رات آنکھوں میں ڈھلی, پلکوں پہ جگنو آئے ہم ہواؤں کی طرح جا کے اسے چھو آئے Raat Aankhon Mein Dhaly , Palkon Peh Jugno Aaye Hum Hawaoun Ki Tarah Ja Ke Usay Cho Aaye میرا آئینہ بھی اب میری طرح پاگل ہے آئینہ دیکھنے جاؤں تو نظر تو آئے ان فقیروں کو غزل اپنی سناتے رہیو جن کی آواز میں درگاہوں کی خوشبو آئے بس گئی ہے مرے احساس میں یہ کیسی مہک کوئی خوشبو میں لگاؤں تیری خوشبو آئے اس کا دل، دل نہیں، پتھر کا کلیجہ ہو گا جس کو پھولوں کا ہنر، آنسو کا جادو آئے اس کی آنکھیں مجھے میرؔا کا بھجن لگتی ہیں پلکیں جھپکائیں تو لوبان کی خوشبو آئے اس نے چھو کر مجھے پتھر سے پھر انسان کیا مدتوں بعد مری آنکھوں میں آنسو آئے میں نے دن رات خدا سے یہ دعا مانگی تھی کوئی آہٹ نہ ہو در پہ میرے جب تو آئے بشیر بدر Bashir Badar