تنہائی نے دیکھا مجھے اس طرح پلٹ کر مَیں ٹُوٹ گِرا خُود پہ کئی ٹُکڑوں میں بٹ کر Tanhaai Ne Daikha Mujhe Is Tarah Palat Kar Main Toot Gira Khud Peh Kai Tukdon Mein Bat Kar سینے میں کھنکتا ہے مُسلسل کوئی سکّہ دیکھوں گا کسی روز یہ کشکول اُلٹ کر جس وقت سے مَیں ہجر کے تالاب میں اُترا خُوں چوستی رہتی ہے کوئی جونک چمٹ کر کیا کیا نظر آتا تھا مجھے دُھول میں تیری دُھندلا دیا آنکھوں کو تری گرد نے چھٹ کر اس کوہِ زماں پر ہوں جہاں ربط ہے دُشوار آتی ہے تری یاد کی آواز بھی کٹ کر مَیں ایسا قد آور نہیں اُس پر مِرا سایہ ہنستا ہے مجھی پر کبھی بڑھ کر، کبھی گھٹ کر دُنیا کہاں جاتی ہے، تری ایسی کی تیسی ملِتا ہوں مَیں تجھ سے بھی ذرا خُود سے نمٹ کر سعید شارق Saeed Shariq