عہد پُختہ کیا رندوں نے یہ پیمانے سے خاک ہو جائیں گے، نکلیں گے نہ میخانے سے Ahd e Pukhta Kia Rindon Ne Yeh Paimany Se Khaak Ho Jaeingy , Niklein Gy Na Maikhany Se میرے ساقی ہو عطا مجھ کو بھی پیمانے سے فیض پاتا ہے زمانہ ترے میخانے سے یک بہ یک اور بھڑک اُٹھتا ہے سمجھانے سے کوئی کیا بات کرے آپ کے دیوانے سے رند مِل مِل کے گلے روئے تھے پیمانے سے جب مری لاش اٹھائی گئی میخانے سے ہم تو کیا پیتے پلاتے سرِ میخانہ مگر دل لگی ہوتی رہی پُھول سے، پیمانے سے مجھ سے پوچھے کوئی ،کیا مجھ پہ جُنوں میں گزری قیس و فرہاد کے قصے تو ہیں افسانے سے واعظِ شہر کی توبہ نہ کہیں ٹوٹی ہو آج ہُو حق کی صدا آتی ہے میخانے سے كون يہ آگ لگا ديتا ہے معلوم نہيں روز اٹھتا ہے دھواں سا مرے كاشانے سے ترکِ ثابت قدمى ایک قيامت ہو گى اور گِھر جاؤ گے آلام ميں گھبرانے سے پا ليا آپ كو اقرارِ محبت نہ كريں بن گئی بات مرى آپ كے شرمانے سے رِند کے ظرف پہ ساقی کی نظر رہتی ہے اِسے چُلّو سے پِلا دی، اُسے پیمانے سے شیخ کے ساتھ یہ رِندوں پہ قیامت ٹوٹی پینے والے بھی نکالے گئے میخانے سے اس سے بہتر نہ ملے فرشِ سكينت شايد ہم پُكاريں گے اُنہيں بيٹھ كے...