Latest Post
Loading...

Muntakhab Kalaam Poet:Mohsin Bhopali



منتخب کلام محسن بھوپالی
 
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

یُونہی تو شاخ سے پتے گِرا نہیں کرتے
بچھڑ کے لوگ زیادہ جیا نہیں کرتے

جو آنے والے ہیں موسم، اُنہیں شمار میں رکھ
جو دن گزر گئے، اُن کو گنا نہیں کرتے

نہ دیکھا جان کے اُس نے ، کوئی سبَب ہوگا
اِسی خیال سے ہم دل بُرا نہیں کرتے

وہ مل گیا ہے تو کیا قصۂ فِراق کہیں
خُوشی کے لمحوں کو یُوں بے مزا نہیں کرتے

نِشاطِ قُرب، غم ہجر کے عوض مت مانگ
دُعا کے نام پہ یُوں بددُعا نہیں کرتے

مُنافقت پہ جنہیں اِختیار حاصل ہے
وہ عرض کرتے ہیں ، تجھ سے گِلہ نہیں کرتے

ہمارے قتل پہ محسن یہ پیش و پس کیسی
ہم ایسے لوگ طلب خُون بہا نہیں کرتے
 
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

بدن تو جل گئے، سائے بچا لئے ہم نے
جہاں بھی دُھوپ ملی، گھر بنا لئے ہم نے

اُس امتحان میں سنگِین کِس طرح اُٹھتی
دُعا کے واسطے جب ہاتھ اُٹھا لئے ہم نے

کٹھن تھی شرطِ رہِ مسُتقیم، کیا کرتے
ہر ایک موڑ پہ کتبے سجا لئے ہم نے

ہمارے بس میں کہاں تھا کہ ہم لُہو دیتے
یہی بہت ہے کہ آنسُو بہا لئے ہم نے

سمندروں کی مسافت پہ جن کو جانا تھا
وہ بادباں سرِ ساحل جلا لئے ہم نے

بڑے تپاک سے کچھ لوگ ملِنے آئے تھے
بڑے خلُوص سے دُشمن بنا لئے ہم نے
 
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ
گزار دیں گے اِسی خوشگوار یاد کے ساتھ

یہ ذوق و شوق فقط لُطفِ داستاں تک ہے
سفر پہ کوئی نہ جائے گا سِندباد کے ساتھ

زمانہ جتنا بکھیرے، سنوَرتا جاؤں گا
ازل سے میرا تعلق ہے خاک و باد کے ساتھ

اُسے یہ ناز، بالآخر فریب کھا ہی گیا
مجھے یہ زعم کہ ڈُوبا ہوں اعتماد کے ساتھ

بڑھا گیا مرے اشعار کی دلآویزی
تھا لُطفِ ناز بھی شامل کِسی کی داد کے ساتھ

گزر رہی ہے کچھ اِس طرح زندگی محسن
سفر میں جیسے رہے کوئی گردباد کے ساتھ
 
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

روشنی ختم ہوئی، اہلِ نظر باقی ہیں
جنھیں دستار میّسر ہے، وہ سَر باقی ہیں

کاٹ لیتے ہیں کبھی شاخ ، کبھی گردنِ دوست
اب بھی چند ایک روایاتِ سفر باقی ہے

اپنے ہمسایوں کا غم بھی ہے اور اپنا غم بھی ہے
اِس تگ و دو میں غنیمت ہے کہ گھر باقی ہیں

سخت جانی کی بھلا اِس سے بڑی کیا ہو مثال
بےشجر شاخ ہے اور برگ و ثمر باقی ہیں

ہو مبارک تمہیں تخلیق پہ تمغے کی سند
میرے حصے کے ابھی زخمِ ہُنر باقی ہیں
 
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گا
خُود سے خُود کو مِنہا کر کے دیکھوں گا

وہ شعلہ ہے یا چشمہ، کُچھ بھید کُھلے
پتھر دل میں رستہ کر کے دیکھوں گا

کب بچھڑا تھا، کون گھڑی تھی، یاد نہیں
لمحہ لمحہ یکجا کر کے دیکھوں گا

وعدہ کر کے لوگ بُھلا کیوں دیتے ہیں
اب کے میں بھی ایسا کر کے دیکھوں گا

کتنا سچا ہے وہ میری چاہت میں
محسن خُود کو رسوا کر کے دیکھوں گا

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
وہ شخص لہجہ بڑا دل نشین رکھتا تھا

ہے تار تار مرے اعتماد کا دامن
کِسے بتاؤں کہ میں بھی اِمین رکھتا تھا

اُتر گیا ہے رگوں میں مری لہُو بن کر
وہ زہر ذائقہ انگبین رکھتا تھا

گُزرنے والے نہ یُوں سرسری گُزر دل سے
مکاں شِکستہ سہی، پر مکین رکھتا تھا

وہ عقلِ کُل تھا بھلا کِس کی مانتا محسن
خیالِ خام پہ پُختہ یقین رکھتا تھ

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer