مرتبہ، نام و نسب اور نہ مکاں دیکھتے ہیں ایسی باتيں بھلا درویش کہاں دیکھتے ہیں Martaba, Nam o Nasab Aur Na Makan Dekhtay Hein Aisi Batein Bhala Darwaish Kahan Dekhtay Hein ہو اگر دید میسر ترے دیوانوں کو وجد میں آتے ہی اک اور جہاں دیکھتے ہیں کیسے بے عیب کے سجدے میں جبیں پیش کریں اپنے چہرے پہ گناہوں کے نشاں دیکھتے ہیں کھینچ لیتا ہے بھلا کون کناروں کے مکیں آٶ دریاٶں کے اندر کا سماں دیکھتے ہیں خوبیاں ساری ہی اک پل میں بھلا دیتے ہیں لوگ برسوں کی ریاضت بھی کہاں دیکھتے ہیں کتنے کم ظرف ہیں اس عہدِ محبت کے امیں عشق میں رنج و مصیبت کو گراں دیکھتے ہیں جب بھی جھکتی ہے جبیں فکر و نظر کے آگے خود پہ فطرت کے سبھی راز عیاں دیکھتے ہیں طے کیا ہم نے مجازی سے حقیقی کا سفر اب تجھے پاتے ہیں ہر سمت جہاں دیکھتے ہیں عاصمہ فراز Asma Fraz