Aik Taweel Sham Hai , Sham Bhi Ajeeb Hai Is Jahan e Kar Ke Kam Bhi Ajeeb Hai
ایک طویل شام ہے، شام بھی عجیب ہے اس جہانِ کار کے کام بھی عجیب ہے Aik Taweel Sham Hai , Sham Bhi Ajeeb Hai Is Jahan e Kar Ke Kam Bhi Ajeeb Hai سحر تو ہوئی نہیں اور شام ہو گئی دل ابھی بھرا نہیں وصل کی اس رات سے یہ جگہ، یہ بزم، یہ مقام بھی عجیب ہے خط میں کچھ لکھا نہیں، ورق سادہ کیوں رکھا؟ نامہ بر کو تم نے یوں بے ارادہ کیوں رکھا؟ جو مل گیا ہے بے کہے، وہ پیام بھی عجیب ہے مے کشی تو چھوڑ دی، بس ایک کام رہ گیا بھرا ہوا جو جام تھا، وہ تشنہ کام رہ گیا بھرے ہوئے اس جام کا دام بھی عجیب ہے دھوپ میں بھی ٹھنڈ تھی، تپش میں بھی حیات تھی محبتوں کے کھیل میں، آس ہی نجات تھی تپ رہا ہے آج جو، وہ بام بھی عجیب ہے فہمیدہ ناز غوری Fahmeeda Naz Ghory