قصیدہ گوئی کا کوئی رواج تھا ہی نہیں کہ ابتدا میں کسی سر پہ تاج تھا ہی نہیں Qaseeda Goi Ka Koi Rawaj Tha Hi Nahi Keh Ibteda Mein Kisi Sar Peh Taj Tha Hi Nahi تمہارا شوقِ مسیحائی جان لے کے رہا تمہارے بس میں ہمارا علاج تھا ہی نہیں ہر ایک خانۂ دل کو الٹ پلٹ دیکھا جو کل تلک تھا اسی میں، وہ آج تھا ہی نہیں بٹھا دیا تھا جسے تخت پر مشیروں نے تھا اس کا راج مگر اس کا راج تھا ہی نہیں اسی لیے تو لگائے نہ لگ سکا یہ دل جہاں میں کوئی مرا ہم مزاج تھا ہی نہیں خراج دینا پڑا اس قدر کسانوں کو کہ ان کے اپنے گھروں میں اناج تھا ہی نہیں نہ ہاتھ پیلے ہوئے اُس کے اِس لیے جاوید غریب شخص کی بیٹی کا داج تھا ہی نہیں جاوید جدون Javed Jadoon