Aankh Ke Zandan Mein Rakha Gaya Hijar Ko Imkan Mein Rakha Gaya
آنکھ کے زندان میں رکھا گیا
ہجر کو امکان میں رکھا گیا
Aankh Ke Zandan Mein Rakha Gaya
Hijar Ko Imkan Mein Rakha Gaya
دل کے اندر کیا جگہ خالی نہیں
درد کو دالان میں رکھا گیا
ہائے دوہری ہو گئی میری کمر
ایسا کیا سامان میں رکھا گیا
زندگی کر لی گئی اغوا مری
اور مجھے تاوان میں رکھا گیا
پوچھتی پھرتی ہوں سارے شہر سے
کیوں دیا طوفان میں رکھا گیا
فلسفہ کیا ہے کہ کل زہرا بتول
زخم روشندان میں رکھا گیا
زہرا بتول زہرا
Zahra Batool Zahra

Comments
Post a Comment