Latest Post
Loading...

Barq-e-Jamal-e-Yaar Ne Rakht Sukon Jala Diya


بیدم شاہ وارثی

مصحفِ بیدم

برق جمال یار نے رخت سکوں جلا دیا

برق جمال یار نے رخت سکوں جلا دیا
خانہ دل گداز نے عرش بریں ہلا دیا

خوب ہی دیں تسلیاں سینے پہ میرے رکھ کہ ہاتھ
صبرو قرار چھین کر درد جگر بڑھا دیا

سینے میں ڈھونڈتی ہے کیاتیری نگاہ فتنہ ساز
دل توتمہاری یاد میں مدت ہویئ لٹا دیا

دق تو کیا کلیم نے برق جمال یار کو
طور کا کیا قصور تھا طور کو کیوں جلا دیا

بیدم فقیر چیز کیا چھوڑا نہ کوہ طور کو
بن کہ جمال شمع رو جس پر گری جلا دیا.


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer