Apni Nazron Ko Hata Lejiye Sab Dekhty Hein Go Aqeedat Hai Magar Log Yeh Kab Daikhty Hein
اپنی نظروں کو ہٹا لیجیے سب دیکھتے ہیں گو عقیدت ہے مگر لوگ یہ کب دیکھتے ہیں Apni Nazron Ko Hata Lejiye Sab Dekhty Hein Go Aqeedat Hai Magar Log Yeh Kab Daikhty Hein ہجر کی رات مناجات میں رو کر گزری رنگ کیا لائیں مناجات یہ اب دیکھتے ہیں یوں بظاہر تو ملاقات کا امکان نہیں بن ہی جائے گا کبھی کوئی سبب دیکھتے ہیں ان پہ کھل جائے نہ آنکھوں سے دلِ زار کا حال ہم جھکا لیتے ہیں پلکوں کو وہ جب دیکھتے ہیں ہم نہ تیار کبھی ترکِ انا پر ہوں گے کتنا لاچار کرے گی یہ طلب، دیکھتے ہیں کل ملاقات کا وعدہ ہے مگر کیا معلوم سانس کی ڈور کٹے پہلے یا شب، دیکھتے ہیں وقتِ رخصت وہ ہمیں دیکھنا ان کا جیسے آخری ایک نظر جان بہ لب دیکھتے ہیں ان کی خاموشی میں کیا شور چھپا ہے آخر چپ کے سینے میں دبا ہے جو غضب، دیکھتے ہیں آخری سانس کی جھنکار کی کب ٹوٹے تان کب تلک جوش میں ہے بزمِ طرب، دیکھتے ہیں شگفتہ نعیم ہاشمی Shagufta Naeem Hashmy