صبر کے جتنے تقاضے تھے، وہ پورے رکھے پھر بھی سینے میں کوئی کتنے کلیجے رکھے Sabar Ke Jitne Taqazay Thay , Pore Rakhay Phir Bhi Seenay Mein Koi Kitne Kalejay Rakhay ہم نے بہنے دیا ظالم کی بغاوت میں لہو حاکمِ وقت کی چوکھٹ پہ جنازے رکھے تو قضا کرتا رہا ہم کو نمازوں کی طرح ہم نے عیدوں پہ ترے نام کے روزے رکھے خط میں اظہار کے الفاظ کا دم گُھٹ ہی گیا پھول مرجھا ہی گئے جیب میں رکھے رکھے جس نفاست سے بناتا ہے وہ شخص اپنے قفس اس کی مرضی ہے میاں جیسے پرندے رکھے منہ چھپانے کو جگہ ملتی نہیں جس کے سبب ہم نے اس شخص کے ہر عیب پہ پردے رکھے میری الماری میں اک عمر سے رنجیدہ ہیں تیرے کنگن، ترے جھمکے، ترے جوڑے رکھے