وہ جو الجھے الجھے خیال تھے، کوئی جال تھے یہ جو سلجھا سلجھا کلام ہے، ترے نام ہے Woh Jo Uljhay Uljhay Khayal Thay , Koi Jal Thay Yeh Jo Suljha Suljha Kalam Hai , Tere Nam Hai وہ گماں کے جتنےپڑاؤ تھے مرے چاؤ تھے یہ یقیں جو مست خرام ہے، ترے نام ہے وہ جو تشنگی سر آب تھی ترا خواب تھی یہ جو موج موج کا جام ہے، ترے نام ہے وہ جو ٹمٹماتا چراغ تھا مرا داغ تھا یہ جو نور ماہ تمام ہے، ترے نام ہے وہ جو آنسوؤں بھری رات تھی، مری بات تھی یہ جو قہقہوں بھری شام ہے ترے نام ہے وہ جو راستوں کا غبار تھا کسے بار تھا یہ جو منزلوں کا مقام ہے، ترے نام ہے ساجد رحیم Sajid Raheem