Posts

Aankhon Mein Hi Reh Jata Hai Deewany Ka Khuwab Maikhany Mein Reh Jata Hai Maikhany Ka Khuwab

Image
آنکھوں میں ہی رہ جاتا ہے دیوانے کا خواب میخانے میں رہ جاتا ہے میخانے کا خواب Aankhon Mein Hi Reh Jata Hai Deewany Ka Khuwab Maikhany Mein Reh Jata Hai Maikhany Ka Khuwab جوش میں آ کر ہوش گنوائے، من کیسا سودائی کہتا تھا کہ پورا ہو گا مستانے کا خواب موت کی دستک آ پہنچی ہے، اب تو آن ملو شاید اب پورا ہوجائے سرہانے کا خواب برسوں بعد شمع کی لو پر تھرکی ہے نوخیزی شاید محفل میں پورا ہو پروانے کا خواب بند گلی میں دستک جیسے بند کواڑوں پر ہو بھیج دیا ہو خط میں جیسے انجانے کا خواب سامنے آ کر بیٹھیں وہ اور خلوت میں لَجّائیں نقش بھی دیکھیں کیا ہوتا ہے شرمانے کا خواب سہیل نقش Sohail Naqsh

Usay Kehna Qasam Ly Lo

Image
اُسے کہنا قسم لے لو Usay Kehna Qasam Ly Lo تُمہارے بعد جو ہم نے کسی کا خواب دیکھا ہو کسی کو ہم نے چاہا ہو کسی کو ہم نے سوچا ہو کسی کی آرزو کی ہو کسی کی جستجو کی ہو کسی کی راہ دیکھی ہو اسے کہنا قسم لے لو کسی کا قرب مانگا ہو کسی کو ساتھ رکھا ہو کسی سے آس رکھی ہو کوئی امید باندھی ہو کوئی دل میں اتارا ہو کوئی تُم سے پیارا ہو اُسے کہنا قسم لے لو کوئی دل میں بسایا ہو کوئی اپنا بنایا ہو کوئی روٹھا ہو تو ہم نے اُسے رو رو منایا ہو کسی کی یاد کا موسم میرے آنگن میں آیا ہو اُسے کہنا قسم لے لو کسی سے بات کرنے کو کبھی یہ ہونٹ ترسے ہوں کسی کی بیوفائی پر کبھی یہ نین برسے ہوں کبھی راتوں کو اٹھ اٹھ کر تیرے دکھ میں نہ روۓ ہوں تُمہارے بعد اک پل بھی اگر جو چین سے سوۓ ہوں اُسے کہنا قسم لے لو کبھی جگنو، کبھی تارا کبھی ماہتاب دیکھا ہو اُسے کہنا قسم لے لو تُمہارے بعد ہم نے جو کسی کا خواب دیکھا ہو اُسے کہنا قسم لے لو

Tumhare Husn Ke Jalway Samaitny Ke Liye Gada e Ishq Sar e Rah Dil Bichaye Ga

Image
تمہارے حُسن کے جلوے سمیٹنے کے لیے گدائے عشق سرِ راہ دل بچھائے گا Tumhare Husn Ke Jalway Samaitny Ke Liye Gada e Ishq Sar e Rah Dil Bichaye Ga تیرے فراق کا مارا ہوا مسیح میرے مجھے وصال سے اپنے تو کب جِلائے گا عاصم مجید Asim Majeed

Khud Se Juda Hoe , Na Teri Zaat Mein Rahe Hum Yunhi Sham e Gham Ki Hawalat Mein Rahe

Image
خود سے جدا ہوئے، نہ تیری ذات میں رہے ہم یونہی شامِ غم کی حوالات میں رہے Khud Se Juda Hoe , Na Teri Zaat Mein Rahe Hum Yunhi Sham e Gham Ki Hawalat Mein Rahe اک شہرِ خواب ہم نے بسایا تھا اور پھر اس میں رہے، نہ اس کے مضافات میں رہے کس عرصۂ فریب کی وحشت میں تھے کہ ہم دن میں ہی رہ سکے، نہ کہیں رات میں رہے میں جس کے روز و شب میں زمانوں سے قید ہوں مر جائے وہ اگر میرے حالات میں رہے کیوں چھینتا ہے مجھ سے میرا سایۂ وجود سورج سے کوئی کہہ دو کہ اوقات میں رہے ہر بار کوئی بات ادھوری رہا کرے ہر بار تشنگی سی ملاقات میں رہے اظہر نقوی Azhar Naqvi

Aaghaz e Muhabbat Toh Bada Qalb e Nasheen Hai Anjam e Muhabbat Ki Khabar Mujh Ko Nahi Hai

Image
آغازِ محبت تو بڑا قلبِ نشیں ہے انجامِ محبت کی خبر مجھ کو نہیں ہے Aaghaz e Muhabbat Toh Bada Qalb e Nasheen Hai Anjam e Muhabbat Ki Khabar Mujh Ko Nahi Hai یہ فیضِ محبت ہے محبت کے تصدّق میں اور کہیں ہوں، میرا دل اور کہیں ہے

Dua e Marg Hai Aur Khuwab Zindagi Ke Hein Yeh Dono Rang Faqat Aik Hai Basi Ke Hein

Image
دعائے مرگ ہے اور خواب زندگی کے ہیں یہ دونوں رنگ فقط ایک بے بسی کے ہیں Dua e Marg Hai Aur Khuwab Zindagi Ke Hein Yeh Dono Rang Faqat Aik Hai Basi Ke Hein اگر وہ شوخیاں کرنے لگے تو کیا ہو گا ہم ایسے لوگ تو گھائل ہی سادگی کے ہیں نہ زخم سہنے کی ہم میں سکت، نہ دینے کی نہ دوستی کے ہیں قابل، نہ دشمنی کے ہیں عجیب ٹیس ہے جاذب گھڑی کی ٹک ٹک میں بتا رہی ہے کہ مہمان دو گھڑی کے ہیں اکرم جاذب گوندل Akram Jazib Gondal

Is Hawa Ne Diya Nahi Daikha Ishq Ne Martaba Nahi Daikha

Image
  اس ہوا نے دیا نہیں دیکھا عشق نے مرتبہ نہیں دیکھا Is Hawa Ne Diya Nahi Daikha Ishq Ne Martaba Nahi Daikha آپ کو چاند اچھا لگتا ہے آپ نے خود کو کیا نہیں دیکھا خونِ ارمان درحقیقت ہے تم نے رنگِ حنا نہیں دیکھا خاک سمجھے مجھے قمرؔ جس نے سوچ کا ارتقا نہیں دیکھا قمر آسی Qamar Aasi