سنتے ہیں ہم پرانا مکاں اب نہیں رہا بستے تھے اپنے خواب جہاں، اب نہیں رہا Sunty Hein Hum Parana Makan Ab Nahi Raha Basty Thay Apne Khuwab Jahan , Ab Nahi Raha یوں تو بہت رہیں تھیں ہمیں ان سے رنجشیں لیکن یہ کیا کہ رازِ نہاں اب نہیں رہا آنکھوں میں جل رہی ہے بجھے خواب کی تھکن وہ حسنِ بے مثال جواں اب نہیں رہا سچ بولنے کو کوئی بھی راضی نہ تھا مگر اور جھوٹ بولنے کا گماں اب نہیں رہا پیروں تلے زمین تو پہلے ہی کھو گئی سر پر تھا آسماں کا سماں، اب نہیں رہا ہم نے بلندیوں کا سفر ترک کر دیا اک تیر ہو رہا تھا کماں، اب نہیں رہا اب ڈھونڈنے چلے ہو کسے، رت بدل چکی گلشن میں آرزو کا نشاں اب نہیں رہا کچے تھے رنگ خواب کے، کچی تھی عمرِ شوق اک دیپ جل بجھا تھا، دھواں اب نہیں رہا سب سن رہے تھے شوق سے، آواز کھو گئی شعلہ بیان کا تھا بیاں اب نہیں رہا شائستہ مفتی Shaista Mufty