Aur Bhi Zakham Hoe Jate Hein Gehre Dil Ke Hum Tou Samjhe Thay Tumhein Chara Gari Aawe Hai
اور بھی زخم ہوئے جاتے ہیں گہرے دل کے ہم تو سمجھے تھے تمہیں چارہ گری آوے ہے Aur Bhi Zakham Hoe Jate Hein Gehre Dil Ke Hum Tou Samjhe Thay Tumhein Chara Gari Aawe Hai تو کبھی راگ کبھی رنگ کبھی خوشبو ہے کیسی کیسی نہ تجھے عشوہ گری آوے ہے اے مرے شہر نگاراں ترا کیا حال ہوا چپے چپے پہ مرے آنکھ بھری آوے ہے صاحبو حسن کی پہچان کوئی کھیل نہیں دل لہو ہو تو کہیں دیدہ وری آوے ہے دل میں در آوے ہے ہر صبح کوئی یاد ایسے جوں دبے پاؤں نسیم سحری آوے ہے اک قطرہ بھی لہو جب نہ رہے سینے میں تب کہیں عشق میں کچھ بے جگری آوے ہے شجر عشق تو مانگے ہے لہو کے آنسو تب کہیں جا کے کوئی شاخ ہری آوے ہے خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہے کس بلا کی تمہیں جادو نظری آوے ہے اور بھی زخم ہوئے جاتے ہیں گہرے دل کے ہم تو سمجھے تھے تمہیں چارہ گری آوے ہے آپ اپنے کو بھلانا کوئی آسان نہیں بڑی مشکل سے میاں بے خبری آوے ہے جانثار اختر Jan Nisar Akhtar