Tu Khaas Ho Gaya Hai Magar Phir Bhi Aam Hai Tera Yahi Muqam Mera Inteqam Hai
تو خاص ہو گیا ہے مگر پھر بھی عام ہے تیرا یہی مقام میرا انتقام ہے Tu Khaas Ho Gaya Hai Magar Phir Bhi Aam Hai Tera Yahi Muqam Mera Inteqam Hai ہم وہ زباں دراز ہیں جن کا ترے بغیر خاموش بیٹھنا ہی بڑا احترام ہے وہ شخص مجھ کواتنا میسر ہے ان دنوں جانے فراق کون سی چڑیا کا نام ہے دستار جتنی اہم ہے، اتنی ردا بھی ہے تیرا مقام ہے تو میرا بھی مقام ہے جب چاہا، جیسے چاہا، تجھے سوچتے رہے اچھا ہے جو دماغ ذرا بے لگام ہے میری وفا کا حق ہے کہ میرا یقیں کرو ویسے بھی وہم کون سا نیکی کا کام ہے