Kamzor Chobi Astage Par Adakar Har Lamha Khatre Mein Hota Hai
سندھی کے جواں مرگ شاعر حسن درس کی آج بارھویں برسی ہے۔ حسن درس نے اپنے ہم عصروں اور سندھی شاعری پہ گہرے اثرات ڈالے۔ لا ابالی شاعر حسن درس کی ایک نظم جو ان کی کئی گم شدہ نظموں کی طرح ان کی کلیات میں شامل نہیں ہو سکی نظم کم زور چوبی اسٹیج پر اداکار ہر لمحہ خطرے میں ہوتا ہے یہ ایک ایسا ڈراما ہے جس میں سارا ملک مشغول ہے مصنف گُم ہے پردہ اُٹھتا ہے کس نے اُٹھایا؟ معلوم نہیں پردہ گرتا ہے کس نے گرایا؟ معلوم نہیں سارے مُکالمے غیر دانش مندانہ اور سطحی ہیں اور اداکاری اس سے بھی زیادہ خراب ہے بہت سی چھوٹی چھوٹی کہانیاں ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے ٹکڑے ٹکڑے کر رہی ہیں اور ڈرامے کے اندر ایک دوسرے کوگھسیٹ رہی ہیں دفعتاً نوجوان لڑکے کو اسٹیج پر زبردستی بھیجا جاتا ہے وہ اپنے کردار کے حوالے سے نو عمر ہے اور یہ کہ معصوم بھی ہے اس کا حافظہ بھی کم زور ہے چناں چہ وہ غلط مُکالمے بولنے لگتا ہے دوسرے افراد چُھپے ہوئے ہیں اور پردے کے پیچھے ایک دوسرے کی پیٹھ ٹھوک رہے ہیں ہال کے وسط میں صرف ایک کرسی ہے جو پورے ڈرامے کو دیکھ رہی ہے نوجوان لڑکا زہر کا پیالہ پیتا ہے کیوں کہ یہ بھی ڈرامے کا حصہ ہے تلخی اس کے منہ میں...