Aik Darwaza Khulta Hai Parion Jaise Gavon Mein Rah Mein Madh Ban PaRta Hai Onchay CheeR Ki Chaoun Mein
اک دروازہ کھلتـــــــا ہے پریوں جیسے گاؤں میں راہ میں مدھ بن پڑتا ہے اونچے چیڑ کی چھاؤں میں Aik Darwaza Khulta Hai Parion Jaise Gavon Mein Rah Mein Madh Ban PaRta Hai Onchay CheeR Ki Chaoun Mein وہ پگڈنڈی جس پر لیلیٰ اب تک رستہ دیکھتــــــی ہے اب تک سرسوں پھول رہی ہے اُن رنگین فضاؤں میں بوڑھے برگد پر اب تک آسیب بسیرا کرتــــــا ہے جھولے سونے سونے ہیں ساون کی مست فضاؤں میں تیرے میرے دل کی کہانی دنیا میں مشہـــــــــور رہی رانجھا ہیر کے قصے سنتے آئے رقص کتھاؤں میں وہ بچپن جو اب تک دل میں چھپ چھپ کر مسکا تا ہے سوچتے ہیں چھوڑ آئیں اس کو دور دراز خـلاؤں میں شائستہ مفتی Shaista Mufty