Jheel See Aankh Ko Daryaoun Ka Dhara Kar Ke Khush Hai Woh Shakhs Yeh Nuqsan Hamara Kar Ke
جھیل سی آنکھ کو دریاؤں کا دھارا کر کے خوش ہے وہ شخص یہ نقصان ہمارا کر کے Jheel See Aankh Ko Daryaoun Ka Dhara Kar Ke Khush Hai Woh Shakhs Yeh Nuqsan Hamara Kar Ke اس کو لگتا ہے کہ آساں ہے بچھڑنا مجھ سے کیا وہ جی لے گا مرا ہجر گوارا کر کے آ کہ مل بیٹھ کے جینے کا ہنر سیکھتے ہیں زندگی یوں نہ گزر مجھ سے کنارا کر کے تم نے جاتے ہوئے تحفے میں مجھے بخشا تھا دل میں رکھا ہے وہی اشک ستارا کر کے دکھ اداسی یہ گھٹن اور یہ خالی دامن کیا ملا مجھ کو ترے ساتھ گزارا کر کے تم نے چھوڑا تو کسی سمت نہ دیکھا میں نے یونہی جیتی رہی خود کو میں تمہارا کر کے عاصمہ فراز Asima Faraz