Posts

Showing posts with the label Poet:Raees Amrohvi

Woh Nigah Unki Majaz Thi , Kabhi Uth Gai , Kabhi Jhuk Gai Tou RAEES Hum Se Yahi Hoa , Kabhi Jee Uthay , Kabhi Mar Gaye

Image
وہ نگاہ ان کی مجاز تھی، کبھی اٹھ گئی، کبھی جھک گئی تو رئیس ہم سے یہی ہوا، کبھی جی اٹھے، کبھی مر گئے Woh Nigah Unki Majaz Thi , Kabhi Uth Gai , Kabhi Jhuk Gai Tou RAEES Hum Se Yahi Hoa , Kabhi Jee Uthay , Kabhi Mar Gaye وہ جو راستے پہ بکھر گئے، وہی منزلوں پہ سنور گئے جنھیں زندگی نے رلا دیا، وہ تو ہنستے ہنستے ہی مر گئے وہ جو دھوپ میں بھی تھے چھاؤں سے، جو تھے سرد جھونکے ہواؤں کے جو تھے لوگ پتلے وفاؤں کے وہی لوگ جانے کدھر گئے نہ کسی کے دل میں جگہ ملی، نہ کسی سرائے پناہ ملی جو نہ کوئی ہم کو وفا ملی تو لٹے لٹائے ہی گھر گئے وہ گئے زمانے کہ عشق تھا وہ گئے زمانے کہ ہجر تھا کبھی آپ دل میں پذیرتھے، ابھی آپ دل سے اتر گئے وہ سرور و کیف بھی چھن گیا، وہ متاعِ جان بھی لٹ گئی وہ سکون دل کا چلا گیا سبھی درد دل میں ٹھہر گئے وہ نزاکتیں مجھے لے اڑیں تری عادتیں مجھے لے اڑیں کبھی ان کو دیکھا تو جی اٹھے، کبھی ان کو دیکھا تو مر گئے وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا وہ معاہدہ تھا جو پیار کا مجھے عہد سارے ہی یاد ہیں، وہ کہ آپ جن سے مکر گئے اُسی ایک پل میں گزار لی شبِ وصل بھی، شبِ ہجر بھی وہ جو ایک پل کے لیے کبھی مرے ...

Woh Nigaah Unki Majaz Thi Kabhi Uth Gai Kabhi Jhuk Gai Tou RAEES Hum Se Yahi Hoa Kabhi Jee Uthay Kabhi Mar Gaye

Image
وہ نگاہ ان کی مجاز تھی کبھی اٹھ گئی، کبھی جھک گئی تو رئیس ہم سے یہی ہوا،کبھی جی اٹھے، کبھی مر گئے وہ جو راستے پہ بکھر گئے، وہی منزلوں پہ سنور گئے جنھیں زندگی نے رلا دیا، وہ تو ہستے ہستے ہی مر گئے وہ جو دھوپ میں بھی تھے چھاؤں سے، جو تھے سرد جھونکے ہواؤں کے جو تھے لوگ پتلے وفاؤں کے، وہی لوگ جانے کدھر گئے نہ کسی کے دل میں جگہ ملی، نہ کسی سرائے پناہ ملی جو نہ کوئی ہم کو وفا ملی، تو لٹے لٹائے ہی گھر گئے وہ گئے زمانے کہ عشق تھا، وہ گئے زمانے کہ ہجر تھا کبھی آپ دل میں پذیرتھے، ابھی آپ دل سے اتر گئے وہ سرور و کیف بھی چھن گیا، وہ متاعِ جان بھی لٹ گئی وہ سکون دل کا چلا گیا، سبھی درد دل میں ٹھہر گئے وہ نزاکتیں مجھے لے اڑیں، تری عادتیں مجھے لے اڑیں کبھی اِن کو دیکھا تو جی اٹھے، کبھی اِن کو دیکھا تو مر گئے وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، وہ معاہدہ تھا جو پیار کا مجھے عہد سارےہی یاد ہیں، وہ کہ آپ جن سے مکر گئے اُسی ایک پل میں گزار لی، شبِ وصل بھی شبِ ہجر بھی وہ جو ایک پل کے لیے کبھی، مرے پاس آکے گزر گئے رئیس امرہوی

Khamosh zindagi jo basar kar rahe hain hum Gehre samundaron mein safar kar rahe hain hum

Image
خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم صدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہے صدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہم ذرے کے زخم دل پہ توجہ کیے بغیر درمان درد شمس و قمر کر رہے ہیں ہم ہر چند ناز حسن پہ غالب نہ آ سکے کچھ اور معرکے ہیں جو سر کر رہے ہیں ہم صبح ازل سے شام ابد تک ہے ایک دن یہ دن تڑپ تڑپ کے بسر کر رہے ہیں ہم کوئی پکارتا ہے ہر اک حادثے کے ساتھ تخلیق کائنات دگر کر رہے ہیں ہم لکھ لکھ کے اشک و خوں سے حکایات زندگی آرائش کتاب بشر کر رہے ہیں ہم ہم اپنی زندگی تو بسر کر چکے رئیسؔ یہ کس کی زیست ہے جو بسر کر رہے ہیں ہم رئیسؔ امروہوی Khamosh zindagi jo basar kar rahe hain hum Gehre samundaron mein safar kar rahe hain hum Sadiyon tak ehtimam e shab e hijr mein rahe Sadiyon se intizar e sehr kar rahe hain hum Zarre ke zakhm e dil pe tawajju kiye baghair Darman e dard e shams o qamar kar rahe hain hum Harchand naz e husn pe ghalib na aa sake Kuch aur ma’rke hain jo sar kar rahe hain hum Subh e azal se sham e abad tak hai aik din Ye din tadap tadap ke basar kar rahe hain hum ...

Wo suroor o kaif bhi chhin gaya wo mata e jan bhi lut gaiy Wo sukoon dil ka chala gaya, sabhi dard dil mein thehr gaye

Image
وہ سرور و کیف بھی چھن گیا، وہ متاعِ جان بِھی لُٹ گئی وہ سکون دِل کا چلا گیا سبھی درد دِل میں ٹھہر گئے Wo suroor o kaif bhi chhin gaya wo mata e jan bhi lut gaiy Wo sukoon dil ka chala gaya, sabhi dard dil mein thehr gaye   وہ گئے زمانے کہ عشق تھا وہ گئے زمانے کہ ہجر تھا کبھی آپ دل میں پذیر تھے، اِبھی آپ دل سے اتر گئے Wo gaye zamane ke ishq tha, wo gaye zamane ke hijr tha Kabhi ap dil mein pazeer thay abhi ap dil se uter gaye   رئیس امروہوی Raees Amrohvi

Khamosh zindagi jo basar kar rahey hain hum Gehrey samandaron Mein safar kar rahey hain hum

Image
ख़ामोश ज़िंदगी जो बसर कर रहे हैं हम गहरे समुंदरों में सफ़र कर रहे हैं हम रईस अमरोहवी Khamosh zindagi jo basar kar rahey hain hum Gehrey samandaron Mein safar kar rahey hain hum  Rayees Amrohavi

Kehne Lagy Keh Hum Ko Tabahi Ka Gham Nahi Main Ne Kaha Keh Waja e Tabahi Yahi Tou Hai

Image
کہنے لگے کہ ہم کو تباہی کا غم نہیں میں نے کہا کہ وجہِ تباہی یہی تو ہے Kehne Lagy Keh Hum Ko Tabahi Ka Gham Nahi Main Ne Kaha Keh Waja e Tabahi Yahi Tou Hai ہم لوگ ہیں عذابِ الٰہی سے بے خبر اے بے خبر! عذابِ الٰہی یہی تو ہے Hum Log Hein Azaab e Ilahi Se Be-Khabar Aey Be-Khabar ! Azaab e Ilahi Yahi Tou Hai رئیس امروہوی Raees Amrohvi

Woh Nigah Unki Majaz Thi Kabhi Uth Gai Kabhi Jhuk Gai

Image
وہ نگاہ انکی مجاز تھی،  کبھی اٹھ گئی،  کبھی جھک گئی تو رئیس ہم سے یہی ہوا،  کبھی جی اٹھے،  کبھی مر گئے وہ جو راستے پہ بکھر گئے، وہی منزلوں پہ سنور گئے جنہیں زندگی نے رلا دیا،  وہ تو ہنستے ہنستے ہی مر گئے وہ جو دھوپ میں بھی تھے چھاؤں سے، جو تھے سرد جھونکے ہواؤں کے جو تھے لوگ پتلے وفاؤں کے، وہی لوگ جانے کدھر گئے نہ کسی کے دل میں جگہ ملی،  نہ کسی سرائے پناہ ملی جو نہ کوئی ہم کو وفا ملی،  تو لٹے لٹائے ہی گھر گئے وہ گئے زمانے کہ عشق تھا، وہ گئے زمانے کہ ہجر تھا کبھی آپ دل میں پذیر تھے،  ابھی آپ دل سے اتر گئے وہ سرور و کیف بھی چھن گیا، وہ متاع جان بھی لٹ گئی وہ سکون دل کا چلا گیا، سبھی درد دل میں ٹھہر گئے وہ نزاکتیں مجھے لے اڑیں، تیری عادتیں مجھے لے اڑیں کبھی ان کو دیکھا تو جی اٹھے،  کبھی ان کو دیکھا تو مر گئے وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، وہ معاہدہ تھا جو پیار کا مجھے عہد سارے ہی یاد ہیں، وہ کہ آپ جن سے مکر گئے وہ جو تیرے رخ پہ حجاب تھا، وہ جو نازنیں کا نقاب تھا وہ گرا تو روح مچل گئی ، وہ گرا تو جذبے بپھر گئے اسی ایک پل میں گزار لی،  شب وصل ب...

