Hum Un Ko Cheen Kar Laye Hein Kitny Dawadaron Se Shafaq Se , Chandni Raton Se , Phoolon Se , Sitaron Se
ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعویداروں سے شفق سے، چاندنی راتوں سے، پھولوں سے، ستاروں سے Hum Un Ko Cheen Kar Laye Hein Kitny Dawadaron Se Shafaq Se , Chandni Raton Se , Phoolon Se , Sitaron Se ہمارے زخم دل داغ جگر کچھ ملتے جلتے ہیں گلوں سے، گل رخوں سے، مہوشوں سے، ماہ پاروں سے زمانے میں کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں امیدوں سے، بھروسوں سے، دلاسوں سے، سہاروں سے سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے گپھاؤں سے، پہاڑوں سے، بیابانوں سے، غاروں سے برابر ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کنوؤں سے، پن گھٹوں سے، ندیوں سے، آبشاروں سے کبھی پتھر کے دل اے کیفؔ پگھلے ہیں، نہ پگھلیں گے مناجاتوں سے، فریادوں سے، چیخوں سے، پکاروں سے کیفؔ بھوپالی Kaif Bhopaly