Mery Chamak Damak Ab Jphary Ko Yaad Nahi Main Woh Guhar Hon Jo Apni LaRy Ko Yaad Nahi
مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیں مَیں وہ گُہر ہوں جو اپنی لڑی کو یاد نہیں Mery Chamak Damak Ab Jphary Ko Yaad Nahi Main Woh Guhar Hon Jo Apni LaRy Ko Yaad Nahi ذرا بھی ہاتھ بٹاتی نہیں ہے گِریہ میں مِرا ہی غم مِری افسردگی کو یاد نہیں کھڑے ہیں مدرسۂ ہست میں خجِل کب ﺳﮯ نجانے کیسا سبق تھا کسی کو یاد نہیں خُوشی تڑپتی ہے بے طرح دل کے صحرا میں کہاں سے لایا ہوں اِس جل پری کو، یاد نہیں وہ دھیمی چاپ، وہ دستک، وہ دُھول، وہ آنسو مکاں کو یاد ہے سب کُچھ گلی کو یاد نہیں کھنڈر کھنڈر پہ بھٹکتی ہے لڑکھڑاتی ہوئی ہمارے گھر کا پتہ روشنی کو یاد نہیں گُھماتی رہتی ہیں بس یوں ہی سُوئیاں شارِقؔ اب اصل وقت کسی بھی گھڑی کو یاد نہیں سعید شارقؔ Saeed Shariq