Latest Post
Loading...

Waqt Ki Ro Ko Haqeeqat Na Samajh Lejiye Ga


وقت کی رَو کو حقیقت نہ سمجھ لیجئے گا
اِس سیاست کو سیاست نہ سمجھ لیجئے گا

یہ تعلق ہے ابھی وجہِ تعلق تو کُھلے
ملِنے جُلنے کو محبت نہ سمجھ لیجئے گا

یہ بھی ممکن ہے سنبھلتا نہ ہو دستار کا بوجھ
سر جُھکانے کو عقِیدت نہ سمجھ لیجئے گا

جاگتی آنکھوں اگر خواب نظر آتے ہوں
اُن کی تعبیر کو وحشت نہ سمجھ لیجئے گا

ایک ہی کھیل تو ہے جس میں نہیں جاں کا زیاں
دل کی بازی کو سیاست نہ سمجھ لیجئے گا

عرض کر سکتا ہوں مَیں بھیک نہیں مانوں گا
میری خواہش کو ضرُورت نہ سمجھ لیجئے گا

یہ تو پیرایۂ اِظہارِ سُخن ہے محسن
میری عادت کو ارادت نہ سمجھ لیجئے گا
محسن بھوپالی


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer