Pa Lia Hum Ne Tumhein Akhir Kai Maton Ke Bad Aai Hai Ik Subah Roshan Kuch Siah Raton Ke Bad
پا لیا ہم نے تمہیں آخر کئی ماتوں کے بعد آئی ہے اک صبح روشن کچھ سیاہ راتوں کے بعد Pa Lia Hum Ne Tumhein Akhir Kai Maton Ke Bad Aai Hai Ik Subah Roshan Kuch Siah Raton Ke Bad شام بھی جلنے لگی ہے میرے آنگن میں _ سنو دھوپ سی چمکی ہو جیسے بھیگی برساتوں کے بعد موڑ کے منہ چل دیے جیسے کبھی دیکھا نہ تھا “ہم کے ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد” کر دیا کیوں ذکر فرقت تم نے رخصت کی گھڑی پیار کی اور دوستی کی کچھ نئی باتوں کے بعد ہجر کے صحرا بھی تھے اور یاد کے دریا ملے آپ تک پہنچے ہیں ہم کتنی مناجاتوں کے بعد فرزانہ ساجد Farzana Sajid