آ جا کہ ترے شہر میں دو چار گھڑی ہوں آ جا کے مرے دل نے تجھے یاد کیا ہے Aa Ja Keh Tere Shehar Mein Do Char Ghadhi Hon Aa Ja Ke Mere Dil Ne Tujhe Yaad Kia Hai بکھری ہوئی سانسوں کی کڑی ٹوٹ نہ جائے کس موڑ پہ لا کر ہمیں آزاد کیا ہے مدت سے تری راہ میں آنکھیں ہیں بچھائیں پوچھا ہی نہیں تو نے کہ فریاد کیا ہے منزل کی ہوس تھی، نہ کوئی شوقِ مسافت ہم نے تو بس اک عمر کو برباد کیا ہے اب کس سے کہیں قصۂ ویرانیِ دوراں کس شخص نے اس شہر کو آباد کیا ہے پہلے تو سکھایا ہمیں مہر و وفا کا فن پھر وقت نے خود ہم کو ہی استاد کیا ہے جس درد کو سینے میں چھپائے رکھا ہم نے اس درد نے اب لہجے کو فولاد کیا ہے دنیا میں کہاں پہلے کوئی رسمِ وفا تھی ہم نے ہی یہ دستور بھی ایجاد کیا ہے توڑا ہے کچھ اس طرح سے پیمانِ محبت دیکھا ہی نہیں تو نے کہ دلشاد کیا ہے دلشاد نسیم Dilshad Naseem