Hum Hein Keh Jahanzeb Dabastan Adab Hein Ya Wasal Ki Lizzat Mein Guzary Hoi Shab Hein
ہم ہیں کہ جہانزیب دبستان ادب ہیں یا وصل کی لذت میں گزاری ہوئی شب ہیں Hum Hein Keh Jahanzeb Dabastan Adab Hein Ya Wasal Ki Lizzat Mein Guzary Hoi Shab Hein اس دشت بلا خیز میں ہے جرم محبت عریاں سر بازار میرے نام و نسب ہیں تو ہے تو یہ محفل بھی بہت خوب ہے لیکن سب سوختہ جاں آج فقط تیرے سبب ہیں اللہ نے فرصت سے بنایا ہے جو ان کو ان کے لب و رخسار و خد و خال غضب ہیں مہ رو بھی ہیں، مہ پارہ بھی وہ، ماہ جبیں بھی ان کے لیے تجویز یہ سب نام و لقب ہیں بے وجہ مجھے نیند نہیں آتی ہے شب بھر وہ میرے مقدر میں نہ پہلے تھے، نہ اب ہیں رکھتے ہیں جو ہم ان سے خلوص اور محبت ہم اس کے عوض ان سے بھی اخلاص طلب ہیں کیا کہیے، کسے کہیے کسی بات کا ڈر ہے لب کھولنا ہے جرم تو سب مہر بہ لب ہیں سو جائیں گے اک روز کسی قبر میں جا کر اوروں کی طرح ہم بھی تو اب مائل رب ہیں طفلی سے جوانی و جوانی سے ضعیفی یہ سلسلۂ زیست بھی تنویر عجب ہیں سید عباس رضا تنویر اعظمی ماہلی Sayed Abas Raza Tanveer Aazmy Mahly