Posts

Kyun Tere Saath Rahein Umar Basar Hone Tak Hum Na Daikheingy Imarat Ko Khandar Hone Tak

Image
کیوں ترے ساتھ رہیں عمر بسر ہونے تک ہم نہ دیکھیں گے عمارت کو کھنڈر ہونے تک Kyun Tere Saath Rahein Umar Basar Hone Tak Hum Na Daikheingy Imarat Ko Khandar Hone Tak تم تو دروازہ کھلا دیکھ کے در آئے ہو تم نے دیکھا نہیں دیوار کو در ہونے تک چپ رہیں، آہ بھریں، چیخ اٹھیں یا مر جائیں کیا کریں بے خبرو تم کو خبر ہونے تک ہم پہ کر دھیان ارے چاند کو تکنے والے چاند کے پاس تو مہلت ہے سحر ہونے تک حال مت پوچھیے کچھ باتیں بتانے کی نہیں بس دعا کیجیے دعاؤں میں اثر ہونے تک سگ آوارہ کے مانند محبت کے فقیر در بدر ہوتے رہے شہر بدر ہونے تک دشت خاموش میں دم سادھے پڑا رہتا ہے پاؤں کا پہلا نشاں راہگزر ہونے تک فانی ہونے سے نہ گھبرائیے فارسؔ کہ ہمیں ان گنت مرتبہ مرنا ہے امر ہونے تک رحمان فارسؔ Rehman Faris

Mana Keh Tere Dil Mein Koi Aur Makeen Hai Tu Phir Bhi Mera Dil Hai Aqeeda Hai Yaqeen Hai

Image
مانا کہ تیرے دل میں کوئی اور مکیں ھے تو پھر بھی میرا دل ھے عقیدہ ھے یقین ھے Mana Keh Tere Dil Mein Koi Aur Makeen Hai Tu Phir Bhi Mera Dil Hai Aqeeda Hai Yaqeen Hai پلکوں سے کبھی ہم نے تراشا تھا جو پتھر مت پوچھ اب وہ کس کی انگوٹھی کا نگیں ھے

Gham Ke Maron Ki Baat Karte Ho Toote Taron Ki Baat Karte Ho

Image
غم کے ماروں کی بات کرتے ہو ٹوٹے تاروں کی بات کرتے ہو Gham Ke Maron Ki Baat Karte Ho Toote Taron Ki Baat Karte Ho وقت پڑنے پہ کون کام آیا؟ کن سہاروں کی بات کرتے ہو زندگی کا حباب اور بھنور تم کناروں کی بات کرتے ہو عمر بھر کون ساتھ دیتا ہے تم بھی پیاروں کی بات کرتے ہو ؟ ڈوب جاتے ہیں دن نکلتے ہی ان ستاروں کی بات کرتے ہو چھوڑ کر وحشتیں بیاباں کی سبزہ زاروں کی بات کرتے ہو ؟ ہم نے اک عمر کاٹ دی تنہا تم سہاروں کی بات کرتے ہو فرزانہ ساجد Farzana Sajid

Jab Jab Dard Ka Badal Chaya Jab Gham Ka Saya Lehraya

Image
ﺟﺐ ﺟﺐ ﺩَﺭﺩ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﻝ ﭼﮭﺎﯾﺎ ﺟﺐ ﻏَﻢ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﻟﮩﺮﺍﯾﺎ Jab Jab Dard Ka Badal Chaya Jab Gham Ka Saya Lehraya ﺟﺐ ﺁﻧﺴُﻮ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﺗﮏ ﺁﯾﺎ. ﺟﺐ ﯾﮧ ﺗﻨﮩﺎ ﺩِﻝ ﮔﮭﺒﺮﺍﯾﺎ۔ ھﻢ ﻧﮯ ﺩِﻝ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ اے ﺩﻝ ﺁﺧﺮ ﺗُﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭﺗﺎ ﮬﮯ؟ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﻧﮩﯽ ھﻮﺗﺎ ﮬﮯ۔ ﯾﮧ ﺟﻮ ﮔﮩﺮﮮ ﺳَﻨﺎﭨﮯ ھﯿﮟ ﻭَﻗﺖ ﻧﮯ ﺳﺐ ھﯽ ﮐﻮ ﺑﺎﻧﭩﮯ ھﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻏَﻢ ھﮯ ﺳﺐ ﮐﺎ ﻗِﺼﮧ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩُﮬﻮﭖ ھﮯ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺣِﺼّﮧ۔ ﺁﻧﮑﮫ ﺗﯿﺮﯼ بیکار ھﯽ ﻧَﻢ ﮬﮯ ھﺮ ﭘﻞ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮬﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺗُﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﭘﻞ ﮐﮭﻮﺗﺎ ﮬﮯ اے ﺩﻝ ﺁﺧﺮ ﺗُﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭﺗﺎ ﮬﮯ؟ جاوید اَختر Javed Akhtar

