چھوٹی سی بے رُخی پہ شکایت کی بات ہے اور وُہ بھی اِس لئے ، کہ مُحبّت کی بات ہے Choti See Berukhi Peh Shikayat Ki Baat Hai Aur Woh Bhi Is Liye , Keh Muhabbat Ki Baat Hai مَیں نے کہا کہ آئے ہو کِتنے دِنوں کے بعد کہنے لگے حضور ! یہ فُرصت کی بات ہے مَیں نے کہا کی مِل کے بھی ہم کیوں نہ مِل سکے کہنے لگے حضور ! یہ قِسمت کی بات ہے مَیں نے کہا کہ رہتے ہو ہر بات پر خفا کہنے لگے حضور ! یہ قُربت کی بات ہے مَیں نے کہا کہ دیتے ہیں دِل ، تم بھی لاؤ دِل کہنے لگے ، کہ یہ تو تجارت کی بات ہے مَیں نے کہا کبھی ہے سِتم ، اور کبھی کرم کہنے لگے ، کہ یہ تو طبیعت کی بات ہے قمرؔ جلال آبادی Qamar Jalalvi