Posts

Showing posts with the label Young Poets And Poetry Collection

Main Jo badloon to taghyor hai meri zaat talak Tuu Jo badle to shab o Roz badal jate hain

Image
میں جو بدلوں تو تغیّر ھے میری ذات تلک تو جو بدلے تو شب و روز بدل جاتے هیں Main Jo badloon to taghyor hai meri zaat talak Tuu Jo badle to shab o Roz badal jate hain

Main Rasta Hon Magar Musafir Teri Muhabbat Ka Hon

Image
نام:ذوالقر نین حسنی تاریخ پیدائش: 2 ستمبر 1982 جائے پیدائش: سرگودھا موجودہ شہر: اسلام آباد شعری سفر:گھر کا ماحول ادبی تھا تو ادب سے لگاؤ بچپن سے ہو گیا اور لکھنے کا آغاز اسکول کے دور سے کیا۔ بلا عنوان میں راستہ ہوں مگر مسافر تری محبت میں مبتلا ہوں تمھارے قدموں کا لمس میری ہزار صدیوں کی پائمالی کا معجزہ ہے ڈرا ہوا ہوں تمھارے ذاد۔ سفر سے لگتا ہے تم نے رستے پہ چھوڑنا ہے عجیب تر ہے تمھاری منزل سے تھوڑا پہلے مجھے بھی دریا میں ڈوبنا ہے ************* سبک خرام خیالوں سے جان چھوٹ گئی لو میرے پاؤں کی زنجیر آج ٹوٹ گئی تو میرے سامنے ہتھیار پھینک کے رویا یہی ادا تو دل تار تار لوٹ گئی ہمارے بچے بڑھاپے کو جلد پہنچیں گے وبا سی کوئی مری بستیوں میں پھوٹ گئی اے رفتگاں تمہیں آئندگی سے کیا خطرہ عجیب سوچ یہاں تازگی سے روٹھ گئی متاعِ عشق بھی حسنی سنبھالنا سیکھو نگاہ یار میں یہ واردات جھوٹ گئی ************* تو کڑی دھوپ کا ستارہ ہے تیرا ہونا مجھے گوارہ ہے اک سمندر میں ڈوب جانے تک یہ ہتھیلی بھی تو کنارہ ہے پس دی...

Koi Daleel Mere Jurm Ki,Sanad Mere Dost,Be-Aitbaari Ki Hoti Hai Koi Had Mere Dost

Image
نام : زبیر قیصر تاریخ پیدائش: 7 مئی 1975 شہر: باہتر ضلع اٹک شعری سفر: 2000 سے آغاز پہلی کتاب : ابھی کچھ کہہ نہیں سکتے..2012 دوسری کتاب : آواز..زیرِ اشاعت   ************* کوئی دلیل مرے جرم کی ،سند ،مرے  دوست بے اعتباری کی ہوتی ہے کوئی حد مرے دوست  ابھی تلک تری الجھن سلجھ نہیں  رہی ہے بگڑ چکے ہیں مرے دیکھ ، خال و خد مرے دوست  بھلے ڈبو دے مجھے میرا  چلو بھر  پانی  کہ مانگنی نہیں تجھ سے کوئی مدد مرے دوست  یہ آئینےمیں سنورنا تجھے مبارک ہو طلب نہیں تو بھلے خاک ہو رسد مرے دوست زمیں سے رکھنا ہی پڑتا ہے رابطہ قیصر شجر کا اونچا ہو جتنابھی چاہے قد مرے دوست ************* تو پھر یہ طے ہے کہ دونوں میں رابطہ رہے گا تمام عمر محبت کا سلسلہ رہے گا  سمے کی دھول سے اٹ بھی گیا یہ عکس اگر تمھارے نام کا ہاتھوں میں آئینہ رہے گا عجیب اب کے سفر پاؤں سے بندھا ہوا ہے کہ رستہ کٹ بھی گیا پھر بھی فاصلہ رہے گا ہٹا بھی دی گئی تصویر تیری دیکھنا تم مجھے یقیں ہے وہ دیوار دیکھتا رہے گا کیا ہے ...

