Yahi Nahi Keh Faqat Bal o Par Nahi Rehty Ab Udne Wale Parendon Ke Sar Nahi Rehty
یہی نہیں کہ فقط بال و پَر نہیں رہتے اب اُڑنے والے پرندوں کے سَر نہیں رہتے Yahi Nahi Keh Faqat Bal o Par Nahi Rehty Ab Udne Wale Parendon Ke Sar Nahi Rehty یہ جِن کی سسکیاں فُٹ پاتھ پر ہیں بکھری ہوئی یہ کون لوگ ہیں کیوں اپنے گھر نہیں رہتے ہمارے دوست فراموش کر چکے ہیں ہمیں ہم اپنے شہر میں رہتے ہیں پر نہیں رہتے بتایا روتے ہوئے در نے میری دستک کو کہ اِس مکاں کے مکیں اب اِدھر نہیں رہتے مسافرت میں ہوئی رات جب تو ہم پہ کھلا کہ اب چراغ سرِ رہگذر نہیں رہتے جو آج خود کو سمجھتے ہیں رونق ِ ہستی سمے گزرتا ہے اور بیشتر نہیں رہتے کوئی نقاب نہیں اور کوئی حجاب نہیں تمہارے شہر میں کیا بد نظر نہیں رہتے وہ دیکھ غور سے آنکھیں ملنگ بابا کی جو اِن میں جھانک لیں، وہ بے خبر نہیں رہتے بتا رہی ہے یہ آرائشِ غزل واصفؔ سخن کدوں میں اب اہلِ ہنر نہیں رہتے جبّار واصفؔ Jabbar Wasif