Posts

Aseer e Panja e Ahd e Shabab Kar Ke Mujhe Kahan Gaya Mera Bachpan Kharab Kar Ke Mujhe

Image
‏اسیرِ پنجۂ عہدِ شباب کر کے مجھے کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے Aseer e Panja e Ahd e Shabab Kar Ke Mujhe Kahan Gaya Mera Bachpan Kharab Kar Ke Mujhe کسی کے دردِ محبت نے عمر بھر کے لیے خدا سے مانگ لیا انتخاب کر کے مجھے یہ ان کے حسن کو ہے صورت آفریں سے گلہ غضب میں ڈال دیا لا جواب کر کے مجھے وہ پاس آنے نہ پائے کہ آئی موت کی نیند نصیب سو گئے مصروف خواب کر کے مجھے مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے میں ان کے پردۂ بیجا سے مر گیا مضطرؔ انہوں نے مار ہی ڈالا حجاب کر کے مجھے مضطرؔ خیر آبادی Maztar Khairabadi

Yun Hi Aik Tuhmat Hai , Dushmanon Se Miltay Hein Dil Ko Zakham Ziyada Tar Doston Se Miltay Hein

Image
یوں ہی ایک تہمت ہے، دشمنوں سے ملتے ہیں دِل کو زخم زیادہ تر دوستوں سے ملتے ہیں Yun Hi Aik Tuhmat Hai , Dushmanon Se Miltay Hein Dil Ko Zakham Ziyada Tar Doston Se Miltay Hein پہلے شوق رکھتے تھے قربتیں بڑھانے کے اب تو جس سے ملتے ہیں، فاصلوں سے ملتے ہیں دلفگار ملتے ہیں دلبروں سے اب ایسے جیسے ڈوبنے والے ساحلوں سے ملتے ہیں زیست کی جماعت میں اور بھی معلم ہیں جو سبق مگر دل کو گردشوں سے ملتے ہیں ہر پتہ اذیت کا سسکیاں نہیں ہوتیں کچھ سراغ دردوں کے قہقہوں سے ملتے ہیں دل کہاں بتائے گا دل پہ کیا گزرتی ہے دل کے سلسلے جاناں خامُشوں سے ملتے ہیں

Qufal Pad Jaye Jise Dar Tou Nahi Keh Saktay Char Deewary Ko Ab Ghar Tou Nahi Keh Saktay

Image
قفل پڑ جائے جسے در تو نہیں کہہ سکتے چار دیواری کو اب گھر تو نہیں کہہ سکتے Qufal Pad Jaye Jise Dar Tou Nahi Keh Saktay Char Deewary Ko Ab Ghar Tou Nahi Keh Saktay کچھ مرا ہاتھ بھی شامل ہے پس ویرانی بے بسی تجھ کو مقدر تو نہیں کہہ سکتے آنکھ کو نوچ بھی سکتا ہے کوئی وحشی خواب ہر پرندے کو کبوتر تو نہیں کہہ سکتے نثار محمود تاثیر Nisar Mahmood Taseer

Pehly Jigar Ke Khoon Se Zuban Ka Wuzoo Karo Phir Uske Bad Ishq Peh Tum Guftgo Karo

Image
پہلے جگر کے خوں سے زباں کا وضو کرو پھر اُس کے بعد عشق پہ تم گفتگو کرو Pehly Jigar Ke Khoon Se Zuban Ka Wuzoo Karo Phir Uske Bad Ishq Peh Tum Guftgo Karo محبوب کو منانے کی لذت ہے بیمثال اِک بار روٹھ جائے وہ یہ آرزو کرو ملتے ہیں عشق میں یہ خزانے نصیب سے زخموں پہ ذکرِ یار سے ہنس کے رفُو کرو ہو گی نمازِ عشق ادا کیسے بن صنم اظہارِ عشق ہے یہ، اِسے رُوبرُو کرو صحرا بھی ہے، جنوں بھی، بھٹکتے نہیں ہو کیوں عاشق ہیں اگر آپ تو پھر جستجو کرو نہ دیکھیے اِدھر اُدھر، یہ عشق ہے میاں بے خوف ہو کے زندگی بھر کُو بہ کُو کرو دردِ جدائی سُنتِ مجنوں ہے عشق میں تم بھی نیاز اِس کو ادا ہُو بہُو کرو

Rooh Darwaish Badan Khaak Sa Ho Jata Hai Aam Logon Se Agar Khaas Muhabat Ho Jaye

Image
رُوح دَرویش بدَن خاک سا ہو جاتا ہے عام لوگوں سے اگر خاص محبت ہو جاۓ Rooh Darwaish Badan Khaak Sa Ho Jata Hai Aam Logon Se Agar Khaas Muhabat Ho Jaye فقیہہ حیدر Faqeeha Haidar

Ishq Aatish Hai , Buhat Tez Na Bhadkavu Isay Dheema Dheema Jalo , Sabar Se Sulgavu Isay

Image
عشق آتش ہے، بہت تیز نہ بھڑکاؤ اسے دھیما دھیما سا جلو، صبر سے سلگاؤ اسے Ishq Aatish Hai , Buhat Tez Na Bhadkavu Isay Dheema Dheema Jalo , Sabar Se Sulgavu Isay کوئی دارو نہ دوا کام کرے گی اس پر جس کے ہاتھوں میں مسیحائی ہے، لے آؤ اسے لڑ کھڑاتا نہ سنبھلتا ہے جنوں کا مارا دھیرے دھیرے سے نگل جائے گا یہ گھاؤ اسے وہ جو غرقاب ہے دریا کی فراوانی میں ڈوب جانے سے بچا سکتی ہے کیا ناؤ اسے وو نہیں مانتا بن مۓ کے بہکنا؟ اچھا آنکھ اٹھاؤ، اسے دیکھو، ذرا بہکاؤ اسے جس کی تعبیر الٹ جائے نئی صبح کے بعد وصل کا ایسا کوئی خواب نہ دکھلاؤ اسے درد ہے، اٹھتا ہوا درد کہ اس شخص کی یاد زخم ہے، رستا ہوا زخم ہے، سہلاؤ اسے فرح گوندل Farah Gondal

Jab Tera Samna Nahi Hota Dil Bhi Naghma Sara Nahi Hota

Image
جب ترا سامنا نہیں ہوتا دل بھی نغمہ سرا نہیں ہوتا Jab Tera Samna Nahi Hota Dil Bhi Naghma Sara Nahi Hota برہمی کی یہ حد آخر ہے اب وہ ہم سے خفا نہیں ہوتا توڑ دیتا ہے خواب پل بھر میں رنج اس کو ذرا نہیں ہوتا عشق اس کو نہ پھر کہا جائے جو بھی صبر آزما نہیں ہوتا جو ہوئی آرزوئے تنہائی کیا وہاں پر خدا نہیں ہوتا رضیہ سبحان Razia Subhan