Paid Ko Dua Dy Kar Kat Gai Baharon Se Phool Itny Barh Aaye , Khidkian Nahi Khulty
پیڑ کو دعا دے کر کٹ گئی بہاروں سے پھول اتنے بڑھ آئے، کھڑکیاں نہیں کھلتیں Paid Ko Dua Dy Kar Kat Gai Baharon Se Phool Itny Barh Aaye , Khidkian Nahi Khulty پھول بن کے سیروں میں اور کون شامل تھا شــوخئ صبا سے تو بالیاں نہیں کھلتیں حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں کوئی موجۂ شیریں چوم کر جگائے گی سورجوں کے نیزوں سے سیپیاں نہیں کھلتیں ماں سے کیا کہیں گی دکھ ہجر کا کہ خود پر بھی اتنی چھوٹی عمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں شاخ شاخ سرگرداں کس کی جستجو میں ہیں کون سے سفر میں ہیں، تتلیاں نہیں کھلتیں آدھی رات کی چپ میں کس کی چاپ ابھرتی ہے چھت پہ کون آتا ہے سیڑھیاں نہیں کھلتیں پانیوں کے چڑھنے تک حال کہہ سکیں اور پھر کیا قیامتیں گزریں بستیاں نہیں کھلتیں پروین شاکر Parveen Shakir