تُجھ کو مَعلوم نہیں، تُجھ کو بَھلا کیا مَعلوم تیرے چہرے کے یہ سادہ سے، اَچُھوتے سے نَقوش Tujh Ko Maloom Nahi , Tujh Ko Bhala Kia Maloom Tere Chehre Ke Yeh Sada Se , Achotay Se Naqoosh میرے تخّیل کو کیا رَنگ عَطا کرتے ہیں تیری زُلفیں، تیری آنکھیں، تیرے عارِض، تیرے ہونٹ کیسی اَنجانی سی، مَعصُوم خطا کرتے ہیں تیرے قامت کا لَچکتا ہوا مَغرور تناؤ جیسے پُھولوں سے لَدی شاخ ہوا میں لہرائے وہ چَھلکتے ہوئے ساغر سی جوانی، وہ بَدن جیسے شُعلہ سا نِگاہوں میں لپک کر رہ جائے خلوتِ بَزم ہو یا جَلوتِ تنہائی ہو تیرا پیکر میری نظروں میں اُبَھر آتا ہے کوئی ساعت ہو، کوئی فِکر ہو، کوئی ماحول مجھ کو ہر سمت تیرا حُسن نظر آتا ہے چَلتے چَلتے جو قدم آپ ٹِھٹَھک جاتے ہیں سوچتا ہوں کہ کہیں تُو نے پُکارا تو نہیں گُم سی ہو جاتی ہیں نَظریں تو خیال آتا ہے اِس میں پنہاں تیری آنکھوں کا اِشارہ تو نہیں دُھوپ میں سایہ بھی ہوتا ہے گُریزاں جِس دَم تیری زُلفیں میرے شانوں پہ بِکھر جاتی ہیں جُھک کے جب سَر کِسی پتھر پہ ٹِکا دیتا ہوں تیری بانہیں میری گردن میں اُتر آتی ہیں آنکھ لگتی ہے تو دِل کو یہ گماں ہوتا ﮬﮯ سر بالیں کوئی بیٹھا ہے...