Kuch Bhi Ho Saktay Thay,Taskheer Nahi Hona Tha,Hum Ko Yun Dard Ki Tasveer Nahi Hona Tha

نام:زین شکیل تاریخِ پیدایش:23 فروری 1992 جائے پیدائش:گجرات شہر کانام:گجرات شعری سفر:باقاعدہ شاعری 2014 سے لکھنی شروع کی شعری مجموعہ: چلو اداسی کے پار جائیں کچھ بھی ہو سکتے تھے، تسخیر نہیں ہونا تھا ہم کو یوں درد کی تصویر نہیں ہونا تھا وہ تو تم آئے تو تھوڑا سا یقیں پختہ ہوا ہم نے تو قائلِ تقدیر نہیں ہونا تھا! حوصلہ ہار کے جینا بھی کوئی جینا ہے گر ہی پڑنا تھا تو تعمیر نہیں ہونا تھا پاگلا !دیکھتے رہنا تھا روانی کو فقط ایسے، دریا سے بغلگیر نہیں ہونا تھا چاہتے ہم تو تجھے روک ہی لیتے لیکن یوں ترے پائوں کی زنجیر نہیں ہونا تھا میں جو رانجھا نہ ہوا اس پہ گلہ کیوں لوگو اُس نے ویسے بھی مری ہیر نہیں ہونا تھا جیسے اُس شخص کی، اشکوں سے کہانی لکھی زین یوں اُس نے تو تحریر نہیں ہونا تھا ************* زخم سارے ہی بھر دیے میں نے سُکھ تری سمت کر دیے میں نے وہ مرے سنگ تھا اداس تو پھر رابطے ختم کر دیے میں نے دکھ اٹھائے تو اپنے سارے سُکھ اس کی چوکھٹ پہ دھر دیے میں نے اب تم آئے ہو خواب لینے کو جانے کس کو کدھر دیے میں نے ...

Us Ne Bare Khuloos Se Dhoka Diya Mujhe,Darya Dekh K Piyaas Ka Sehra Diya Mujhe

Image
نام : عمیر اشفاق قریشی ولدیت : اشفاق احمد قریشی جائے پیدائش: سعودی عرب ریاض  تعلیم: ماسٹر ان آٹو موٹیو انجئیرننگ  مشاغل: تعلیمی اور سماجی خدمات، شاعری ، مطالعہ پیدائش کے بعد کا 12 سال تک سعودی عرب میں ہی قیام پذیر رہے۔ ابتدائی تعلیم و تربیت سعودی عرب میں ہی قائد اعظم انٹرنشنل سکول سے حاصل کی ۔ابتدا ہی سے رجحان شعر گوئی کی طرف تھا ۔لیکن اپنے چچا جو کہ شاعر تھے ان کو دیکھ کے طبیعت اور بھی شعر و شاعری کی طرف مائل ہونے لگی۔ پر وہ 22 سال کی عمر میں ہی داغِ رفاقت دے گئے۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔  سعودیہ سے واپسی کے بعد قائد اکیڈمی سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد ایف ایس سی کے لیے ،ایچ نائن، کالج اسلام آباد میں ایڈ میشن لیا جہاں ہمارے اردو کے لیکچرار اردو کے مایہ ناز شاعر  اعتبار ساجد صاحب تھے جن کی شاگردی کا شرف تو حاصل ہوا  اور چاہتے ہوئے بھی میں ان سے فیض یاب نہ ہو سکے۔  شدید بیمارکے باعث دو سال تک ہاسپٹل میں زیرِ علاج رہے۔جس کے باعث شعر گوئی کا سلسلہ برقرار نہ رکھ سکے خداوند کر...

Fasal-e-Aawaaz Lehleha Yunhe,Mein Tujhe Rakhon Ga Tujhe Hara Yunhe

Image
نام: یاور عظیم تاریخِ پیدایش: 1984-01-11 شہر کانام: خانپور کٹورہ شعری سفر : 2004ء میں شعر کہنا شروع کیا شعروں کا انتخاب "بیت بازی" کے نام سے ترتیب دیا ، 2009ء میں رُمیل ہاؤس آف پبلیکیشنز راولپنڈی سے شائع ہُوا۔ فصلِ آواز لہلہا یونہی میں رکھوں گا تجھے ہرا یونہی خواب کی روشنی میں چلتا جا دُور تک دیکھتا ہُوا یونہی کیا خبر ہے مری اُداسی پر مسکراتا رہے خدا یونہی سورگ اور نرکھ ہیں کہیں موجود یا بھٹکتی ہے آتما یونہی عشق کا امتحان تھا ورنہ کوئی پانی میں ڈوبتا یونہی ************* ہُنر جو آئے سمندر پہ پاؤں دھرنے کا یہ سلسلہ نہ رہے ڈوبنے اُبھرنے کا کسی صدا کو رکاوٹ نہیں سمجھتا ہوں میں تیز گام کہیں پر نہیں ٹھہرنے کا میں آخری ہوں چراغوں کے خانوادے سے ہوائیں جشن منائیں گی میرے مرنے کا پہاڑ جیسا اندھیرا مرا مقدر تھا مجھے پتہ نہ ملا روشنی کے جھرنے کا تُم آج رات مجھے اپنا جسم پہنا دو تماشا دیکھ رہے ہو مرے ٹھٹھرنے کا ************* وہ بھی دن تھے، ہرا بھرا تھا میں چھاؤں کیا کیا بکھیرتا تھا میں بار...

