Posts

Chupaye Dil Mein Ghamon Ka Jahan Baithay Hein Tumhary Bazam Mein Bezuban Baithay Hein

Image
چھپائے دل میں غموں کا جہان بیٹھے ہیں تمہاری بزم میں ہم بے زبان بیٹھے ہیں Chupaye Dil Mein Ghamon Ka Jahan Baithay Hein Tumhary Bazam Mein Bezuban Baithay Hein یہ اور بات کہ منزل پہ ہم پہنچ نہ سکے مگر یہ کم ہے کہ راہوں کو چھان بیٹھے ہیں فغاں ﮨﮯ ، درد ﮬﮯ، سوز و فراق و داغ و الم ابھی تو گھر میں بہت مہربان بیٹھے ہیں اب اور گردشِ تقدیر کیا ستائے ﮔﯽ لٹا کے عشق میں نام و نشان بیٹھے ہیں وہ ایک لفظ محبت ہی دل کا دشمن ہے جسے شریعتِ احساس مان بیٹھے ہیں ہے میکدے کی بہاروں سے دوستی ساغرؔ ورائے حدِ یقین و گمان بیٹھے ہیں ساغرؔ صدیقی Saghar Siddiqui

Woh Dil Nahi Raha Woh Muhabbat Nahi Rahi Ab Zindagi Se Koi Shikayat Nahi Rahi

Image
وہ دل نہیں رہا وہ محبت نہیں رہی اب زندگی سے کوئی شکایت نہیں رہی Woh Dil Nahi Raha Woh Muhabbat Nahi Rahi Ab Zindagi Se Koi Shikayat Nahi Rahi اس بار کوئی زخم بھی گہرا نہیں لگا مجھ پر ستمگروں کہ عنایت نہیں رہی جائیں کہاں سمیٹ کے اپنی اداسیاں کہتے تھے گھر جسے وہ عمارت نہیں رہی اک دم سے ان کی یاد گئی تو نہیں مگر اب فکر میں وہ پہلے سی کثرت نہیں رہی آنسو ہی پونچھتا یا مرے زخم چومتا اتنی بھی اب کے یار کو فرصت نہیں رہی محفل ہے حسرتوں کی، خیالوں کا ہے ہجوم تنہائی میں بھی اب کوئی خلوت نہیں رہی شاید مجھے بھی اب کے وہ کچھ مہرباں لگا شاید اسے بھی مجھ سے شکایت نہیں رہی کہتے ہیں اب کے دیں گے ہر اک بات کا جواب مجھ میں ہی جب سوال کی طاقت نہیں رہی مرنے نے میرے سب کو فرشتہ بنا دیا دشمن کے بھی دلوں میں کدورت نہیں رہی پہلے تو لطف شدت غم کی خوشی رہی پھر یوں ہوا کے غم میں بھی شدت نہیں رہی کہتے کے جا، خدا کی اماں میں دیا تجھے وقت جدائی اتنی بھی مہلت نہیں رہی مریم فاطمہ Maryam Fatima

Tujhe Kho Kar Muhabbat Ko Ziada Kar Lia Main Ne Yeh Kis Hairat Mein Kushada Kar Lia Main Ne

Image
تجھے کھو کر محبت کو زیادہ کر لیا میں نے یہ کس حیرت میں آئینہ کشادہ کر لیا میں نے Tujhe Kho Kar Muhabbat Ko Ziada Kar Lia Main Ne Yeh Kis Hairat Mein Kushada Kar Lia Main Ne مجھے پیچیدہ جذبوں کی کہانی نظم کرنا تھی سو جتنا ہو سکا، اسلوب سادہ کر لیا میں نے محبت کا سنا تھا ذات کی تکمیل کرتی ہے مگر اس آرزو میں خود کو آدھا کر لیا میں نے شکستِ خواب پر ہی خواب کی بنیاد رکھنا تھی در امکان پھر سے ایستادہ کر لیا میں نے نئی رت میں محبت کا اعادہ چاہتا تھا وہ پرانے تجربے سے استفادہ کر لیا میں نے سرِ ساحل مجھے پیچھے سے اب آواز مت دینا یہاں سے پار جانے کا ارادہ کر لیا میں نے سجاد بلوچ Sajad Baloch

Do Chaar Din Hoe Hein Mujhe Paarsa Hoe Masti Bhary Nigah Se Daikha Na Kijiye

Image
دو چار دن ہوۓ ہیں مجھے پارسا ہوۓ مستی بھری نگاہ سے دیکھا نہ کیجیے Do Chaar Din Hoe Hein Mujhe Paarsa Hoe Masti Bhary Nigah Se Daikha Na Kijiye

Na Bhaijna Mujhe Khairat Mein Koi Soraj Main Musta'ar Ujalon Ko Dakhty Bhi Nahi

Image
نہ بھیجنا مجھے خیرات میں کوئی سورج میں مستعار اجالوں کو دیکھتی بھی نہیں Na Bhaijna Mujhe Khairat Mein Koi Soraj Main Musta'ar Ujalon Ko Dakhty Bhi Nahi حیات کیسے طمانچے رسید کرتی ہـے ہمارے خوشنما گالوں کو دیکھتی بھی نہیں  

Zarory Tou Nahi Yeh Keh Hilein Lab Yeh Khamoshi Bhi Tou Ik Guftgo Hai

Image
ضروری تو نہیں یہ کہ ہلیں لب یہ خاموشی بھی تو اک گفتگو ہے Zarory Tou Nahi Yeh Keh Hilein Lab Yeh Khamoshi Bhi Tou Ik Guftgo Hai

Jhagda Tha Saal Bhar Ka Jo Pal Mein Sulajh Gaye Main Ro Padi Tou Usne Galy Se Laga Lia

Image
جھگڑا تھا سال بھر کا جو پل میں سلجھ گیا میں رو پڑی تو اس نے گلے سے لگا لیا Jhagda Tha Saal Bhar Ka Jo Pal Mein Sulajh Gaye Main Ro Padi Tou Usne Galy Se Laga Lia