Ab Main Bhi Ujad Jaoungi , Aasaar Buhat Hein Dushman Jo Yahan Kam Hein Tou Us Paar Buhat Hein
اب میں بھی اجڑ جاؤں گی، آثار بہت ہیں
دشمن جو یہاں کم ہیں تو اس پار بہت ہیں
Ab Main Bhi Ujad Jaoungi , Aasaar Buhat Hein
Dushman Jo Yahan Kam Hein Tou Us Paar Buhat Hein
سجتی ہے یہاں ان کے لیے رقص کی محفل
جو لوگ یہاں صاحب کردار بہت ہیں
مجرم یہاں بچ جاتا ہے ہر بار ہی دیکھو
کیسے نہ بچے اس کے طرفدار بہت ہیں
ٹھوکر سے نہیں ڈرتے ہیں ٹھکرائے ہوئے لوگ
کھانے کو یہاں ٹھوکریں تیار بہت ہیں
اس شہر کی مستی کا الگ رنگ ہے اپنا
غمخوار ہیں جتنے بھی، وہ مے خوار بہت ہیں
آسان ہے اپنانا جفاؤں کو سحر اب
رشتے جو وفا کے ہیں، وہ دشوار بہت ہیں
افشاں سحر
Afshan Sahar

Comments
Post a Comment