میری ہمدم، مرے خوابوں کی سنہری تعبیر مسکرا دے کہ مرے گھر میں اجالا ہو جائے Mere Humdam , Mere Khuwabon Ki Sunehry Ta'abeer Muskura Dy Keh Mere Ghar Mein Ujala Ho Jaye آنکھ ملتے ہوئے اٹھ جائے کرن بستر سے صبح کا وقت ذرا اور سہانا ہو جائے میرے نکھرے ہوئے گیتوں میں ترا جادو ہے میں نے معیار تصور سے بنایا ہے تجھے میری پروین تخیل، مری نسرین نگاہ میں نے تقدیس کے پھولوں سے سجایا ہے تجھے دودھ کی طرح کنواری تھی زمستاں کی وہ رات جب ترے شبنمی عارض نے دہکنا سیکھا نیند کے سائے میں ہر پھول نے انگڑائی لی نرم کلیوں نے ترے دم سے چٹکنا سیکھا میری تخیل کی جھنکار کو ساکت پا کر چوڑیاں تیری کلائی میں کھنک اٹھتی تھیں اف مری تشنہ لبی، تشنہ لبی، تشنہ لبی کچی کلیاں ترے ہونٹوں کی مہک اٹھتی تھیں وقت کے دست گراں بار سے مایوس نہ ہو کس کو معلوم ہے کیا ہونا ہے اور کیا ہو جائے مصطفی زیدی Mustafa Zaidi