Jo Dard Tu Ne Diya Har Khushi Se Barrh Kar,Teri A'ata To Meri Teshnagi Se Barrh Kar Hai (سید علی سلمان)

Image
نام: سید علی سلمان تاریخِ پیدایش:5 جولائی 1991 جائے پیدائش:صوابی، گاؤں کالو خان شہر کانام:صوابی شعری سفر:2005 سے جو درد تو نے دیا ہر خوشی سے بڑھ کر ہے تری عطا تو مری تشنگی سے بڑھ کر ہے ترے فراق کا دکھ کیا ہے اس کی شدت کیا بس ایک کرب ہے جو خود کشی سے بڑھ کر ہے وہ بات کیسے چھپائیں جو چھپ نہیں سکتی بتائیں کیسے جو شرمندگی سے بڑھ کر ہے تُو مہر و ماہ کا قائل ہے میں ترا قائل کہ تیرا نور ہر اک روشنی سے بڑھ کر ہے کمی تو کچھ بھی نہیں پھر بھی سوچتا ہوں میں تری کمی مجھے ہر اک کمی سے بڑھ کر ہے میں اس کے سامنے ہتھیار ڈال سکتا ہوں یہ دشمنی ہے تو پھر دوستی سے بڑھ کر ہے فنا کے بعد بھی ان سے ملیں گے ہم سلمان کہ ان سے پیار ہمیں زندگی سے بڑھ کر ہے ************* میں سفر میں تھا، میں سفر میں ہوں مجھے قربتوں کی خبر کہاں جسے راستوں کا پتہ نہیں اسے منزلوں کی خبر کہاں مرے بے خبر! تجھے کیا خبر، کہاں رہ گیا ترا ہمسفر تجھے اپنی ذات عزیز ہے تجھے دوستوں کی خبر کہاں تُو عروج ہے میں زوال ہوں، تُو یقین ہے میں گمان ہوں یہ ہمارا رشتہ اٹوٹ ہ...

Dharrkanon Ka Hisaab Khatam Howa,Aik Musalsal Aitaab Khatam Howa (Shahnaz Shazi) شہناز شازی

Image
نام: شہناز شازی جائے پیدائش: پاکستان، سبی، بلوچستان تاریخ پیدائش: 11 نومبر 1954 موجودہ رہائش: ممبئ  شعری سفر: نویں جماعت میں پہلا شعر کہا تب سے 1980 تک مٹھی بھر کلام جمع ہو چکا تھا لیکن غم روزگار نے اتنی فرصت نہیں دی کہ کسی استاد تک رسائی ہوپاتی اس لئے عروض و بحر سے بھی نا آشنائی رہی۔ 1980 میں شادی ہو کر ممبئی آنا ہوا تو نامانوس ماحول اور ہجرت کے کرب نے اندر کی شاعرہ کو ایک طویل خاموشی پر مجبور کر دیا اور 25 سال تک ایک شعر نہیں کہا۔ 2007 میں کسی طرح اردو مرکز ممبئی سے وابستگی ہوئی تو سوئی ہوئی شاعرہ جاگ اٹھی اور ایک طویل عرصہ بعد قلم سے دوبارہ ناطہ جڑا۔ استاد اب بھی میسر نہیں ہو پائے، تاہم 2014 میں پہلا شعری مجموعہ منظر عام پر آیا جس کی ای بک بھی بنائی گئی۔ اس وقت کراچی سے100 منتخب اشعار کے نام سے ایک کتاب عنقریب شائع ہونے والی ہے اور دوسرا مجموعہء کلام  عذاب آگہی ممبئی میں اشاعت کے مراحل میں ہے۔ دھڑکنوں کا حساب ختم ہوا ایک مسلسل عتاب ختم ہوا اسکے ترکِ تعلقات کے ساتھ اکی دیرینہ خواب ختم ہوا جس میں مہر و وفا کے مضموں تھے وہ پرانا نصاب خ...