Agar Kabhi Mera Samna Ho Guzar Hi Jana Nigah Chura Kar
اگر کبھی میرا سامنا ہو گزر ہی جانا نگاہ چرا کر Agar Kabhi Mera Samna Ho Guzar Hi Jana Nigah Chura Kar نہ لب ہلانا نہ ہاتھ رکھنا اگر تمھیں دل تھامنا ہو کہ ایسا ہوتا ہے چاہتوں میں محبتوں کے عجیب رشتے جدائیوں کے عمیق لمحے سنورتے جاتے ہیں دوریوں میں یہی سمجھنا کہ تم سے میرا یہی ہے رشتہ کہ جیسے شبنم کا پھول سے ہے کہ جیسے آنسو کا آنکھ سے ہے گزرتی عمروں میں چاہتوں کی حسین یادیں یہی فقط چاہ کا ہے تحفہ تلاش کرنا ہماری خوشبو چٹکتی کلیوں کی ساعتوں میں میں رنگ بن کر تمہیں ملوں گی بدلتے موسم کی آہٹوں میں شائستہ مفتی Shaista Mufty