Hai Baes Sukoon Sukhanwar , Tumhara Nam Leta Hai Is Liye Woh Barabar Tumhara Nam
ہے باعث سکون سخنور، تمہارا نام لیتا ہے اس لیے وہ برابر تمہارا نام Hai Baes Sukoon Sukhanwar , Tumhara Nam Leta Hai Is Liye Woh Barabar Tumhara Nam مجھ کو یقیں ہے تم بھی بہت مضطرب رہے جب بھی لیا ہے میں نے تڑپ کر تمہارا نام میرے تمام شعروں میں اک جاں سی پڑ گئی لکھی غزل جو ذہن میں رکھ کر تمہارا نام کیسے مٹائے موج حوادث تمہی کہو ہے نقش ذہن و دل پہ گل تر، تمہارا نام تہذیب کے خلاف ہے اظہار عاشقی آتا نہیں ہے اس لیے لب پر تمہارا نام یہ صرف والہانہ محبت کی بات ہے میری سخنوری کا ہے محور تمہارا نام حد درجہ جاں گداز ہیں یادوں کے سلسلے کیسے سحرؔ بھلائے گا دلبر تمہارا نام سحرؔ محمود Sahar Mahmood