Jis Ne Teri Aankhon Mein Shararat Nahi Daikhi Woh Lakh Kahe Usne Muhabbat Nahi Daikhi
جس نے تری آنکھوں میں شرارت نہیں دیکھی وہ لاکھ کہے اس نے محبت نہیں دیکھی اک روپ مرے خواب میں لہرا سا گیا تھا پھر دل میں کوئی چیز سلامت نہیں دیکھی آئینہ تجھے دیکھ کے گل نار ہوا تھا شاید تری آنکھوں نے وہ رنگت نہیں دیکھی یوں نقش ہوا آنکھ کی پتلی پہ وہ چہرہ پھر ہم نے کسی اور کی صورت نہیں دیکھی خیرات کیا وہ بھی جو موجود نہیں تھا تو نے تہی دستوں کی سخاوت نہیں دیکھی صد شکر گزاری ہے قیامت تن تنہا اس رات کسی نے مری حالت نہیں دیکھی کیا تجھ سے کہیں کیسے کٹی کیسے کٹے گی اچھا ہے کہ تو نے یہ مصیبت نہیں دیکھی شاید اسی باعث وہ فروزاں ہے ابھی تک سورج نے کبھی رات کی ظلمت نہیں دیکھی سب کی طرح تو نے بھی مرے عیب نکالے تو نے بھی خدایا مری نیت نہیں دیکھی تنکا ہوں مگر سیل کے رستے میں کھڑا ہوں اے بھاگنے والو مری ہمت نہیں دیکھی جو ٹھان لیا دل میں وہ کر گزرا ہوں شہزادؔ آئی ہوئی سر پر کوئی آفت نہیں دیکھی شہزادؔ احمد