Main Usko Daikhti Rehti Hon , Man Nahi Bharta Woh Meri Aankhon Mein Apni Thakan Nahi Bharta
میں اس کو دیکھتی رہتی ہوں، من نہیں بھرتا وہ میری آنکھوں میں اپنی تھکن نہیں بھرتا Main Usko Daikhti Rehti Hon , Man Nahi Bharta Woh Meri Aankhon Mein Apni Thakan Nahi Bharta ہماری سمت نئے آنے والوں سے کہہ دو بھرے ہوؤں کو نیا خالی پن نہیں بھرتا تمہارا ہجر دِکھایا اُنہیں جو کہتے تھے بس ایک زخم سے سارا بدن نہیں بھرتا کہ اب تو اس کے تغافل کا تازہ جھونکا بھی ہمارے جسم میں تازہ گھٹن نہیں بھرتا ہزار اشک بھی بیٹی نے باپ کو بھیجے کہ ایک پھول سے اس کا کفن نہیں بھرتا بشریٰ شاہزادی Bushra Shahzadi