنکھوں کے نہاں خانے میں چاہتا ہوں کہ کسی سے نہ ملاؤں اس کو چلنا چاہے تو رکھے پاؤں مرے سینے پر بیٹھنا چاہے تو آنکھوں پہ بٹھاؤں اس کو وہ مجھے اتنا سبک اتنا سبک لگتا ہے کبھی گر جائے تو پلکوں سے اٹھاؤں اس کو مجھے معلوم ہے آخر کو جدا ہونا ہے لیکن اک بار تو سینے سے لگاؤں اس کو یاد سے اس کی نہیں خالی کوئی بھی لمحہ پھر بھی ڈرتا ہوں کہیں بھول نہ جاؤں اس کو مجھ پہ یہ راز اسی ایک حوالے سے کھلا بات اس کی ہے مگر کیسے بتاؤں اس کو یہ مرا دل، مرا دشمن مرا دیوانہ دل چاہتا ہے کہ سبھی زخم دکھاؤں اس کو آج تو دھوپ میں تیزی ہی بہت ہے ورنہ اپنے سائے سے بھی شہزادؔ بچاؤں اس کو شہزادؔ احمد Shehzad Ahmad