Posts

Mujhe Chod Tu Jise Ja Mila , Tujhe Kia Mila Mujhe Umar Bhar Ka Khla Mila Tujhe Kia Mila

Image
مجھے چھوڑ تو جسے جا ملا، تجھے کیا ملا مجھے عمر بھر کا خلا ملا تجھے کیا ملا Mujhe Chod Tu Jise Ja Mila , Tujhe Kia Mila Mujhe Umar Bhar Ka Khla Mila Tujhe Kia Mila تو گیا تو تجھ پہ وفا کے در سبھی بند تھے مجھے میکدہ تو کھلا ملا تجھے کیا ملا میں تیری تلاش میں دور تک تھا بھٹک گیا مجھے راستے میں خدا ملا تجھے کیا ملا تیرے بعد جب ہوا آئینوں کے میں روبرو میرا چہرہ مجھ سے خفا ملا تجھے کیا ملا ِصفِ دشمناں کو نوید تھی، گویا عید تھی میرا سر جو تن سے جدا ملا تجھے کیا ملا میرے قتل پر میری ذات کی ہوئی جانچ جب میرا شجرہ عشق سے جا ملا تجھے کیا ملا تو نہیں تھا مظہرِ جاں مگر تیرا نقشِ پا مجھے رہگزر پہ پڑا ملا تجھے کیا ملا

Pursa Hai , Tasally Hai , Dilasa Hai Keh Tum Ho Har Gham Ka Yahi Aik Madawa Hai Keh Tum Ho

Image
پرسہ ہے، تسلی ہے، دلاسہ ہے کہ تم ہو ہرغم کا یہی ایک مداوا ہے کہ تم ہو Pursa Hai , Tasally Hai , Dilasa Hai Keh Tum Ho Har Gham Ka Yahi Aik Madawa Hai Keh Tum Ho اب مجھ کو کوئی فکر زمانے کی نہیں ہے بیٹھے ہوئے پہلو میں یہ اچھا ہے کہ تم ہو اک دشت کو جاتی ہوئی سنسان سڑک میں گلزار کو جاتا ہوا رستہ ہے کہ تم ہو میں سامنے بیٹھا جو تمھیں دیکھ رہا ہوں یہ میرا تخیل ہے کہ سپنا ہے کہ تم ہو میں کیوں نہ کروں ناز کہ تم پاس ہو میرے اس بات پہ تو فخر بھی بنتا ہے کہ تم ہو کل چھوڑ گئے تم تو مرا کیا ہی بنے گا اس وقت تو میں نے بھی یہ مانا ہے کہ تم ہو اک بار جو دیکھے تمھیں، وہ دیکھتا جائے اک نورِ مجسم کا سراپا ہے کہ تم کو دیکھو تو بدن لمس سے جلنے لگا میرا دہکی سی کسی آگ کا شعلہ ہے کہ تم ہو یہ ہونٹ، یہ رخسار، یہ شبنم سا پسینہ کھِلتا ہوا کوئی گلِ تازہ ہے کہ تم ہو دن بھر کی تھکاوٹ کے اترنے کی سہولت آنکھوں پہ مری نیند کا پہرا ہے کہ تم ہو خوشبو یہ مرے گھر میں چلی آئی کہاں سے آنگن میں کوئی پھول سا مہکا ہے کہ تم ہو میں ہجر کی گزری ہوئی راتوں کی کسک ہوں اک وصل کا ٹھہرا ہوا لمحہ ہے کہ تم ہو ویسے تو سبب زیست کا کوئی نہ...

Muhabbat Se Mukarte Ho Tumhara Masla Kia Hai Muhabbat Phir Bhi Karte Ho , Tumhara Masla Kia Hai

Image
محبت سے مکرتے ہو تمہارا مسئلہ کیا ہے محبت پھر بھی کرتے ہو، تمہارا مسئلہ کیا ہے Muhabbat Se Mukarte Ho Tumhara Masla Kia Hai Muhabbat Phir Bhi Karte Ho , Tumhara Masla Kia Hai کبھی ہلکی سی آہٹ پر درِ دل کھول دیتے ہو کبھی دستک سے ڈرتے ہو، تمہارا مسئلہ کیا ہے اگر گہرائی سے ڈرتے ہو تو تالاب میں اترو میرے دل میں اترتے ہو، تمہارا مسئلہ کیا ہے کبھی کہتے ہو _ کتنی خوبصورت ہیں تیری پلکیں کبھی آنکھوں پہ مرتے ہو، تمہارا مسئلہ کیا ہے کوئی کھڑکی نہیں کھلتی تو  اپنا راستہ بدلو گلی سے ہی گزرتے ہو، تمہارا مسئلہ کیا ہے اکرام عارفی Ikram Aarifi