Ka'abay Ka Shoq Hai Na Sanam Khana Chahiye Janana Chahiye Dar Janana Chahiye

Image
کعبے کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہئے جانانہ چاہئے در جانانہ چاہئے Ka'abay Ka Shoq Hai Na Sanam Khana Chahiye Janana Chahiye Dar Janana Chahiye ساغر کی آرزو ہے نہ پیمانہ چاہئے بس اک نگاہ مرشد مے خانہ چاہئے حاضر ہیں میرے جیب و گریباں کی دھجیاں اب اور کیا تجھے دل دیوانہ چاہئے عاشق نہ ہو تو حسن کا گھر بے چراغ ہے لیلیٰ کو قیس شمع کو پروانہ چاہئے پروردۂ کرم سے تو زیبا نہیں حجاب مجھ خانہ زاد حسن سے پردا نہ چاہئے شکوہ ہے کفر اہل محبت کے واسطے ہر اک جفائے دوست پہ شکرانہ چاہئے بادہ کشوں کو دیتے ہیں ساغر یہ پوچھ کر کس کو زکوٰۃ نرگس مستانہ چاہئے بیدمؔ نماز عشق یہی ہے خدا گواہ ہر دم تصور رخ جانانہ چاہئے

Abhi Na Jao Chorh Kar Keh Dil Abhi Bhara Nahi

Image
ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں Abhi Na Jao Chorh Kar Keh Dil Abhi Bhara Nahi ابھی ابھی تو آئے ہو بہار بن کے چھائے ہو ہوا ذرا مہک تو لے نظر ذرا بہک تو لے یہ شام ڈھل تو لے ذرا یہ دل سنبھل تو لے ذرا میں تھوڑی دیر جی تو لوں نشے کے گھونٹ پی تو لوں ابھی تو کچھ کہا نہیں ابھی تو کچھ سُنا نہیں ستارے جھلملا اُٹھے چراغ جگمگا اُٹھے بس اب نہ مجھ کو ٹوکنا نہ بڑھ کے راہ روکنا اگر میں رُک گیا ابھی تو جا نہ پاؤں گا کبھی یہی کہو گے تم سدا کہ دل ابھی نہیں بھرا جو ختم ہو کسی جگہ یہ ایسا سلسلہ نہیں ابھی نہیں , ابھی نہیں نہیں نہیں.. نہیں نہیں ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں ادھوری آس چھوڑ کے جو روز یونہی جاؤ گے تو کس طرح نبھاؤ گے کہ زندگی کی راہ میں جواں دلوں کی چاہ میں کئی مقام آئیں گے جو ہم کو آزمائیں گے بُرا نہ مانو بات کا یہ پیار ہے، گلہ نہیں ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں یہی کہو گے تم صدا کہ دل ابھی بھرا نہیں ہاں دل ابھی بھرا نہیں نہیں نہیں.. نہیں نہیں ساحر لدھیانوی Sahir Ludhyanvi

Agar Woh Khuwab Mein Aaein Toh Khuwab Ho Jaein Kisi Tarah Se Toh Woh Hum-Rakab Ho Jaein

Image
اگر وہ خواب میں آئیں تو خواب ہو جائیں کسی طرح سے تو وہ ہم رکاب ہو جائیں Agar Woh Khuwab Mein Aaein Toh Khuwab Ho Jaein Kisi Tarah Se Toh Woh Hum-Rakab Ho Jaein سُنا ہے اُن کو بھی اب درگزر کی عادت ہے اسی بہانے چلو ہم خراب ہو جائیں سُنا ہے رکھتے نہیں کوئی بھی حساب وہ اب بُرا نہ مانیں تو ہم بے حساب ہو جائیں سُنا ہے اُن کو لُبھاتیں ہیں خوشبویں شب بھر وہ پاس آئیں تو کِھل کے گلاب ہو جائیں سُنا ہے سونا اُگلتی جہاں ہوں وہ مٹی چلو گِراں کریں خود کو تراب ہو جائیں سُنا ہے نظریں جھکا کے وہ بات کرتے ہیں جو بات سچ ہے تو پھر بے حجاب ہو جائیں سُنا ہے وہ بھی برستے ہیں ابر کے ہمدم جو برسے خوب گرج کر وہ آب ہو جائیں کوئی کلام نہیں، ہیں وہ بے مثال رضا سوال کیسا بھی ہو وہ جواب ہو جائیں سید محتشم رضا Sayed Muhtashim Raza