Sabhi Andaz Husn Piyare Hein Hum Magar Sadgi Ke Mare Hein
سبھی انداز حسن پیارے ہیں ہم مگر سادگی کے مارے ہیں Sabhi Andaz Husn Piyare Hein Hum Magar Sadgi Ke Mare Hein اس کی راتوں کا انتقام نہ پوچھ جس نے ہنس ہنس کے دن گزارے ہیں اے سہاروں کی زندگی والو کتنے انسان بے سہارے ہیں لالہ و گل سے تجھ کو کیا نسبت نا مکمل سے استعارے ہیں ہم تو اب ڈوب کر ہی ابھریں گے وہ رہیں شاد جو کنارے ہیں شب فرقت بھی جگمگا اٹھی اشک غم ہیں کہ ماہ پارے ہیں آتش عشق وہ جہنم ہے جس میں فردوس کے نظارے ہیں وہ ہمیں ہیں کہ جن کے ہاتھوں نے گیسوئے زندگی سنوارے ہیں حسن کی بے نیازیوں پہ نہ جا بے اشارے بھی کچھ اشارے ہیں جگرؔ مراد آبادی Jigar Muradabadi