Woh Jis Khuda Ki Qasam Kha Ke Tha Mila Mujh Se Usi Ka Wasta Dy Kar Juda Hoa Mujh Se
وہ جِس خدا کی قسم کھا کے تھا مِلا مجھ سے اُسی کا واسطہ دے کر جُدا ہوا مجھ سے Woh Jis Khuda Ki Qasam Kha Ke Tha Mila Mujh Se Usi Ka Wasta Dy Kar Juda Hoa Mujh Se جو ہاتھ پھیلے مجھے مانگنے خُدا کے حُضُور انہی کو جوڑ کے کرتا تھا التجا مُجھ سے پھر اِس کے بعد نہ موسم کوئی بھی راس آیا خفا ہوئی جو تِرے شہر کی ہوا مجھ سے گیا وہ جانِ غزل تو غزَل, غَزَل نہ رہی چُرا کے لے گیا اِظہار کی اَدا مجھ سے خیال و خواب ہوئے نِیند، چَین صبر و قرار کہ تیرے جانے سے کیا کیا نہ چِھن گیا مُجھ سے وِداع کے وقت زَباں پر سکوُت طاری تھا اَدَا ہوا نہ کوئی حَرفِ مُدعا مُجھ سے کسی کے ہاتھ کی اِک گُمشُدہ لکیر تھا وہ کبھی مِلا بھی تو عارِیَتاً مِلا مجھ سے ہمارا ساتھ بَس اِتنا ہی تھا خُدا حافظ کِس اختصار سے مَحشر بیاں کیا مجھ سے وہ حَرْف حَرْف اُترتا رہا صحیفۂ عِشق یہ کارِ شَوق ہوا مُعجزہ نَما مُجھ سے غبارِ رَنج و اَلَم چَھٹ گیا تو مجھ پہ کُھلا کوئی مِلا ہے تو کوئی بچھڑ گیا مُجھ سے یقیں رہا نہ مسیحائی پر مُجھے کاوِش بچھڑ گیا جو مِرا درد آشنا مجھ سے سلیم کاوِش Saleem Kawish