Latest Post
Loading...

Khoobsorati Ki Had Hai Na Hisaab Hai,Tu Gulaab Tu Gulaab,Tu Gulaab Hai


خوبصورتی کی حد ہے نہ حساب ہے
تُو گلاب ، تُو گلاب ، تُو گلاب ہے

چار سو کروڑ تتلیوں میں تُو مرا،
اِنتخاب ، اِنتخاب ، اِنتخاب ہے

چودہویں کا چاند ، نصفِ دِن کا آفتاب،
چندے آفتاب ، چندے ماہتاب ہے

خوشبو ، خوش بدن کی جگنو مست کر گئی
کہہ رہے ہیں یہ گلاب ، لاجواب ہے

ایک پل کو دیکھ لے ہمیں بھی پیار سے
یہ ثواب دَر ثواب دَر ثواب ہے

خواب میں بھی اُن کے آگے ایک نہ چلی
بولے جاگ جاؤ یہ ہمارا خواب ہے

دُھوپ میں جو مینہ برس پڑے تو جانئے
اَبر زُلفِ یار دیکھ آب آب ہے

عشق نے جہاں پہ لکھ دِیا تمام شد
حُسن کی کتاب کا وُہ پہلا باب ہے

حُسن کی نگاہ میں حیا کے سرخ پھول
آج کل کے دور میں یہ اِنقلاب ہے

قیس اُن نگاہوں میں چمک سی پیار کی
اِک نئی کتاب کا یہ اِنتساب ہے


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer