Latest Post
Loading...

Ajab Khouf Musalat Tha Haveli Par


عجب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
ہوا چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر

سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
کہ سانپ زہر چھڑکتا رہا چنبیلی پر

شبِ فراق میری آنکھ کو تھکن سے بچا
کہ نیند وار نہ کر دے تیری سہیلی پر

وہ بے وفا تھا تو پھر اتنا مہربان کیوں تھا
بچھڑ کے اس سے میں سوچوں اس پہیلی پر

جلا نہ گھر کا اندھیرا چراغ سے محسن
ستم نا کر یوں میری جان ! اپنے بیلی پر

محسن نقوی

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer