Woh Nafa Tha Ya Khasara Khareed Karte Rahe Humain Tha Hukam Muhabbat , Shadeed Karte Rahe
وہ نفع تھا یا خسارہ خرید کرتے رہے ہمیں تھا حکم محبت، شدید کرتے رہے Woh Nafa Tha Ya Khasara Khareed Karte Rahe Humain Tha Hukam Muhabbat , Shadeed Karte Rahe کسی طرح بھی تمہیں رائیگاں نہ جانے دیا تمہارے درد سے مصرعے کشید کرتے رہے ہماری باتوں سے دیوار تھک گئی اور ہم پھر آئینے سے ہی گفت و شنید کرتے رہے پرانے دکھ پہ نئی آنکھ سے ہیں روئے ہم قدیم درد تھے جن کو جدید کرتے رہے اُسے یہ ضد تھی کہ ہم کو وہ بد گمان کرے مگر ہم اُس پہ بھروسہ مزید کرتے رہے ہماری باری پہ آنکھوں کو موندنے والے بس اک نظر سے جہاں کو مرید کرتے رہے وہ سارے خواب جو آنکھوں کا نور تھے ثروت وہ جا چکا تو طمانچے رسید کرتے رہے ثروت مختار Sarwat Mukhtar