دل ہوا ان کا طلبگار، خدا خیر کرے وہ نہیں ملنے کو تیار خدا خیر کرے Dil Hoa Unka Talabgar , Khuda Khair Kare Woh Nahi Milny Ko Tayar Khuda Khair Kare مہنگا پڑ جائے نہ ساون میں بڑھانا پینگیں باڑھ آ جائے نہ اس بار، خدا خیر کرے خود ستاروں نے سجائی ہے فلک پر محفل چاند کو کر کے گرفتار خدا خیر کرے یہ تو عاشق کو خبر ہے کہ رہِ الفت کی اگلی منزل ہے سرِ دار، خدا خیر کرے عشق کو کھیل تماشہ نہ سمجھنا لوگو یہ تو ہوتا ہے گراں بار، خدا خیر کرے عشق بِکنے لگا بازار میں نقدی کے عوض شرط ہے سِكّوں کی جھنکار، خدا خیر کرے راستے سے ہی پلٹ جائے نہ پیارا کوئی پڑ نہ جائے کہیں بیمار خدا خیر کرے گرم سورج کی شعاعیں نہ اسے چھو جائیں کچھ ہے نازک مرا دلدار خدا خیر کرے کتنی دلچسپ لکھی رب نے کہانی میری ہے مرا مرکزی کردار خدا خیر کرے کاٹ ڈالے جو محبت کا تعلق زہرہ کند ہو جائے وہ تلوار، خدا خیر کرے زہــــــرہ مــــغـــــل Zuhra Maghul