Neend Bhi Aankhon Se Koson Door Hai Aur Gin'ny Ko Aaj Tare Bhi Nahi
نیند بھی آنکھوں سے کوسوں دُور ہے اور گننے کو آج تارے بھی نہیں Neend Bhi Aankhon Se Koson Door Hai Aur Gin'ny Ko Aaj Tare Bhi Nahi آج کی رات عجیب ہے نہ نیند کا کوئی سراغ ہے نہ آسمان میں وہ تارے ہیں جنہیں گن کر دل کو بہلایا جا سکے۔ میں جاگ رہا ہوں مگر یہ جاگنا بھی کیسا جاگنا ہے آنکھیں بند کرتا ہوں تو یادیں جاگ جاتی ہیں آنکھیں کھولتا ہوں تو تنہائی سامنے آ بیٹھتی ہے یہ رات جیسے میرے اندر اتر آئی ہے ہر سوچ کو اور گہرا ہر احساس کو اور بھاری بنا دیا ہے۔ کبھی ہوا کی ہلکی سی سرسراہٹ تمہاری آہٹ لگتی ہے اور کبھی دل خود کو دھوکہ دیتا ہے کہ شاید تم ابھی آ جاؤ گے مگر حقیقت وہ ہمیشہ کی طرح خاموش کھڑی رہتی ہے آج نہ تارے ہیں، نہ چاند کی وہ روشنی بس ایک سیاہ سا آسمان ہے جو میرے دل کی طرح خالی لگ رہا ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ رات کو گزار لوں گا کسی طرح مگر یہ رات گزرنے کے لیے نہیں محسوس کرنے کے لیے آئی ہے ہر لمحہ لمبا ہو رہا ہے ہر سانس بوجھل ہوتی جا رہی ہے اور دل دل بس ایک ہی نام دہرا رہا ہے جسے میں بھلانا چاہتا ہوں نیند آتی بھی تو کیسے آتی؟ جب آنکھوں میں سکون نہ ہو اور دل کے اندر ایک ادھوری کہانی بار ب...