ہونٹوں پہ پیاس ، آنکھ میں پانی لیے پھروں میں دشت میں کسی کی نشانی لیے پھروں Honton Peh Piyas , Ankh Mein Pani Liye Phiron Main Dasht Mein Kisi Ki Nishani Liye Phiron اس کا پتہ کوئی بھی بتاتا نہیں مجھے تصویر اسکی برسوں پرانی لیے پھروں مجھ کو شدید دھوپ کا احساس ہی نہیں میں اپنے ساتھ شام سہانی لیے پھروں مجھ سے اگر سنے تو زمانہ بھڑک اٹھے سینے میں ایک ایسی کہانی لیے پھروں اس بات کو سمجھنے کا موقع نہیں ملا جس بات کے بہت سے معانی لیے پھروں دنیا تجھے میں دیکھ چکا ہوں قریب سے یونہی نہیں میں شعلہ بیانی لیے پھروں خالد محبوب Khalid Mahboob