مجھ سا نہ دے زمانے کو پروردگار دل آشفتہ دل، فریفتہ دل بیقرار دل Mujh Sa Na Dy Zamany Ko Parwardegar Dil Aashita Dil , Farefta Dil Beqarar Dil ہر بار مانگتی ہیں نیا چشم یار دل اک دل کے کس طرح سے بناؤں ہزار دل یہ صید گاہ عشق ہے ٹھہرائیے نگاہ صیاد مضطرب سے نہ ہو گا شکار دل پوچھا جو اس نے طالب روز جزا ہے کون نکلا مری زبان سے بے اختیار دل کرتے ہو عہد وصل تو اتنا رہے خیال پیمان سے زیادہ ہے ناپائیدار دل تاثیر عشق یہ ہے ترے عہد حسن میں مٹی کا بھی بنائیں تو ہو بیقرار دل اس کی تلاش ہے کہ نظر آئے آرزو ظالم نے روز چاک کیے ہیں ہزار دل پہلے پہل کی چاہ کا کیجیے نہ امتحاں آنا تو سیکھ لے ابھی دو چار بار دل اے عندلیب تجھ کو لگے کب ہوائے عشق کلیوں کی طرح تجھ میں نہ پھوٹے ہزار دل اس نے کہا ہے صبر پڑے گا رقیب کا لے اور بیقرار ہوا بیقرار دل مشہور ہیں سکندر و جم کی نشانیاں اے داغؔ چھوڑ جائیں گے ہم یادگار دل مرزا داغؔ دہلوی Mirza Dagh Dehlvi