Posts

Tum khanjar ki tarah mere seenay mein ho Tumhein rehne diya to khoon behta rahe ga Aur nikaal diya to Jaan chali jaaye gi

Image
Tum khanjar ki tarah mere seenay mein ho Tumhein rehne diya to khoon behta rahe ga Aur nikaal diya to Jaan chali jaaye gi

Tujhe Sochty Rehny Ki , Aadat Ho Gai Hai Dil Mera Kisi Aur Janib ,Mael Hi Nahi Hota

Image
تمہیں سوچتے رہنے کی ، عادت ہوگئی ھے دل میرا کسی اور جانب ، مائل ہی نہیں ہوتا Tujhe Sochty Rehny Ki , Aadat Ho Gai Hai Dil Mera Kisi Aur Janib ,Mael Hi Nahi Hota اپنی ہی ضد پر ، اڑا رہتا ھے ، ستم گر جتنے بھی دلائل دوں ، قائل ہی نہیں ہوتا عشرت ناصر Ishrat Nasir

Yeh Kaisi Khalish Hai Yeh Kaisi Chubhan Hai

Image
یہ کیسی خلش ھے یہ کیسی چبھن ھے Yeh Kaisi Khalish Hai Yeh Kaisi Chubhan Hai کسک سی اٹھی ھے سوئی سی چبھی ھے تڑپ سی کیوں ھے من میں کس کی کمی ھے جیون میں یوں دل کو ، کب تک سہلایا جائے کس کے سہارے خود کو بہلایا جائے کوئی بھی تو نہیں ھے ، ہمارا امید ھے کوئی ، نہ کوئی سہارا اک بے بسی کا ھے ، عالم تڑپا رہا مجھے ھے ، ظالم ختم یہ جہاں ، کیوں نہیں ہوتا ؟ کہ دیکھوں ، اپنے لئیے کسی کو ، روتا گھٹ ، گھٹ کے ، یوں جئیوں میں زہر ، اپنے ہاتھوں سے ، پئیوں میں زندگی کی بس ، یہی پر شام ، ہوجائے ختم پھر یہی پر ، تماشا ، تمام ہو جائے ۔

Tum Ne Socha Hai Kabhi Keh , Gar Hum Na Hote? Toh Tumhare Oopar Aane Wali Balaein , Apne Oopar Kon Laita?

Image
تم نے سوچا ھے کبھی کہ ، گر ہم نہ ہوتے ؟ تو تمہارے اوپر آنے والی سب بلائیں ، اپنے اوپر کون لیتا ؟ Tum Ne Socha Hai Kabhi Keh , Gar Hum Na Hote? Toh Tumhare Oopar Aane Wali Balaein , Apne Oopar Kon Laita? تمہیں کاجل کا ٹیکہ لگا کر ، نظر بد سے کون بچاتا ؟ تم کہاں ہو ؟ کا میسیج کرکے ، تمہاری فکر کون کرتا ؟ تمہاری ہر سانس میں ، دعائوں کے موتی کون پروتا ؟ تمہارے ارد گرد ، نظروں کا حصار کون ، باندھتا ؟ تمہاری صبح و شام کی خبر کون رکھتا ؟ تمہارے دکھ میں ، میرے سوا کون ، کھڑا ہوتا ؟ گرہن زدہ راتوں میں ، چاند سے اجالے کون مانگتا ؟ تو جو خوش و خرم ، آباد اور پرسکوں ھے سائیاں پڑھ کے پھونکی ہوئی دعائوں کا فسوں ھے ، سائیاں عشرت ناصر Ishrat Nasir

Ihsas Ki Galion Se Burq Raftary Se Teri Yaad Guzre Toh

Image
برق من BURQ MAN احساس کی گلیوں سے برق رفتاری سے تیری یاد گزرے تو Ihsas Ki Galion Se Burq Raftary Se Teri Yaad Guzre Toh اک لہر سی اٹھتی ھے جسم اور روح کو انوکھے لمس سے روشناس کراتی ھے ایک ایسا لمس جو سوکھے ہونٹ سیراب کرتا ھے اور جگاتا ھے سوئے ہوئے جذبات پہنچاتا ھے ان کہے پیغامات تازگی ، سرشار کرتی ھے اداسی پر ، وار کرتی ھے یہی احساس ، کافی ھے تیری یاد ہی ، شافی ھے عشرت ناصر Ishrat Nasir

Us Ne Talassum Se Bandha Hai , Kuch Aise Keh Hum Jan o Tan Se Usi Ke , Aaseer Hoe

Image
اس نے طلسم سے باندھا ہی ، کچھ ایسے کہ ہم جان و تن سے اسی کے ، اسیر ہوئے Us Ne Talassum Se Bandha Hai , Kuch Aise Keh Hum Jan o Tan Se Usi Ke , Aaseer Hoe اب تو شہنشاہی کو بھی ٹھوکر مارتے ہیں اسے جب دیکھا تو ، اسی کے در کے فقیر ہوئے عشرت ناصر Ishrat Nasir

Chand Phool Ki Pation Par Lekha Hai , Tumhara Nam

Image
چند پھول کی پتیوں پر لکھا ھے ، تمہارا نام Chand Phool Ki Pation Par Lekha Hai , Tumhara Nam تمہارا نام لکھنے سے خوشبو ، دو چند ہوگئی آج سورج ڈھلنے پر حسین شام کا منظر دیکھنے ، جب تم بالکونی میں چپ چاپ ، کھڑے ہونگے میں نے ہوا کے سپرد وہ پتیاں کردینی ہیں وہ پتیاں تم پر نچھاور ، ہونے کے لئیے بہت بے قرار و بے تاب ہیں چپ چاپ ہوا ، تمہیں چھو کر گزرے گی تم محسوس کرنا میٹھی ، مست اور البیلی خوشبو تمہیں مدہوش کردے گی تمہیں دیوانہ کردے گی محبت بھرا اک جملہ ہوا کے سپرد کر دینا تمہارے وہ الفاظ ، مسحور کردیں گے میری سماعتوں کو ، مسرور کردیں گے عشرت ناصر Ishrat Nasir