Latest Post
Loading...

Muhabbat Kis Qadar Yaas Afreen Maloom Hoti Hai


محبت کس قدر یاس آفریں معلوم ہوتی ہے
ترے ہونٹوں کی ھر جنبش نہیں معلوم ہوتی ہے

یہ کس کے آستاں پر مجھ کو ذوق سجدہ لے آیا
کہ آج اپنی جبیں اپنی جبیں معلوم ہوتی ہے

محبت تیرے جلوے کتنے رنگا رنگ جلوے ہیں
کہیں محسوس ہوتی ہے کہیں معلوم ہوتی ہے

جوانی مٹ گئی لیکن خلش درد محبت کی
جہاں معلوم ہوتی تھی وہیں معلوم ہوتی ہے

امید وصل نے دھوکے دیے ہیں اس قدر حسرت
کہ اس کافر کی ہاں بھی اب نہیں معلوم ہوتی ہے

چراغ حسن
حسرت


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer