Latest Post
Loading...

Apni Hi Sada Sunon Kahan Tak,Jungal Ki Hawa Rahon Kahan Tak


شاعرہ پروین شاکر
بک خوشبو صفحہ 223
انتخاب
عروسہ ایمان
اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک
جنگل کی ہوا رہوں کہاں تک
ہر بار ہوا نہ ہوگی در پر
ہر بار مگر اٹھوں کہاں تک
دم گھٹتا ہے گھر میں حبس وہ ہے
خوشبو کے لیے رکوں کہاں تک
پھر آکے ہوائیں کھول دیں گی
زخم اپنے رفو کروں کہاں تک
ساحل پہ سمندروں سے بچ کر
میں نام تیرا لکھوں کہاں تک
تنہائی کا ایک ایک لمحہ
ہنگاموں سے قرض لوں کہاں تک
گر لمس نہیں تو لفظ ہی بھیج
میں تجھ سے جدا رہوں کہاں تک
سکھ سے بھی تو دوستی کبھی ہو
دکھ سے ہی گلے ملوں کہاں تک
منسوب ہو ہر کرن کسی سے
اپنے ہی لیے جلوں کہاں تک
آنچل میرے بھر کے پھٹ رہے ہیں
پھول اس کے لیے چنوں کہاں تک

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer