Posts

Rahguzar Ke Chiragh Hein Hum Log Aap Apna Suragh Hein Hum Log

Image
راہگزر کے چراغ ہیں ہم لوگ آپ اپنا سراغ ہیں ہم لوگ Rahguzar Ke Chiragh Hein Hum Log Aap Apna Suragh Hein Hum Log جل رہے ہیں، نہ بجھ رہے ہیں دوست کس کے سینے کا داغ ہیں ہم لوگ خود تہی ہیں مگر پلاتے ہیں میکدے کے ایاغ ہیں ہم لوگ دشمنوں کو بھی دوست کہتے ہیں کتنے عالی دماغ ہیں ہم لوگ ایک جھونکا نصیب ہے ساغر اس گلی کے چراغ ہیں ہم لوگ ساغر صدیقی Saghar Siddiqui

Aankhon Mein Jam Gaye Hein Nishan Kaisi Bhap Ke Nabeena Ho Gaya Hon Teri Aag Taap Ke

Image
آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں کیسی بھاپ کے نابینا ہو گیا ہوں تری آگ تاپ کے Aankhon Mein Jam Gaye Hein Nishan Kaisi Bhap Ke Nabeena Ho Gaya Hon Teri Aag Taap Ke دستک، سکوت، چیخ، صدا، شور بازگشت کیا کیا ہیں نام اب ترے قدموں کی چاپ ﮐﮯ یُوں بھی دُھواں ہے تجربہ گاہِ وجود میں کرتا ہوں تجربے غم و دِل کے ملاپ کے دُنیا تھی مُنہمک كَفَن و دفن میں، اُدھر بیٹے میں سانس لینے لگے زخم باپ کے رہتا تھا دِل کو تنگئ ملبُوس کا گِلہ سِلوا دیے ہیں کپڑے اُداسی کے ناپ کے سعید شارقؔ Saeed Shariq

Aankhon Ko Intezar Ka Dy Ke Hunar Chala Gaya Chaha Tha Aik Shakhs Ko , Jane Kidhar Chala Gaya

Image
آنکھوں کو انتظار کا دے کے ہنر چلا گیا چاہا تھا ایک شخص کو، جانے کدھر چلا گیا Aankhon Ko Intezar Ka Dy Ke Hunar Chala Gaya Chaha Tha Aik Shakhs Ko , Jane Kidhar Chala Gaya دن کی وہ محفلیں گئیں، راتوں کے رتجگے گئے کوئی سمیٹ کر میرے شام وسحر چلا گیا جھونکا ہے اِک بہار کا رنگِ خیالِ یار بھی ہر سو بکھر گئی خوشبو جدھر چلا گیا اس کے ہی دم سے دل میں آج دھوپ بھی ہے، چاندنی بھی ہے دے کے وہ اپنی یاد کے شمس وقمر چلا گیا کوچہ بہ کوچہ، در بدر کب سے بھٹک رہا ہے دل ہم کو بلا کے راہ  وہ اپنی ڈگر چلا گیا

Sabhi Andaz Husn Piyare Hein Hum Magar Sadgi Ke Mare Hein

Image
سبھی انداز حسن پیارے ہیں ہم مگر سادگی کے مارے ہیں Sabhi Andaz Husn Piyare Hein Hum Magar Sadgi Ke Mare Hein اس کی راتوں کا انتقام نہ پوچھ جس نے ہنس ہنس کے دن گزارے ہیں اے سہاروں کی زندگی والو کتنے انسان بے سہارے ہیں لالہ و گل سے تجھ کو کیا نسبت نا مکمل سے استعارے ہیں ہم تو اب ڈوب کر ہی ابھریں گے وہ رہیں شاد جو کنارے ہیں شب فرقت بھی جگمگا اٹھی اشک غم ہیں کہ ماہ پارے ہیں آتش عشق وہ جہنم ہے جس میں فردوس کے نظارے ہیں وہ ہمیں ہیں کہ جن کے ہاتھوں نے گیسوئے زندگی سنوارے ہیں حسن کی بے نیازیوں پہ نہ جا بے اشارے بھی کچھ اشارے ہیں جگرؔ مراد آبادی Jigar Muradabadi

Tark Muhabbat Apni Khata Ho , Aisa Bhi Ho Sakta Hai Woh Ab Bhi Paband Wafa Ho , Aisa Bhi Ho Sakta Hai

Image
ترک محبت اپنی خطا ہو ، ایسا بھی ہو سکتا ہے وہ اب بھی پابند وفا ہو، ایسا بھی ہو سکتا ہے Tark Muhabbat Apni Khata Ho , Aisa Bhi Ho Sakta Hai Woh Ab Bhi Paband Wafa Ho , Aisa Bhi Ho Sakta Hai دروازے پر آہٹ سن کر اس کی طرف کیوں دھیان گیا آنے والی صرف ہوا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے حال پریشاں سن کر میرا آنکھ میں اس کی آنسو ہیں میں نے اس سے جھوٹ کہا ہو، ایسا بھی ہو سکتا ہے عرض طلب پر اس کی چپ سے ظاہر ہے انکار مگر شاید وہ کچھ سوچ رہا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے حد نظر تک صرف دھواں تھا، برق پہ کیوں الزام رکھیں آتش گل سے باغ جلا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے خون بہانا اس کا شیوہ ہے تو سہی منظورؔ مگر ہاتھ پہ اس کے رنگ حنا ہو، ایسا بھی ہو سکتا ہے ملک زادہ منظورؔ Malak Zada Manzoor

Kabhi Pukar Ke Daikhay Kabhi Bulaye Toh Hudood Zaat Se Aagay Nikal Ke Aaye Toh

Image
کبھی پکار کے دیکھے کبھی بلائے تو حدود ذات سے آگے نکل کے آئے تو Kabhi Pukar Ke Daikhay Kabhi Bulaye Toh Hudood Zaat Se Aagay Nikal Ke Aaye Toh پلا رہا ہے نگاہوں کو تیرگی کا لہو فصیل جاں پہ وہ کوئی دیا جلائے تو سجائے رکھوں گی اپنے گمان کی دنیا مرے یقین کی منزل پہ کوئی آئے تو یہ آنکھیں نیند کو ترسی ہوئی ہیں مدت سے وہ خواب زار شبستاں کوئی دکھائے تو غرور عشق کے آداب سیکھ جائے گا کبھی وہ روٹھ کے دیکھے، کبھی منائے تو ہوا کی چاپ میں شامل ہیں آہٹیں اس کی سلیقہ دل کو دھڑکنے کا بھی سکھائے تو آسناتھ کنول Asnat Kanwal

Kaiy ghhatiyon pe muheet hai meri zindagi ki ye rehguzar Teri wapis bhi hui agar tujhe raasta nahi aye ga

Image
کئی گھاٹیوں پہ مُحِیط ہے مری زندگی کی یہ رہگزر تری واپسی بھی ہوئی اگر تجھے راستہ نہیں آئے گا Kaiy ghhatiyon pe muheet hai meri zindagi ki ye rehguzar Teri wapis bhi hui agar tujhe raasta nahi aye ga بیدلؔ حیدری Bedil Haidry