Hum Tadapty Hi Rahe Aur Woh Aaya , Na Gaya Us Se Itna Sa Ta'aluq Toh Nebhaya Na Gaya
ہم تڑپتے ہی رہے اور وہ آیا، نہ گیا اس سے اتنا سا تعلق تو نبھایا نہ گیا Hum Tadapty Hi Rahe Aur Woh Aaya , Na Gaya Us Se Itna Sa Ta'aluq Toh Nebhaya Na Gaya خوفِ رسوائیء انکار نے لب سی ڈالے ہم سے افسانۂ دل ان کو سنایا نہ گیا انتہا تھی یہ محبت کی ہماری شاید بیوفا ہو کے بھی وہ ہم سے بھلایا نہ گیا ہم نے کب چاہی تھی تشہیر دلِ بسمل کی زخم ایسا تھا کسی طور چھپایا نہ گیا سب کو معلوم تھا فطرت کا تو ہر جائی ہے پھر ہمیں کیوں ترے بارے میں بتایا نہ گیا اس کی خواہش تھی مجھے دیکھے نہ کوئی شفقت آئینے کو بھی کبھی چہرہ دکھایا نہ گیا شفقت حیات شفق Shafqat Hayat Shafaq