Sheesha e Dil Se Tera Naqsh Mitaya Kab Hai Chodny Wale Tujhe Dil Se Bhulaya Kab Hai
شیشۂ دل سے ترا نقش مٹایا کب ہے چھوڑنے والے تجھے دل سے بھلایا کب ہے Sheesha e Dil Se Tera Naqsh Mitaya Kab Hai Chodny Wale Tujhe Dil Se Bhulaya Kab Hai یہ تو آغاز ہے جس پر تیری چیخیں نکلیں قصۂ درد ابھی پورا سنایا کب ہے عمر بھر میں نے تجھے ساتھ گھسیٹا اپنے زندگی تو نے مرا ساتھ نبھایا کب ہے چھوٹے لوگوں سے بڑی بات کی امید نہیں تیری باتوں کا برا میں نے منایا کب ہے کوئی دلچسپ تماشہ ہے تہہِ خاک بپا کہ وہاں جو بھی گیا، لوٹ کے آیا کب ہے ایک انگلی کے اٹھانے پہ ترا حال ہے یہ تجھ پہ کم ظرف ابھی ہاتھ اٹھایا کب ہے خشک آنکھوں سے ترا ہجر منایا میں نے صورتِ اشک ابھی اس کو بہایا کب ہے درِ دل پر ہے ترے نام کی تختی اب بھی دوسرا شخص یہاں کوئی بسایا کب ہے صرف کھینچا ہے رجب ہاتھ ذرا سا پیچھے اس کے ہاتھوں سے ابھی ہاتھ چھڑایا کب ہے رجب چوہدری Rajab Chodhry