وہ مجھے دیکھ کے گزرا ہے، خدا خیر کرے صحنِ امید میں اترا ہے خدا خیر کرے Woh Mujhe Daikh Ke Guzra Hai , Khuda Khair Kare Sihan Umeed Mein Utra Hai , Khuda Khair Kare دل کا خوابیدہ نگر جاگ اٹھا ہے پھر سے کوئی خوابوں میں یوں ابھرا ہے، خدا خیر کرے جس کو بھولے ہوئے اک عمر گزرنے کو ہوئی پھر وہی سامنے آیا ہے خدا خیر کرے پھر وہی درد، وہی عشق وہی بیچینی پھر وہی آنکھ میں چہرہ ہے، خدا خیر کرے پھر وہی دستِ حنائی ہے مسیحا تیرا زخمِ دل پہلے ہی گہرا ہے، خدا خیر کرے بات پھر آپ نے کر دی ہے محبت والی دل میں اک خوف سا ٹھہرا ہے، خدا خیر کرے وہ عدنؔ چاند ستاروں میں پڑی اک گڑیا مجھ پہ آسیب کا پہرہ ہے، خدا خیر کرے عدنان سنی عدنؔ Adnan Sunny Adan