Kehne Lagy Keh Hum Ko Tabahi Ka Gham Nahi Main Ne Kaha Keh Wajah Tabahi Yahi Tou Hai

Image
Kehne Lagy Keh Hum Ko Tabahi Ka Gham Nahi Main Ne Kaha Keh Wajah Tabahi Yahi Tou Hai Hum Log Hein Azaab e Ilahi Se Be-Khabar Ae Be=Khabar ! Azaab e IlahiYahi Tou Hai Raees Amrohvi

Pehle Ye Shukar Keh Hum Had e Adab Se Na Barhe Ab Ye Shikwa Keh Sharafat Ne Kahein Ka Na Rakha

Image
پہلے یہ شکر کہ ہم حد ادب سے نہ بڑھے اب یہ شکوہ کہ شرافت نے کہیں کا نہ رکھا رئیس امروہی Pehle Ye Shukar Keh Hum Had e Adab Se Na Barhe Ab Ye Shikwa Keh Sharafat Ne Kahein Ka Na Rakha Raees Amrohvi

Kehne Lagy Keh Hum Ko Tabahi Ka Gham Nahi Main Ne Kaha Keh Wajah e Tabahi Yahi Tou Hai

Image
Kehne Lagy Keh Hum Ko Tabahi Ka Gham Nahi Main Ne Kaha Keh Wajah e Tabahi Yahi Tou Hai Hum Log Hain Azab e Ilahi Se Be-Khabar Aey Be-Khabar ! Azab e Ilahi Yahi Tou Hai Raees Amrohvi

Subah Nuo Hum Tou Tere Saath Numayan Hongy

Image
صُبحِ نَو ، ھم تو تیرے ساتھ نمایاں ھوں گے اور ھوں گے ، جو ھلاکِ شبِ ھِجراں ھوں گے میری وَحشت میں ، ابھی اور ترقی ھو گی تیرے گیسُو تو ، ابھی اور پریشاں ھوں گے آزمائے گا ، بہرحال ھمیں جبرِ حیات ھم ابھی اور ، اسیرِ غمِ دوراں ھوں گے عاشقی اور مراحل سے ، ابھی گزرے گی امتحاں اور محبت کے ، میری جاں ھوں گے قلب پاکیزہ نہاد و دل صافی دے گا آئینہ ھم کو بنایا ھے تو ، حیراں ھوں گے صدقۂ تیرگی ، شب سے گلہ سنج نہ ھو کہ نئے چاند ، اِسی شب سے فروزاں ھوں گے آج ھے ، جبر و تشدد کی حکومت ھم پر کل ھمیں ، بیخ کُنِ قیصر و خاقاں ھوں گے وہ کہ اوھام و خرافات کے ھیں صیدِ زبُوں آخر ، اس دامِ غلامی سے گریزاں ھوں گے صرف تاریخ کی رفتار ، بدل جائے گی نئی تاریخ کے وارث ، یہی انساں ھوں گے صدمۂ زیست کے شکوے نہ کر ، اے جانِ رئیس بخدا یہ نہ ، تیرے درد کے درماں ھوں گے رَئیس امروھوی

Jahan Ma'abod Tehraya Gaya Hon,Wahein Sooli Pe Latkaya Gaya Hon

Image
رئیس امروہوی کا اصل نام سید محمد مہدی تھا اور وہ 12 ستمبر 1914ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد علامہ سید شفیق حسن ایلیا بھی ایک خوش گو شاعر اور عالم انسان تھے۔ رئیس امروہوی کی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے ہوا۔ قیام پاکستان سے قبل وہ امروہہ اور مراد آباد سے نکلنے والے کئی رسالوں سے وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور روزنامہ جنگ کراچی سے بطور قطعہ نگار اور کالم نگار وابستہ ہو گئے، اس ادارے سے ان کی یہ وابستگی تا عمر جاری رہی۔ رئیس امروہوی کے شعری مجموعوں میں الف، پس غبار، حکایت نے، لالہ صحرا، ملبوس بہار، آثار اور قطعات کے سات مجموعے شامل ہیں جبکہ نفسیات اور مابعدالطبیعات کے موضوعات پر ان کی نثری تصانیف کی تعداد ایک درجن سے زیادہ ہے۔ رئیس امروہوی کے بھائی سید محمد تقی اور جون ایلیا بھی اردو ادب کی معروف شخصیات میں شامل ہیں۔ وہ 22 ستمبر 1988ء کو ایک نامعلوم قاتل کی گولیوں کا نشانہ بن گئے اور کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے ۔ جہاں معبود ٹھہرايا گيا ہوں وہيں سولی پہ لٹکايا گيا ہوں سنا ہر بار ميرا کل...