بدگمانوں کو کہاں دل کے مکیں روکتے ہیں جن کو احساس محبت، نہ یقیں روکتے ہیں Badgumaniyun Ko Kahan Dil Ke Makeen Rokty Hein Jin Ko Ihsas Muhabbat , Na Yaqeen Rokty Hein کاش وہ ہوتا زُباں اِن کی سمجھنے والا یہ جو آنسو ہیں، اسے اپنے تئیں روکتے ہیں منہ کے بل ہم کو گرانے کا قصد رکھتی ہے اپنی رفتارِ تمنا کو یہیں روکتے ہیں خاک زادوں کے مسائل تو بہت ہوتے ہیں بات کرنے سے مگر تخت نشیں روکتے ہیں میں یہیں آپ یہیں ہیں تو چلو دیکھتے ہیں کیسے یہ گھومے ہوئے لوگ زمیں روکتے ہیں ہاتھ سے پونچھ رہے ہو مرے آنسو لیکن ایک دریا کی گزر گاہ نہیں روکتے ہیں کومل جوئیہ Komal Joya