Dil Kis Se Lagaon , Kahein Dilbar Nahi Milta Kia Zulam Sahon Koi Sitamgar Nahi Milta
دل کس سے لگاؤں، کہیں دلبر نہیں ملتا کیا ظلم سہوں کوئی ستمگر نہیں ملتا Dil Kis Se Lagaon , Kahein Dilbar Nahi Milta Kia Zulam Sahon Koi Sitamgar Nahi Milta کیا خاک مداوا کریں شوریدہ سری کا سر پھوڑنے کو ڈھونڈھیں تو پتھر نہیں ملتا گنجل نہیں مٹتی جو طبیعت میں پڑی ہے دل تجھ سے کسی طور سے دلبر نہیں ملتا جو زخم کو سینے کے سیے، ٹانکے جگر کو ایسا کوئی استاد رفوگر نہیں ملتا رند لکھنوی Rind Lakhnowi