Ajab Sawal Tha Uska Jawab Kia Daiti Usi Ko Toot Ke Chaha , Hisab Kia Daiti
عجب سوال تھا اس کا، جواب کیا دیتی اسی کو ٹوٹ کے چاہا، حساب کیا دیتی Ajab Sawal Tha Uska Jawab Kia Daiti Usi Ko Toot Ke Chaha , Hisab Kia Daiti وہ جس نے میرا ہر اک لفظ جھوٹ ہی جانا میں اس کے ہاتھ میں دل کی کتاب کیا دیتی تمام عمر گزاری ہے دل جلاتے ہوئے اب اس سے بڑھ کے میں خود کو عذاب کیا دیتی وہ مجھ سے مانگنے آیا تھا چاہتیں میری میں اس کو ٹوٹے ہوئے اپنے خواب کیا دیتی میری ہتھیلی پہ کچھ اشک، کچھ ستارے تھے اس آفتاب کو میں ماہتاب کیا دیتی بہار میری طرف دیکھتی تھی حسرت سے وہ خار خار تھی مجھ کو گلاب کیا دیتی ناز فاطمہ Naz Fatima