Mar Gaye Toh Phir Kahan Yeh Husn e Zar e Zindagi Zakhm e Dil Gehra Buhat Hai Phir Bhi Jeena Chahiye

Image
مَر گئے تو پھر کہاں یہ حُسنِ زارِ زندگی زخمِ دِل گہرا بہت ہے پھر بھی جینا چاہیے Mar Gaye Toh Phir Kahan Yeh Husn e Zar e Zindagi Zakhm e Dil Gehra Buhat Hai Phir Bhi Jeena Chahiye منیرؔ نیازی Munir Niazi

Aaj Phir Yaad Aa Gaya Koi Hansty Hansty Rula Gaya Koi

Image
آج پھر یــــــــاد آ گیــــــــا کوئی ہنستے ہنستے رلا گیـــــا کوئی Aaj Phir Yaad Aa Gaya Koi Hansty Hansty Rula Gaya Koi چند لمحـــوں کی ہی رفاقت میں سارے رشتے نبھا گیــــــا کوئی ابر باراں سی یـــــاد تھی اس کی سارے امبر پہ چھا گیـــــا کوئی یوں صــــلہ دے گیا وفـــاؤں کا زخــــــم کاری لگا گیــــــا کوئی زندگی کے غبــــار رستوں میں مجھ کو جینا سکھا گیــــــا کوئی آنکھ میں یوں خمــــــار ٹھہرا ہے ایک سپنــــا دکھا گیـــــــــا کوئی تو ہی بس تو ہی ہر جگہ موجود سر بہ سجدہ جھکا گیـــــــا کوئی شائستہ مفتی Shaista Mufty

Us Ne Har Cheez Yahan Hasb e Zarorat Di Hai Dagh Is Dil Ko , Usay Chand See Sorat Di Hai

Image
اُس نے ہر چیز یہاں حسب ِ ضرورت دی ہے داغ اِس دل کو، اُسے چاند سی صورت دی ہے Us Ne Har Cheez Yahan Hasb e Zarorat Di Hai Dagh Is Dil Ko , Usay Chand See Sorat Di Hai آج سوچا ہے تو آنسو نہیں تھمتے اپنے کِس نے اِس دل کو کہاں، کتنی اذیت دی ہے کون سے شہر میں اُترا ہے مِری رات کا چاند کِس کے دروازے کو اُس ہاتھ نے عزت دی ہے کیوں نہ دو چار گھڑی کوئے ملامت میں رہیں گردش ِ وقت نے گر تھوڑی سی مُہلت دی ہے آج پِھر اُس کی نگاہوں کا اشارہ پا کر ہم نے اِس دِل کو دھڑکنے کی اجازت دی ہے شاہین مفتی Shaheen Mufty

Phir Se Tere Naqoosh Nazar Peh Aayan Hoe Lo Phir Wisal eYar Ke Lamhe Jawan Hoe

Image
پھر سے ترے نقوش نظر پہ عیاں ہوئے لو پھر وصال یار کے لمحے جواں ہوئے Phir Se Tere Naqoosh Nazar Peh Aayan Hoe Lo Phir Wisal eYar Ke Lamhe Jawan Hoe اک بات بڑھ کے باعث ناراضگی ہوئی کچھ لفظ منہ سے نکلے تو آہ و فغاں ہوئے تیرے سبھی دروغ وجاہت میں چھپ گئے اور میری صاف بات پہ کتنے گماں ہوئے کیونکر کریں گے یاد وہ درد فراق میں ہم اس قدر قریب بھی ان کے کہاں ہوئے مہلت ہی کب ملی کہ سنبھل پاتے ہم قمرؔ ہم پر تو جتنے ظلم ہوئے ناگہاں ہوئے